خلوت فاسدہ میں مہر کا حکم
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 36
    حوالہ: 474

    سوال

    میری ڈیڑھ سال پہلے طلاق ہوئی تھی۔میری بیوی نے عدت کر کے دوسری شادی کرلی اس سے بھی 2 مہینے بعد طلاق لے لی پھر اس نے مجھے دوبارہ راضی کرلیا کہ میں اُس سے پھر نکاح کروں۔ اس سے 2 بچے بھی ہیں اُن کی خاطر میں پھر جھک گیا۔ میں نے 20 دن پہلے نکاح کیا سب گھر والوں کی رضا مندی سے لیکن اس نے نکاح کے بعد مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھا اور نہ رکھنا چاہتی ہے۔وہ یہ کہتی ہے کہمیں نے بچوں کا باپ بنا کر شادی کی ہے اپنا شوہر نہیں اور اگر آپ شوہر بننے کی کوشش کریں گے تو مجھے نہیں رہنا۔آپ صرف بچوں کا باپ بن کے رہیں۔اس صورت میں اگر میں کوئی فیصلہ کروں تو کیا مجھے مہر ادا کرنا ہو گا یا نہیں؟ کیونکہ ان 20 دنوں میں انہوں نے مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھا، یہاں تک اُن کا بستر بھی الگ تھا اور میرا بھی۔

    نوٹ: سائل سے مزید معلومات پر معلوم ہوا کہ پہلی رات میں میاں بیوی نے اپنے تقریبا 14 اور 9 سال کے دو لڑکوں کے ساتھ اکیلئے کمرے میں رات گزاری ، اس حال میں کہ بچے سو رہے تھے اور دروازہ بند تھا لیکن بیوی نے ازدواجی تعلق سے بہانہ بنا کر بستر الگ کردیا۔

    سائل: نعیم الدین خان۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں اب تک خلوتِ صحیحہ (تنہائی) متحقق نہیں لہذا اگر آپ طلاق دیتے ہیں تو آدھا مہر واجب ہوگا۔

    تفصیل مسئلہ:

    عورت کا مہر تین وجوہات سے لازم ہوتا ہے: (۱) وطی (۲) خلوتِ صحیحہ (تنہائی)(۳) زوجین میں سے کسی کے فوت ہوجانا۔

    مہر لازم ہونے کی تین صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وَيَتَأَكَّدُ (عِنْدَ وَطْءٍ أَوْ خَلْوَةٍ صَحَّتْ) مِنْ الزَّوْجِ (أَوْ مَوْتِ أَحَدِهِمَا)". ترجمہ: وطی یا خلوتِ صحیحہ یا زوجین میں سے کسی کے فوت ہوجانے سے مہر پکّا ہوجاتا ہے۔ (الدر المختار، باب المہر،3/102، دار الفکر بیروت)

    اور خلوت صحیحہ یہ ہے کہ جب میاں بیوی ایک جگہ تنہائی میں ہوں اور کوئی چیز ازدواجی تعلق سے رکاوٹ نہ ہو۔

    موانع (رکاوٹ) تین قسم کے ہیں:

    1. مانع حسّی: جیسے شوہر ایسا بیمار ہو کہ تنہائی ممکن نہ ہو، یا بیوی ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ وطی (ازدواجی تعلق )سے نقصان کا اندیشہ ہو۔

    2. مانع طبعی: جیسے کسی تیسرے شخص کی موجودگی، خواہ وہ سوتا ہوکیونکہ ممکن ہے وہ جاگ جائے، نابینا ہو یا شوہر کی دوسری بیوی ہو۔ ہاں، ایسا چھوٹا بچہ جو کچھ بیان نہ کر سکے، یا بے ہوش شخص ہو تو خلوت صحیحہ ہوگی۔ اگر عورت کا کتا یا مرد کا کاٹنے والا کتا ہو تو خلوت صحیحہ نہ ہوگی۔

    3. مانع شرعی: جیسے عورت حیض یا نفاس میں ہو، یا دونوں میں سے کوئی احرام میں ہو، یا فرض روزہ یا نماز میں ہو۔ نفل، نذر، کفارہ یا قضا کے روزے اور نفلی نماز مانع نہیں۔

    اور خلوت فاسدہ یہ ہے کہ زوجین تنہائی میں ہوں مگر کوئی شرعی، طبعی یا حسی مانع پایا جائے تو یہ خلوت فاسدہ ہوگی۔

    خلوت صحیحہ کے متعلق فقیہ النفس شمس الآئمہ علامہ فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان(المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں: "والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حساً أو شرعاً أو طبعاً".ترجمہ:خلوت صحیحہ یہ ہے کہ میاں بیوی ایسے مقام پر جمع ہوں جہاں کوئی ایسی رکاوٹ نہ ہو جو حسّاً، شرعاً یا طبعاً ہمبستری سے مانع ہو۔(فتاوی قاضی خان،فصل في الخلوة وتأكد المهر، 1/345، قدیمی کتب خانہ)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اور خلوت صحیحہ یہ ہے کہ زن وشوتنہائی کے مکان میں جہاں کسی کے آنے جانے یا نظر پڑنے سے اطمینان ہو، یُوں متفق ہوں کہ اُن کے ساتھ کوئی تیسرا ایسا نہ ہو جو ان کے افعال کو سمجھ سکے، نہ اُن میں کسی کو مقاربت مانع شرعی یا حِسّی ہومثلاً مرد یا عورت کی ایسی کم سِنی جس میں صلاحیت قربت وقابلیتِ صحبت نہ ہو یا شوہر کی ناسازی طبع یا عورت کا حیض یا نفاس یا ایسے مرض میں ہونا جس کے سبب وقت وقوع فعل قربت سے اسے مضرت پہنچے یا ان میں کسی کا نماز میں فرض یا ماہِ رمضان میں روزہ فرض سے مشغول ہونا کل ذٰلک فی الخانیۃ والدرالمختار وحواشیۃ‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/143، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اس مسئلہ میں بچوں کی عمر ایسی ہے کہ اگر اپنا دیکھا بیان کریں تو کرسکتے ہیں، ایسے بچوں کو ’’صبی عاقل‘‘ یعنی سمجھدار بچہ کہتے ہیں اور ایسا سمجھدار بچہ اگرچہ سو رہا ہو خلوتِ صحیحہ سے رکاوٹ ہے، لہذا اگر مزید کوئی خلوت صحیحہ کی صورت نہ پائی گئی یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا یا میاں بیوی میں سے کسی کا انتقال نہ ہوا تو بیوی کو آدھا مہر دیا جائے گا۔

    سوتے ہوئے شخص کی موجودگی خلوت صحیحہ کے مانع ہے، فقیہ النفس شمس الآئمہ علامہ فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان(المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں: " ولو كان معها نائم أو أعمى لا تصح الخلوة ".ترجمہ:اگر میاں بیوی کے ساتھ کوئی سوتا ہو یا اندھا ہو تو خلوت صحیح نہ ہوگی۔(فتاوی قاضی خان،فصل في الخلوة وتأكد المهر، 1/345، قدیمی کتب خانہ)

    اسی طرح سمجھدار بچے کے متعلق امام محمد بن محمود استروشنی (المتوفی:632ھ) فرماتے ہیں:"والزوج إذا خلا بامرأته ومعها صبي لا يعقل لا يمنع صحة الخلوة ، وإن كان صبيا يعقل بأن أمكنه أن يعبر بما يكون بينهما لا تصح الخلوة من غير فصل ".ترجمہ: اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ تنہا ہو اور ان کے ساتھ ایسا بچہ ہو جو سمجھ بوجھ نہ رکھتا ہو، تو یہ خلوتِ صحیحہ کے تحقق میں مانع نہیں۔ لیکن اگر وہ ایسا بچہ ہو جو سمجھ سکتا ہو اور ان کے درمیان ہونے والی باتوں کو بیان کر سکتا ہو، تو اس صورت میں خلوت بغیر کسی تفصیل کے صحیح نہ ہوگی۔ (احکام الصغار، مسائل المہر، ص:68، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    اور خلوتِ فاسدہ میں نصف مہر لازم ہوتا ہے، علامہ ابو بکر بن علی الزبیدی (المتوفی:800ھ) فرماتے ہیں: "أَمَّا إذَا كَانَتْ فَاسِدَةً فَإِنَّهَا تُوجِبُ الْعِدَّةَ وَلَا تُوجِبُ كَمَالَ الْمَهْرِ".ترجمہ: جب خلوتِ فاسدہ ہو تو اس صورت میں عدت واجب ہوتی ہے لیکن مہر پورا نہیں ملتا۔ ( الجوهرة النيرة، كتاب النكاح ، الكفاءة في النكاح معتبرة ،2/15،المطبعة الخيرية)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 10 رمضان المبارک1446 ھ/11 مارچ 2024ء