نشے کی حالت میں فوت شدہ شخص شہید نہیں
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 475

    سوال

    کوئی مسلمان حادثے کی حالت میں فوت ہو تو اس کو شہید کہہ سکتے ہیں یا نہیں ، اگر کہہ سکتے تو وہ نشے کی حالت میں حادثے میں فوت ہوا ہے تو اس کو بھی شہید کہہ سکتے ہیں ؟برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: ابو اسید غلام نبی عطاری سندھی ، گاڑہو ٹھٹہ سندھ پاکستان۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    حادثاتی شہید جسے شہید حکمی کہتے ہیں، اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، جن میں ڈوب کر مرنا ،ذات الجنب بیماری میں وفات پانا کہ جس میں پسلیوں پر پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں اور بخار و کھانسی کا سامنا ہوتا ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا جیسے استسقا یا دست،دورانِ مسافرت میں مرنا ، سل کی بیماری میں مبتلا ہو کر وفات پانا کہ جس سے پھیپھڑوں میں زخم ہوجاتے ہیں اور منہ سے خون آنے لگتا ہے، سواری سے گر کر یا مرگی کی حالت میں مرنا، بخار کی شدت سے مرنا، یا کسی مالی، جانی یا گھریلو ذمہ داری کی ادائیگی میں مرنا وغیر ذلک کئی صورتیں شہید حکمی کی بنتی ہیں۔

    ایسے فوت شدہ کو شہید اس طور پر قرار دیا جاتا ہے کہ اسے غسل بھی دیا جاتا ہے،اس کی تکفین بھی ہوتی اور نماز جنازہ بھی ادا کی جاتی ہے، ہاں آخرت میں ان کو شہید کا ثواب عطا کیا جائےگا۔کیونکہ ان کے متعلق احادیث میں شہادت کی بشارت وارد ہوئی ہو۔متفرق احادیث میں ایسے شہداء کی متعدد اقسام مذکور ہیں۔

    لہذا اگر کوئی ایسے کسی حادثے میں انتقال کرتا ہے تو اسے بھی شہید کہہ سکتے ہیں لیکن اگر وہ اس حادثے میں از خود نشہ کرنے کی وجہ سے فوت ہوا تو شہید نہیں قرار پائے گا کہ ان حوادثات میں گناہ کا دخل نہ ہونا لازم ہے۔

    مشکاۃ المصابیح میں روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"«الشَّهَادَةُ سَبْعٌ، سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ " وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ»".ترجمہ:اللہ کے راستے میں قتل ہونے کے علاوہ سات شہادتیں ہیں : (۱)جو طاعون سے وفات پائے (۲)جو ڈوب کر وفات پائے (۳)ذات الجنب (وہ بیماری جس میں پسلیوں پر پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں ، پسلیوں میں دَرد اور بخار ہوتا ہے ، اکثر کھانسی بھی اٹھتی ہے)میں وفات پائے (۴)جو پیٹ کی بیماری کی وجہ سے وفات پائے (۵)جو جل کر وفات پائے (۶)جو کسی چیز کے نیچے دب کر فوت ہوجائے (۷)جو عورت جُمْع کی حالت میں فوت ہو(یعنی حالتِ حمل میں فوت ہوجائےیا ولادت کی حالت میں مرے یا ولادت کے بعد چالیس دن کے اندر فوت ہو)۔

    اسی کے تحت علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں:"«وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ»: إِذَا كَانَ سَفَرُهُ طَاعَةً".ترجمہ: ڈوب کر مرنے والا شہیدہے، بشرطیکہ اس کا سفر نیکی کے ساتھ ہو۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، 3/1140، الرقم: 1561، دار الفکر بیروت) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 5 رمضان المبارک1446 ھ/6 مارچ 2024ء