سوال
میں بیوہ محمد یعقوب آپ سے پراپرٹی کے بارے میں معلوم کرنا چاہتی ہوں۔میری شادی کو 27 سال ہوگئے ہیں،پچھلے دو سال پہلے میرے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔میری شادی سے پہلے میرے شوہر کو انکی والدہ نے اپنی زندگی میں اپنا مکان ان کے نام کردیا تھا’ گفٹ دے دیا تھا۔جس کےپیپر موجود ہیں۔ماں کے انتقال کے وقت میرے شوہر دو بھائی دو بہنیں بڑی تھی،شادی شدہ تھی۔باقی 4بھائی اور 2 بہنیں چھوٹی تھی۔ میرے شوہر نے ان سب کو اپنے ساتھ رکھا اور پڑھایاانکی ہر لحاظ سے ہر موقع پر ذمہ داری نبھائی ،بہنوں کی شادی بھی کی۔مختصرا یہ کہ انہوں نے کبھی اپنے بارے میں نہیں سوچا اور نہ ہی کچھ جمع کیا۔مزدوری کرتے تھے۔میرے شوہر کے بھائی بہن بڑے اور چھوٹے سب مل کر میرے شہر کو ستانے لگے کہ ہمیں ہمارے مکان میں حصہ دو۔میرے شوہر کو طرح طرح سے ستایا گیا،مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔13 اگست 2020 کی رات زبردستی پیپر پر سائن کروانے آئے تھے جو میرے شوہر برداشت نہیں کرسکے اور ان کو ہارٹ اٹیک آگیا۔انتقال کے وقت کسی بھائی یا بہن نے کوئی سپورٹ نہیں کیا۔لوگوں ،رشتہ داروں نے کفن وغیرہ کا انتظام کیا۔سوئم والے دن ہم کو کہنے لگے گھر سے نکل جاؤ۔ہم گھر کے مالک ہیں۔عدت بھی نہیں کرنے دے رہے تھے۔طرح طرح کے ظلم کئے۔بجلی بند،پولیس والے کونسل کے لوگ میرے گھر بھیجنے لگے۔جب کوئی بھی حربہ کام نہیں آیا تو انہوں نے کورٹ میں کیس کردیا۔اب کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں آیا ہے کیونکہ سارے پیپر موجود ہیں۔
شرعی طور پر مشورہ چاہتی ہوں۔اللہ کے سوا کوئی آسرا نہیں ہے۔میرے اپنے پانچ بچے ہیں،4لڑکیاں اور 1 بیٹا ہے سب سے چھوٹا۔برائے مہربانی ہماری اصلاح کریں۔
نوٹ:سائلہ سے رابطے پر معلوم ہوا کہ پوچھی گئی صورت میں والدہ کو مکان کسی نے تحفے میں دیا تھا۔نیز والدہ کا اپنے بیٹے (یعنی سائلہ کے مرحوم شوہر) کے نام مکان کردینا اس طور پر تھا کہ شرعی قبضہ نہیں دیا بلکہ دیگر اولاد بھی اسی مکان میں رہائش پذیر رہی۔
سائلہ:گلشن (مرحوم کی بیوہ)،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اوّلا: شریعت میں ہبہ(گفٹ) اس وقت تک مکمل تصور نہیں کیا جاتا یعنی موہوب لہ (جسے تحفہ دیا گیا) کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی جب تک موہوب لہ کا اس پر قبضہ نہ ہوجائے۔پھر قبضہ حقیقی بھی ہوتا ہے جس کا مفہوم واضح ہے اسی طرح قبضہ حکمی بھی ہوتا ہے جس کا معنی ہے تخلیہ یعنی شے موہوب(جوچیز گفٹ دی گئی) کو اپنے حقوق سے اس طور پر خالی کردینا کہ موہوب لہ اس پر چاہے تو قبضہ اور تصرف کرسکے۔لہذا اس مکان میں آپ کے مرحوم شوہر کی ملکیت ثابت نہ ہوئی البتہ والدہ کے ترکے میں دیگر وارثوں کی طرح آپ کے شوہر کو بھی حصہ ملے گا۔رہا آپ کے شوہر کا اپنی بہنوں کے اخراجات اٹھانا تو یہ ایک نیکی ہے جس پر اللہ عزوجل انہیں اچھا بدل عطا فرمائے گا۔
ثانیاًاس مکان کی تقسیم از قبیل وراثت ہوگی چنانچہ اگر ورثاء وہی ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے تو والدہ کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اوراگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنےکے بعد جو ترکہ بچ جائے اس کے کل 18 حصے کئے جائیں گےجس میں سے ہر ایک بیٹے کے 2 حصے اور ہر بیٹی کا 1 حصہ۔
وارثوں کا ظلم کرنا:
سوال میں جو شوہر کے بھائی بہنوں کا آپ کے ساتھ ظالمانہ رویہ ذکر کیا گیا یہ ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔قرآن و حدیث میں ان افعال سے متعلق انتہائی سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں،جن میں ظالمین کے برے انجام،مظلوم کی بد دعا سے ڈرنے کاحکم ،ظالمین کا اپنی حیاتی میں ہی مظلوم سے معافی مانگنے اور مظلومین کیلئے اللہ رب العزت کی جناب سے ڈھارس ثابت ہیں۔لہذا ظالمین کو عبرت حاصل کرنی چاہئے اور اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں اپنے ظلم سے سچی توبہ کر کے مظلوموں سے معافی کی کوئی صورت بنانی چاہئے۔ معافی کی صورت یوں بنائی جاسکتی ہے کہ اگر مرحومہ نے سائلہ کے شوہر کی طرح دیگر وارثین کو بھی اپنی حیاتی میں جائیداد وغیرہ تقسیم کردی تھی تو اخلاقاً اس مکان پر سے اپنا حصہ معاف کرکے اپنے ظلم کی معافی طلب کریں۔اللہ عزوجل توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ:
18
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
7بیٹے 4بیٹیاں
عصــــــــــــــــــــــــبہ
14 4
فی کس 2 فی کس 1
دلائل و جزئیات:
السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
تقسیم وراثت میں اصول کے متعلق السراجی میں ہے:فیبدا باصحاب الفرائض،ثم بالعصبات من جھۃ النسب۔ترجمہ:وراثت میں ابتدا اصحابِ فرائض سے کی جاتی ہے،اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ نسبی۔(السراجی فی المیراث،ص16، مکتبۃ البشرٰی)
تحفہ مکمل قبضہ سےہی ملکیت کو ثابت کرتا ہے،چنانچہ الدرمختار میں ہے :"(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ".ترجمہ:ہبہ کامل قبضے سے تام ہوجاتا ہے۔(الدرالمختار و حاشیہ ابن عابدین،8/573،مکتبہ رحمانیہ )
اورمبسوط للسرخسی میں حدیث پاک مذکورہے : "«لَا تَجُوزُ الْهِبَةُ إلَّا مَقْبُوضَةً» مَعْنَاهُ: لَا يَثْبُتُ الْحُكْمُ، وَهُوَ الْمِلْكُ".ترجمہ: ہبہ قبضہ کے بغیرجائزنہیں ہے،(علامہ سرخسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں) اس کامعنی یہ ہے کہ اس (ہبہ)کاحکم ثابت نہیں ہوگااوروہ ملک ہے (یعنی قبضہ کے بغیرموہوب لہ کے لئے ملک ثابت نہیں ہوگی بلکہ وہ ہبہ کرنے والے کی ملک پر باقی ہے)۔(المبسوط للسرخسی ،12/56،رشیدیہ کوئٹہ)
البحر الرائق میں ہے: "وَالتَّمَكُّنُ مِنْ الْقَبْضِ كَالْقَبْضِ وَلِهَذَا قَالَ فِي الِاخْتِيَارِ وَلَوْ وُهِبَ مِنْ رَجُلٍ ثَوْبًا فَقَالَ قَبَضْته صَارَ قَابِضًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَجُعِلَ تَمَكُّنُهُ مِنْ الْقَبْضِ كَالْقَبْضِ كَالتَّخْلِيَةِ فِي الْبَيْعِ".ترجمہ:اور قبضے کی قدرت بھی قبضے ہی کی طرح ہے اسی لیے ’’اختیار ‘‘میں فرمایا کہ اگر کسی کو کپڑا ہبہ کیا اور اس نے کہا میں نے اس پر قبضہ کیا یہ امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک قبضہ تصور ہوگا ،اور انہوں نے قبضے پر قدرت کواسی طرح قبضہ مانا ہے جس طرح بیع میں تخلیہ۔
اسی کے تحت منحۃ الخالق میں ہے: "قَالَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ الْهِبَةَ لَا تَتِمُّ إلَّا بِالْقَبْضِ وَالْقَبْضُ نَوْعَانِ حَقِيقِيٌّ وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ وَحُكْمِيٌّ وَذَلِكَ بِالتَّخْلِيَةِ".ترجمہ:فتاویٰ تتارخانیہ میں ہے:ہم ذکر چکے ہیں کہ بے شک ہبہ قبضہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ، اور قبضہ کی دو قسمیں ہیں:(1) حقیقی : وہ تو ظاہر ہے اور (2) حکمی: تو وہ تخلیہ سے ہوتا ہے ۔( البحر الرائق ،7/486،دار الکتاب کوئٹہ)
ظالمین کے انجام کے متعلق اللہ جلّ جلالہ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۔ترجمہ:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا ۔(الانعام:129)
اس آیت کے تحت تفسیر القرطبی میں ہے: "وَهَذَا تَهْدِيدٌ لِلظَّالِمِ إِنْ لَمْ يَمْتَنِعْ مِنْ ظُلْمِهِ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ ظَالِمًا آخَرَ. وَيَدْخُلُ فِي الْآيَةِ جَمِيعُ مَنْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ أَوْ يَظْلِمُ الرَّعِيَّةَ، أَوِ التَّاجِرُ يَظْلِمُ النَّاسَ فِي تِجَارَتِهِ أَوِ السَّارِقُ وَغَيْرُهُمْ".ترجمہ: یہ ظالموں کے لیے تہدید اور دھمکی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے بازنہ آئے تو اللہ تعالیٰ ان پر دوسرے ظالموں کو مسلط کر دے گا۔ اور اس آیت میں وہ تمام داخل ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں یا رعیت پر ظلم کرتے ہیں یا ایسا تاجر جو اپنی تجارت میں لوگوں پر ظلم کرتا ہے یا چور وغیرہ۔
احادیث مبارکہ میں مظلوم کی بد دعا سے ڈرنے کاحکم آیا ہے،چنانچہ صحیح البخاری میں روایت ہے:"عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى اليَمَنِ، فَقَالَ: «اتَّقِ دَعْوَةَ المَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ»".ترجمہ:ابومعبد(ابن عباس کے غلام) ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺنے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ :مظلوم کی بد دعا سے ڈرو اس لیے کہ اس کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ (صحیح البخاری،باب الاتقاء والحذر من دعوۃ المظلوم،3/129،رقم:2448،دار طوق النجاۃ)
اسی طرح سنن الترمذی کی روایت ہے:"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَکَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَی وَلَدِهِ".ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین دعائیں قبول ہونے میں کوئی شک نہیں ایک مظلوم کی بد دعا، دوسری مسافر کی دعا اور تیسری والد کی بیٹے کے لیے بد دعا۔(سنن الترمذی،باب ما جاء فی دعوۃ الوالدین،4/314،رقم:1905،مصطفی البابی)
ظالمین کو حکم ہے کہ اپنی حیاتی میں ہی مظلوم سے معافی مانگیں،چنانچہ صحیح البخاری میں روایت ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ»۔ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کی عزت یا کسی اور چیز پر ظلم کیا ہو تو اسے آج ہی معاف کرا لے اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جب کہ نہ دینار ہوں گے اور نہ درہم اگر اس کے پاس عمل صالح ہوگا، تو بقدر اس کے ظلم کے اس سے لے لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوگی، تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس کے سر پر ڈالی جائیں گی۔(صحیح البخاری،باب من کانت لہ مظلمۃ...الخ،3/129،رقم:2449،دار طوق النجاۃ)
مظلومین کیلئے اللہ رب العزت کی جناب سے ڈھارس ہے،چنانچہ سنن الترمذی میں ہے: "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالإِمَامُ العَادِلُ، وَدَعْوَةُ المَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الغَمَامِ وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ".ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ روزہ دار کی افطار کے وقت، عادل حاکم کی اور مظلوم کی دعا۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کی بد دعا کو بادلوں سے بھی اوپر اٹھاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری عزت کی قسم ! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا اگرچہ تھوڑے عرصہ کے بعد کروں۔ (سنن الترمذی،5/578،رقم:3598،مصطفی البابی)
اسی طرح الترغیب والترہیب میں حدیث قدسی ہے:"قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ الله تبَارك وَتَعَالَى وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لأنتقمن من الظَّالِم فِي عاجله وآجله".ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! میں ضرور ظالم سے انتقام لوں گا، چاہے جلدی لوں یادیر سے۔( الترغیب والترہیب،کتاب القضاء وغیرہ...الخ،3/132،رقم:3381،دار الکتب العلمیۃ) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 1 شعبان المعظم1444 ھ/22جنوری 2023ء