سوال
(۱) کسی مال کی خرید و فروخت میں بروکر کو کمیشن سیلر کی طرف سے ملنا ہو اور خریدار/مالک بروکر سے کہے کہ اپنے کمیشن میں سے مجھے بھی آدھا یا چوتھائی حصہ دینا تو میں آپ کے ذریعے مال لوں گا ورنہ نہیں۔ کیا بروکر اور خریدار کو ایسا کرنا درست ہے؟
(۲) خریدار کو کسی اور جگہ سے سستی چیز مل رہی ہے لیکن بروکر کے پاس وہی چیزمہنگی ہے تو بروکر خریدار کو ہاتھ میں رکھنے کے لئے اپنے کمیشن میں سے کچھ یا سارا خریدار کو دے دے ۔ اس میں کوئی حرج ہے؟
سائل: عبد اللہ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
خرید وفروخت میں عاقدین (بائع و مشتری)کا ایسی شرط لگانا جس کا عقد تقاضا نہ کرے یا عقد کے مناسب نہ ہو یا شرط میں عاقدین میں سے کسی کا یا معقود علیہ کا فائدہ ہو یا اس شرط پر عرف جاری نہ ہو یا اس کے جواز پر شرع وارد نہ ہو تو ایسی شرط لگانا فاسد ہے۔جبکہ پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شرط سے اگرچہ خریدار کا فائدہ ہے لیکن یہ شرط عاقدین کے بجائے خریدار اور بروکر میں طے ہورہی ہے اور بروکر عاقد نہیں لہذا ؛
(۱) اگر بروکر اپنے کمیشن سے خریدار کو آدھا یا چوتھائی حصہ دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۲) اسی طرح مہنگی چیز میں بروکر کا اپنا کچھ یا سارا کمیشن خریدار کو دینا بھی جائز ہے بشرطیکہ بروکر اس پر راضی ہو۔
نیز خریدار کے پاس یہ مال اپنے احسان کے بدلے آیا ہے کہ خریدار پر متعین بروکر کے ذریعے مال خریدنا واجب نہ تھا، اس بروکر کے ذریعے مال خریدنے میں اس کی بروکری متحقق ہوئی لہذا اس احسان کے بدلے بروکر اپنی جانب سے کچھ حصہ اسے بھی دیتا ہے تو بدلہ احسان (نیکی) شمار ہوگا، البتہ اگر بروکر کچھ حصہ نہیں دیتا تو قضاءً خریدار کو اس بدلے کے مطالبہ کا حق نہیں! کہ بدلہ احسان کا قضاءً کوئی حق نہیں ہوتا۔
دلائل و جزئیات:
قال الله تعالى: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ.ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرة: 188)
آیت ِمذکور کے تحت علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں: "والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه ".ترجمہ:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو۔ (الجامع لاحکام القرآن،2/338،تحت سورۃ البقرۃ:188،دار الکتب المصریۃ)
مشکاۃ المصابیح کی روایت ہے: " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ".ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی خوش دلی کے لینا حلال نہیں ہے۔ (مشکاۃ المصابیح، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الثانی، 2/889، رقم:2946، المکتب الاسلامی بیروت)
علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وَفِي الْأَشْبَاهِ لَا جَبْرَ عَلَى الصِّلَاتِ إلَّا فِي أَرْبَعٍ: شُفْعَةٌ وَنَفَقَةُ زَوْجَةٍ وَعَيْنٌ مُوصًى بِهَا، وَمَالُ وَقْف".ترجمہ: اشباہ میں ہے کہ نیکیوں پر جبر نہیں سوائے چار مسائل میں ، (۱) شفعہ (۲)بیوی کا نفقہ (۳) عینِ موصی بہا (۴) مالِ وقف۔ (الدر المختار، كتاب الهبة، فصل فى مسائل متفرقة، 5/710، دار الفکر)
تحفہ بھی نیکی ہے اور تحفہ کا بدلہ دینا سنتِ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام ہے، صحیح البخاری کی روایت ہے: "عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا". ترجمہ:اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے تھے اور اس کا بدلہ دے دیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری، باب المکافاۃ فی الہبۃ، 3/157، رقم: 2585، دار طوق النجاۃ)
تحفہ کے بدل کے متعلق صحیح البخاری ہی کی ایک اور روایت ہے: "عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ المُهَاجِرُونَ المَدِينَةَ مِنْ مَكَّةَ، وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ - يَعْنِي شَيْئًا - وَكَانَتِ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارُ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ ثِمَارَ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، وَيَكْفُوهُمُ العَمَلَ وَالمَئُونَةَ، وَكَانَتْ أُمُّهُ أُمُّ أَنَسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ كَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، «فَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا فَأَعْطَاهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلاَتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ» - قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ - «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِ أَهْلِ خَيْبَرَ، فَانْصَرَفَ إِلَى المَدِينَةِ رَدَّ المُهَاجِرُونَ إِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّهِ عِذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ» ".ترجمہ: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا اور انصار زمین اور اسباب والے تھے۔ ان مہاجرین کو انصار نے اپنے مال تقسیم کر دیے، اس شرط پر کہ وہ ہر سال انہیں نصف پھل ان کے دے دیا کریں اور جملہ محنت ازل اول تا آخرم وہی کریں اور ان کی ماں یعنی انس رضی اللہ عنہ کی ماں ام سلیم جو عبداللہ بن ابی طلحہ کی ماں بھی تھیں، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے چند درخت دے دیے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آزاد کردہ لونڈی ام ایمن کو جو اسامہ بن زید کی ماں تھیں دے دیے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے فارغ ہوئے اور مدینہ کی طرف لوٹے تو مہاجرین نے ان کی دی ہوئی چیزیں واپس کر دیں یعنی وہ پھل کے باغ و درخت جو انھوں نے مہاجرین کو دیے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ کو ان کے درخت واپس کر دیے اور ام ایمن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عوض میں اپنے باغ سے کچھ درخت دے دیے۔ (صحیح البخاری، باب فضل المنیحۃ، 3/165، رقم: 2630، دار طوق النجاۃ)
اس کے قریب قریب ایک مسئلہ (جسے ’’سوکڑی‘‘ کہتے ہیں) کے بارے میں مفتی محمد وقار الدین (المتوفی:1413ھ) سے سوال ہوا کہ زید کپڑا مارکیٹ میں نوکری کرتا ہے اور مارکیٹ میں ایک اصول بنا ہوا ہے کہ بروکر کو جو اجرت دی جاتی ہے ، اس میں وہ دسواں حصہ دوکان کے دیگر ملازمین کو دیتا ہے اور بعض اوقات مالکان بروکر کو اجرت دینے سے پہلے ہی دسواں حصہ کاٹ لیتے ہیں اور ملازمین کو دے دیتے ہیں۔ اس اصول سے مالک، ملازم اور بروکر سب واقف ہوتے ہیں۔ کیا یہ رقم جو ہم ملازمین کو دی جاتی ہے ، جائز ہے یا نہیں ؟اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا :’’ اگر مارکیٹ میں یہ بات متعارف ہے اور سب جانتے ہیں ، دلال بھی راضی ہے اور مال خرید نے والے اور بیچنے والے بھی واقف ہیں ، تو ملازمین کو یہ روپیہ لینا جائز ہے‘‘۔(وقار الفتاوی، 3/330، بزم وقار الدین کراچی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب