سوال
میں ایک دینی ادارے میں بحیثیت مدرس تقریباً 2 سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہا تھا۔ مگر مجھے اچانک برین ہیمرج ہوا اور کچھ دل کے مسائل ہوئے، جس کی وجہ سے میں نے اپنی رخصت کے حوالے سے آگاہ کیا کہ اس حالت میں تدریسی فرائض انجام دینے سے قاصر ہوں۔ اس کے باوجود مجھے اتنا تنگ کیا گیا کہ بحالت مجبوری مجھے استعفی دینا پڑا۔ اور میری صورتحال سے میرے ادارہ سے منسلک تمام لوگ آگاہ تھے۔ میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں ،4 بچے ہیں میرے۔اسکے باوجود کسی قسم کا رحم ان کے دل میں نہیں آیا۔ میں اس حوالے سے آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں ،کیونکہ وہ ہمارا ایک بڑا ادارہ ہے ،جزاک اللہ خیرا۔
سائل: عاکف محمود۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یاد رہے کہ بلاوجہ شرعی کسی بھی ملازم کو نوکری سے نکالنا ناجائز و حرام ہے۔ہاں اگر کوئی شرعی وجہ ہو کہ ملازم نے چوری کی، یا اس کا فسق ظاہر ہوجائے یا کام ہی سے عاجز آجائے تو اسے فارغ کیا جاسکتا ہے۔لہذا اگر واقعتاً برین ہیمریج کی بناء پر آپ کی حالت ایسی تھی کہ کام سے عاجز تھے (جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے) تو ادارے کا فارغ کرنا شرعاً جائز ہے، ان پر کسی قسم کی ظلم کی نسبت درست نہیں، اگر کرتے ہیں بدگمانی کا وبال آپ پر ہوگا۔لیکن اگر حالت ایسی تھی کہ کام کرنا ممکن تھا اور کوئی فسق بھی ظاہر نہ ہوا تو ادارے کا نکالنا جائز نہیں۔ اور خاص اس صورت میں مزید استعفی کیلئے کسی بھی طرح کی ایذاء دینا بھی بذاتِ خود حرام قطعی ہے، اور اس ایذاء کا دائرہ بہت وسیع ہے، یعنی چاہے کسی مسلمان کو ہاتھ سے ایذاء دی جائے، یا زبان سے یا محض آنکھوں کے اشارے سے تمام حرام ہیں۔ اس پر ظالمین کو سچے دل سے توبہ اور مظلوم سے معافی دونوں لازم ہیں۔
دلائل و جزئیات:
بلا وجہ شرعی ملازم کو فارغ کرنا جائز نہیں، خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "قال في البحر واستفيد من عدم صحة عزل الناظر بلا جنحة عدمها لصاحب وظيفة في وقف بغير جنحة وعدم أهلية واستدل على ذلك بمسألة غيبة المعلم، من أنه لا تؤخذ حجرته ووظيفته على حالها إذا كانت غيبته ثلاثة أشهر، فهذا مع الغيبة فكيف مع الحضرة والمباشرة".ترجمہ: البحر الرائق میں کہا گیا اور نگران کو بغیر کسی قصور کے معزول کرنے کے درست نہ ہونے سے یہ بات بھی مستفاد ہوتی ہے کہ وقف میں کسی بھی ملازم کو بغیر کسی قصور یا عدمِ اہلیت کے معزول نہیں کیا جائے گا۔اور اس پر مدرس کی غیر حاضری کے مسئلے سے دلیل پکڑی گئی ہے، کہ اگر اس کی غیر حاضری تین ماہ کی ہو تو بھی اس کا رہائشی کمرہ اور اس کا وظیفہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، یہ حکم تو غیر حاضری کی صورت میں ہے، تو حاضری اور براہ راست کام کرنے کی صورت میں کیسے (ناحق برطرف کیا جا سکتا ہے؟) ۔ (رد المحتار، کتاب الوقف، طلب لا يصح عزل صاحب وظيفة بلا جنحة أو عدم أهلية ، 4/382، دار الفکر)
علامہ شامی رحمہ اللہ مزید تحریر فرماتے ہیں: "وذكر المرحوم الشيخ شاهين عن الفصل الأخير من جامع الفصولين إذا كان للوقف متول من جهة الواقف أو من جهة غيره من القضاة لا يملك القاضي نصب متول آخر بلا سبب موجب لذلك وهو ظهور خيانة الأول أو شيء آخر اهـ.... أو شيء آخر كما دخل فيه ما لو عجز أو فسق".ترجمہ: مرحوم شیخ شاہین رحمہ اللہ نے جامع الفصولین کی آخری فصل کے حوالے سے ذکر کیا کہ جب وقف کا کوئی متولی واقف کی طرف سے یا قاضیوں میں سے کسی اور کی طرف سے مقرر ہو تو، قاضی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بلا وجہ کوئی دوسرا متولی مقرر کرے... یا کوئی دوسری وجہ، جیسا کہ اس میں یہ صورت شامل ہے کہ وہ (متولی) عاجز ہو جائے یا فاسق ہو جائے۔ (رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب فی عزل الناظر، 4/384، دار الفکر)
علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: "وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلا تفسخ من غير عذر وقال شريح: إنها غير لازمة وتفسخ بلا عذر؛ لأنها إباحة المنفعة فأشبهت الإعارة، ولنا أنها تمليك المنفعة بعوض فأشبهت البيع وقال سبحانه وتعالى {أوفوا بالعقود} [المائدة: 1] والفسخ ليس من الإيفاء بالعقد وقال عمر: رضي الله عنه" البيع صفقة أو خيار " جعل البيع نوعين: نوعا لا خيار فيه، ونوعا فيه خيار، والإجارة بيع فيجب أن تكون نوعين، نوعا ليس فيه خيار الفسخ، ونوعا فيه خيار الفسخ؛ ولأنها معاوضة عقدت مطلقة فلا ينفرد أحد العاقدين فيها بالفسخ إلا عند العجز عن المضي في موجب العقد من غير تحمل ضرر كالبيع".ترجمہ: اور اجارہ کی صفت یہ ہے کہ جب یہ شرط، عیب، اور دیکھنے کے اختیار سے پاک، صحیح طور پر واقع ہو جائے تو جمہور علماء کے نزدیک یہ ایک لازم عقد ہے۔ لہٰذا، یہ بغیر کسی عذر کے فسخ (ختم) نہیں کیا جاسکتا۔جبکہ قاضی شریح نے فرمایا کہ یہ (اجارہ) لازم نہیں ہے اور بغیر عذر کے بھی فسخ ہو سکتا ہے؛ کیونکہ یہ منفعت کو مباح کرنا ہے، لہٰذا عاریت کے مشابہ ہے (جو کہ لازم نہیں ہوتی)۔ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ معاوضے کے بدلے میں منفعت کا مالک بنانا ہے(جبکہ عاریت میں کوئی معاوضہ نہیں لیا جات)، لہٰذا یہ بیع کے مشابہ ہوا۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: {اپنے معاہدوں کو پورا کرو}اور فسخ کرنا عقد کو پورا کرنا نہیں۔اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیع ایک سودا ہے یا اختیار ۔ انہوں نے بیع کو دو قسموں میں تقسیم کیا: ایک قسم جس میں اختیار نہیں اور ایک قسم جس میں اختیار ہے۔ اور اجارہ بھی بیع کی طرح ہے، لہٰذا اسے بھی دو قسم کا ہونا چاہیے: ایک قسم جس میں فسخ کا اختیار نہ ہو، اور ایک قسم جس میں فسخ کا اختیار ہو۔اور (مزید دلیل یہ ہے کہ) چونکہ یہ ایک مطلق (غیر مشروط) معاوضے کا معاہدہ ہے، اس لیے عقد کرنے والے دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک اس وقت تک فسخ کا تنہا حقدار نہیں ہوگا جب تک کہ وہ عقد کے تقاضے پر عمل کرنے سے عاجز نہ آ جائے اور اسے کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے، جیسے کہ بیع (میں ہوتا ہے)۔(بدائع الصنائع ، کتاب الاجارۃ،فصل فی صفة الإجارة، 4/201، دار الكتب العلمية)
اور ایذائے مسلم سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠.ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بےکئے ستاتے ہیں انھوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا ۔(الاحزاب:58)
اس آیت کے تحت علامہ اسماعیل حقی بن مصطفی الاستنبولی الحنفی (المتوفی:1127ھ) فرماتے ہیں: "واعلم ان أذى المؤمنين قرن بأذى الرسول عليه السلام كما ان أذى الرسول قرن بأذى الله ففيه اشارة الى ان من آذى المؤمنين كان كمن آذى الرسول ومن آذى الرسول كان كمن آذى الله تعالى فكما ان المؤذى لله وللرسول مستحق الطرد واللعن فى الدنيا والآخرة فكذا المؤذى للمؤمن".ترجمہ:یہاں ایمان والوں کو اذیت دینے کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا (کہ پچھلی آیت میں بیان ہوا : اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ)جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینے کا ذکراللہ تعالی کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو اذیت دینا گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینا گویا کہ اللہ کو اذیت دینا ہے تو جس طرح اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینے والادنیا اور آخرت میں لعنت کا مستحق ہے اسی طرح ایمان والوں کو اذیت دینے والا بھی دونوں جہاں میں لعنت و رسوائی کا حقدار ہے۔( روح البیان، الاحزاب، تحت الآیۃ: 58، 7/239،دار الفکر بیروت)
اسی آیت کے تحت تفسیر مدارک التنزیل میں ہے: "وعن الفضيل لا يحل لك أن تؤذي كلباً أو خنزيراً بغير حق فكيف إيذاء المؤمنين والمؤمنات".ترجمہ:حضرت فضیل فرماتے ہیں: کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین ومومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔( تفسیر مدارک التنزیل وحقائق التاویل، الاحزاب، تحت الآیۃ: 58، 3/44-45،دار الکلم الطیب)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"تدع الناس من الشر، فإنها صدقة تصدق بها على نفسك".ترجمہ: تم لوگوںکو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔(صحیح البخاری، 3/144، الرقم: 2518، دار طوق النجاۃ)
مسند امام احمد کی روایت ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده".ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ (مسند احمد ، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، 11/66، الرقم: 6515، مؤسسة الرسالة)
مسلمانوں کو کسی شرعی وجہ کے بغیر ایذا دینا حرام قطعی ہے،چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠۔ترجمہ:وہ لوگ جو ایماندار مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی جرم کے تکلیف دیتے ہیں بیشک انھوں نے بہتان اور کھلاگناہ اپنے ذمے لے لیا۔سیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:"من اذى مسلما فقد اذاني ومن اذاني فقد اذى الله".ترجمہ:جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ، یعنی جس نے اللہ کو تکلیف دی بالاآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔امام اجل رافعی نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کی، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"ليس منا من غش مسلما أو ضره أو ما كره".ترجمہ: وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکا دے یا تکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر کرے‘‘۔ (فتاوی رضویہ،24/423-424،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”جو شخص مسلمان کو کسی فعل یا قول سے ایذاء پہنچائے، اگرچہ آنکھ یا ہاتھ کے اشارے سے وہ مستحقِ تعزیر ہے‘‘۔(بھارِ شریعت، 2/407،مکتبۃ المدینۃ کراچی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 6 جمادی الاولی 1447ھ/29 أكتوبر 2025ء