ممبر شپ پر سہولیات کا حکم
    تاریخ: 30 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 477

    سوال

    مندرجہ ذیل طریقہ کار کے مطابق ہمارا ممبر شپ کی بنیاد پر یہ کام کرنا شریعت کی روشنی میں کیسا ہے؟

    (۱)ہماری ممبرشپ ایک سال کی مدد کے لیے ہوگی۔ ممبرشپ فیس تنخواہ کا 10 فیصد سالانہ ادا کرنا ہوگا (جو کم از کم 2 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 20 ہزار ہے)اور جو سروس یا خدمات لینی ہے اس کے چارجز دینے ہوں گے جو واپس نہیں ہوں گے ۔ہاں اگر 3 ماہ تک کمپنی کوئی سروس فراہم نہیں کرتی تو کمپنی ممبر شپ فیس اور سروس چارجز واپس دے گی۔

    اس ممبرشپ کے ذریعے لوگوں کو مختلف امور میں ڈسکاؤنٹ دئے جائیں گے،جن میں طبی اور صحت کی خدمات، دماغی صحت اور تندرستی کی خدمات، گھر کی مرمت اور فراہمی، ناگہانی آفات کی ریلیف اور سپورٹ سروس، ہوم ہیلتھ کیئر، سماجی اور تفریحی (شادی بیاہ) سرگرمیاں، تعلیم و تربیت کے اقدامات، روزمرہ کی اشیاء کی خریداری و دیگر ضروریات شامل ہیں۔

    (۲)اگر ممبر ہمارے اکاؤنٹ میں رقم رکھتے ہیں اور اس کو سال گزر گیا تو اس کی مد میں کچھ فیصد نفع اسے دیا جائے گا جو کہ رقم کی صورت میں نہیں ہوگا بلکہ اس کی ضروریات زندگی مثلا ہسپتال یا بچوں کے اسکول کے اخراجات کی صورت میں کمپنی کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔

    (۳)اسی طرح ہم قرض بھی فراہم کریں گے مثلاً اگر ایک شخص ہم سے 10 ہزار لیتا ہے تو ہم اس سے پانچ ہزار رجسٹریشن فیس لیں گے ۔جو قرض دیا جائے گا اس کی ادائیگی کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا جائے گا اور ہر ماہ کی آسان اقساط پر بھی اس میں نرمی کی جائے گی کہ اگر اس کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے اور قسط ادا نہ کرنا چاہے تو اس کی تین ماہ کی اقساط معاف کر دی جائیں گی ۔

    (۴)اگر ہم اپنے ممبرشپ کے لوگوں کو ان کا بزنس بڑھانے کے لیے دوسری کمپنی میں رجسٹر کروائیں تو ہماری کمپنی کا اس دوسری کمپنی سے ماہانہ یا سالانہ کچھ رقم وصول کرنا کیا جائز ہوگا؟اسی طرح کیا میں ان جمع شدہ پیسوں کو اپنے جائز بزنس میں استعمال کر سکتا ہوں؟

    نوٹ: ہم نے سائل کی کمپنی کے ٹرمز اینڈ کنڈیشن کو بغور پڑھا جن میں قابلِ گرفت ایک امر یہ ہے کہ آرٹیکل 5 میں ہے کہ ’’اگر آپ مکمل درست مدت (یعنی 1سال) سے پہلے ہماری ممبر شپ واپس لے لیتے ہیں تو کمپنی آپ کی ممبر شپ ختم کردے گی ‘‘۔اسی قسم کی بات آرٹیکل 10 میں ہے ’’اگر ہمیں یقین ہے کہ آپ نے ان شرائط کی خلاف ورزی کی ہے تو ہم کسی بھی وقت بغیر اطلاع کے آپ کی ممبر شپ ختم یا معطل کرسکتے ہیں‘‘۔اسکی وضاحت سائل نے یہ بیان کی جو رقم ممبر نے جمع کروائی تھی اسے ضبط کرلیا جائے گا اور واپس نہیں لوٹایا جائے گا۔

    مزید سائل کے بیان سے واضح ہوا کہ پہلے سوال میں ممبر شپ کی رقم کو کسی کاروبار میں شامل کرکے حاصل شدہ نفع سے سہولیات فراہم نہیں کی جائیں بلکہ براہ راست ہسپتالوں، اسکولوں اور دوکانوں سے بغیر انہیں کوئی عوض دیے ڈسکاؤنٹ دلوایا جائے گا۔اسی طرح ممبر شپ فیس سال کے اختتام تک اگر ممبر نے کوئی سہولت حاصل نہ کی تو عند الطلب وہ رقم واپس کردی جائے گی(اگرچہ یہ بات فی الحال دستاویزات میں نہیں)۔

    سائل: عامر علی ولد محمد صادق

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آرٹیکل 5 اور 10 مالی جرمانہ پر مشتمل ہے جو کہ مفتی بہ قول کے مطابق ناجائز و حرام ہے۔

    (۱) مذکورہ طریق سے حاصل ہونے والا ڈسکاؤنٹ سود قرار پائے گا جو کہ سخت حرام ہے۔کیونکہ ممبر شپ فیس جو تین ماہ سروس فراہم نہ کرنے کی صورت میں قابل واپسی ہے قرض ہے کہ قرض قابلِ واپسی ہوتا ہے اور قرض پر مشروط (طے شدہ )نفع سود ہے۔

    (۲)محض رقم رکھنے پر کچھ فیصد نفع کی صورت میں وصول کرنا بھی قرض پر نفع کو متعین کرتا ہے جو کہ سود ہے۔

    (۳) قرض فراہم کرنے کے عوض اضافی پانچ ہزار لینا اگرچہ رجسٹریشن فیس کے نام پر ہو سود ہے۔

    (۴) ممبر شپ کی رقم قرض ہے اور قرض سے حاصل ہونے والا نفع ممبران قرض دہندگان کیلئے سود ہےچاہے اسے مقروض (کمپنی) حلال بزنس سے کمائے، ہاں چونکہ اس قرض کی کمپنی مالک ہے تو اسے جہاں چاہیں جائز استعمال کریں۔

    سود کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے:" وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا".ترجمہ: انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود۔(البقرۃ:275)

    قرض پر مشروط نفع سود ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے:"قال رسو‎ل الله ﷺ كلُّ قرضٍ جَرَّ مَنفعةً فَهوَ ربًا".ترجمہ: حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔( فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ،5/28،رقم الحدیث:6336،دار المعرفۃ بیروت)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”یوہیں (قرض دینے والا) کسی قسم کے نفع کی شرط کرے ناجائز ہے‘‘۔ (بہار شریعت، 2/759، مکتبۃ المدینہ کراچی)

    پہلے سوال کا شرعی حل:

    کمپنی جتنی بھی سہولیات (یعنی مختلف مواقع پر ڈسکاؤنٹ یا مکمل اخراجات) دینے کا ارادہ رکھتی ہے ان تمام تر سہولیات میں ممبر شپ فیس کی حیثیت وقف میں متعین کردے تو یہ معاملہ درست ہوجائے گا۔یہ صورت فی نفسہ جائز ہے جسے شرعی اصطلاح میں ’’تکافل‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی باہمی امدار و نصرت۔ البتہ رشوت کا شائبہ باقی ہے کہ رشوت نام ہے اپنا غیر ثابت شدہ حق وصول کرنے کیلئے کچھ دینا اور یہی صورت یہاں پائی جارہی ہے کہ ممبر شپ فیس اسی واسطے دی جائے گی کہ اسے مذکورہ سہولیات میسر ہوں۔ہاں اگر دستاویزات میں رشوت کا صراحتاً انکار کرکے نیت یہ رکھی جائے کہ جس طرح ممبر نے کمپنی کو رقم دے کر احسان کیا تو اس احسان کے بدلے کمپنی اسے ڈسکاؤنٹ کی سہولت فراہم کرے گی تو جائز ہے، کیونکہ بلا ضرورت کسی کو اپنی رقم دینا محض تبرع و نیکی ہے واجب و لازم نہیں۔

    اس ممبر شپ فیس سے حاصل ہونے والے فواد کےجواز کیلئے چند امور کا لحاظ انتہائی ضروری ہے:

    (۱) ممبر جو رقم جمع کروائے وہ تمام ممبران کیلئے ذکردہ سہولیات پر چندہ ہو، قرض نہ ہو۔

    (۲) ممبر اپنی جمع کردہ فیس کا کسی صورت مطالبہ نہ کرسکے ، وگرنہ فیس قرض قرار پائے گی۔

    (۳) ان رقوم کی مالک کمپنی نہ ہو بلکہ ’’وقف فنڈ‘‘ ہو۔

    (۴) دستاویزات میں کاروباری الفاظ نہ ہو جو اس محض نیکی کے کام کو کاروبار کا تاثر دیں۔مثلاً انٹر پرائز، کارپوریٹ(جو کہ سائل کی کمپنی کے نام میں موجود ہیں)،بزنس ، کانٹریکٹ یا عوض جیسے الفاظ۔

    (۵) ان تمام معاملات میں کمپنی بحیثیت وکیل (یعنی وقف فنڈ ممبران کے وکیل) کام کرے، نہ کہ بحیثیت مالک۔

    (۶) مکمل نظام کی شرعی نگرانی کیلئے باقاعدہ معتمد سنی مفتیان کرام کی ٹیم ہو۔

    اس طرح یہ نظام تکافل کی صورت اختیار کرجائے گا جس کی بنیاد باہمی امداد ،تعاون ،تناصراور محض نیکی پرہے۔

    قرآن مجید میں باہمی امداد کی ترغیب وارد ہوئی ہے،چنانچہ ارشاد ہوا:وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَان.ترجمہ:اور نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔(المائدۃ:2)

    تکافل اور انشورنس میں فرق کو واضح کرتے ہوئے تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی مدّ ظلہ العالی لکھتے ہیں:’’تکا فل اورمروجہ انشورنس میں کئی و جوہ (پہلو) سے فرق ہے: (۱)تکافل محض عقدِ تبر ع(احسان) ہے ۔(ا قول :ا سکا مطلب یہ ہواکہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے ذکر کردہ مخصوص فلاحی کاموں کے لیے فنڈ (چندہ)ہوگی ، قرض ہر گز نہیں ہو گی اور اگر تکافل کمپنی کو ھبہ(گفٹ) کی جائے ۔ تو یہ رقم اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گی اوراب اُس رقم کی مالک تکافل کمپنی ہو گئی اور یہ شخص اس رقم کے حوالے سے کسی قسم کا دعوٰی نہیں کر سکتا اگرچہ کمپنی اس کو فائدہ دے یانہ دے ۔یہ الگ بات ہے کہ کمپنی لوگوں کو اپنی طرف مائل رکھنے کے لیے ان کو فائدہ پہنچانا ضروری سمجھتی ہے وگرنہ ان کے فنڈ میں کوئی اپنی رقم کیوں جمع کروائے گالیکن یہ فائدہ پہنچانا اسی طرح تبرع واحسان ہوگا جس طرح اس شخص نے تکافل کمپنی کو رقم دے کراحسان کیا تھا۔اس کو یوں سمجھوکہ آج تم کسی کے کام آؤ کل کوئی تمہارے کام آئے گا) جبکہ مروجہ انشورنس عقد معاوضہ ہے (ا قول : ا سکا مطلب یہ ہوا کہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے کمپنی پرقرض ہی ہے )اور شر عاَدو نوں کے احکام بالکل الگ الگ ہیں۔ (۲)تکافل میں دی جانے والی رقم ’’وقف فنڈ‘‘کی ملکیت میں جاتی ہے کمپنی اس کی مالک نہیں ہوتی جبکہ مروجہ انشورنس میں ا س رقم کی مالک کمپنی ہوتی ہے۔ (۳)تکافل کا اصل مقصد تعاون علی البر والتقوی ہے ،کوئی کاروبار نہیں اس لئے تکافل کے کاغذات میں ایسے الفاظ سے گریز کیاجاتاہے جن سے عقد معاوضہ یا کارو بار کا تاثر ملتاہو جیسے کہ بزنس یاکنٹریکٹ کے الفاظ جبکہ انشورنس کا اصل مقصد تجارت اور کا روبار ہے ۔ (۴)تکافل میں کمپنی کی حیثیت وکیل کی ہے جبکہ انشور نس میں کمپنی اصیل اور مالک ہے۔ (۵)تکافل نظام میں باقاعدہ شر عی بورڈہوتا ہے۔شریعہ بور ڈ کی نگرانی میں فنڈکو شر یعت کے مطابق جائز کا روبار میں لگایا جاتا ہے۔چنانچہ تکافل رولز ۲۰۰۵ء کی رو سے ہر کمپنی کا شریعہ بورڈ ضروری ہے ،جس میں کم سے کم تین ممبر ہوں جن کا عالمِ دین اور خریدوفروخت کے شرعی مسائل پر عبورحاصل ہونا ضروری ہے جبکہ انشو رنس میں اس طرح کی کسی قسم کی کو ئی نگرانی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس طرح کی کو ئی پابندی ہے۔جہاں فائدہ نظر آتا ہے وہا ں سر مایہ کاری ہوتی ہے اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کارو بار شر عا جائز اور حلال بھی ہے یا نہیں۔(وسیم الفتاوی،غیر مطبوعہ)

    خلاصہ کلام:

    سائل کے بیانیہ اور دستاویزات کے مطابق ایسی ممبر شپ ناجائز و حرام ہے۔لہذا اگر واقعتاً مخلوق خدا کی خدمت کی نیّت ہو تو تکافل ماڈل کو اختیار کریں اور کمپنی کو قانونی لحاظ سے اسی ماڈل پر رجسٹر کروائیں۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 2 رجب المرجب 1446 ھ/3 جنوری 2024ء