بیٹے کے مال میں والد کا تصرف
    تاریخ: 30 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 478

    سوال

    ہم تین بھائی اور والد صاحب چار افراد ایک کاروبار میں مشترکہ پارٹنر ہیں۔ میں محمد فرحان کاروبار سے الگ ہو گیا ہوں۔مال تجارت کا حساب کرنے کے بعد میرے حصے میں 80 لاکھ روپے آئے ہیں ۔یہ سب حساب بھائیوں نے کیا ہے اور بتایا ہے آپ کا یہ حصہ بنتا ہے۔ پھر مجھے 80 لاکھ میں سے 55 لاکھ روپے ادا کیے اور 25 لاکھ روپے روک لیے یہ کہہ کر جس مکان میں والد صاحب رہتے ہیں (اور دونوں بھائی اور ان کی فیملی بھی ساتھ رہتے ہیں جبکہ میں الگ رہتا ہوں) اس گھر کے تزین و آرائش کے لیے ہیں۔ اور بولا کہ اصل میں تزین وآرائش میں ایک کروڑ روپے لگیں گے جو کہ دو بھائی، والد صاحب اور میرے 25 لاکھ روپے ملا کر لگائیں جائیں گے۔ کیا اس میں میرے 25 لاکھ روپے لگیں گے؟ جبکہ میں اس گھر میں رہتا بھی نہیں ہوں ۔کیا اس طرح میرے 25 لاکھ روپے روک کر گھر میں لگانا شرعاً جائز ہے؟

    سائل: عبد اللہ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان ہوا تو قضاءً حکم یہ ہے کہ بلا اجازت والد صاحب کا محض تزین و آرائش کیلئے بیٹے کا مال لینا درست نہیں، ہاں اگر والد محتاج ہوں تو بقدر حاجت بلا اجازت مال بلا شک و شبہ لینا جائز ہے جو کہ محض تزین و آرائش میں متحقق نہیں۔اور بھائیوں کا مطلقاً دوسرے بھائی کا مال روک لینا ظلم ہے۔

    والد صاحب سے متعلق یہ حکم قضاءً تھا البتہ بیٹے کی نیک بختی یہ ہے کہ والد جیسا چاہیں اپنے بیٹے کے مال میں تصرف کریں، بیٹے کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ بیٹوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مطلقاً فیصلہ فرمایا: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ".ترجمہ: تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔(سنن ابن ماجۃ، رقم الحدیث:2291)

    اور قرآن کا حکم ہے کہ: فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا.ترجمہ: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (النساء:65)۔رب تعالی توفیق عطا فرمائے۔

    دلائل و جزئیات:

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اولاد کو حقوق پدر ی کا خیال نہ کرنا اس کے ساتھ تمردو مخالفت سے پیش آنا اپنے لئے عذاب شدید ناروغضب رب قہار کا واجب کرتا ہے، اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں فرض کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو، انہیں ہُوں نہ کہو، ان سے اعزاز واکرام کا کلام کرو، ان کے لئے خاص محبت سے تذلل کا بازوبچھاؤ، ان کےلئے دعا کرو کہ الٰہی !ان پر رحم فرما جیسا انہوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث والرجلۃ من النساء۔رواہ النسائی والبزار باسنا دین نظیفین والحاکم فی صحیحہ المستدرک عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ تین شخص ہیں کہ جنت میں نہ جائیں گے، ماں باپ کو ستانے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت(اس کو نسائی اور بزار نے صاف سندوں سے اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ مستدرک میں حضرت ابن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا)۔ ( سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۵۷) (کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب البروالصلہ باب العقوق مطبع موسسۃ الرسالۃ بیروت ۲ /۳۷۲)۔ نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : ثلثۃ لایقبل اﷲ عزوجل منھم صرفا و لاعد لا عاق ومنان ومکذب بقدر۔ رواہ ابن ابی عاصم فی کتاب السنۃ باسناد حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ تین شخص ہیں کہ اﷲ تعالٰی نہ ان کے نفل قبول کرے نہ فرض: ماں باپ کو ایذا دینے والا اور صدقہ دے کر فقیر پر احسان رکھنے والا اور تقدیر کا جھٹلانے والا(اس کو ابن ابی عاصم نے سند حسن کے ساتھ کتاب السنۃ میں حضرت ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے)۔ (العلل المتناہیہ حدیث ۲۳۹ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۱۵۱) (مجمع الزوائد باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر الخ دارالکتاب بیروت ۷ /۲۰۶)۔ نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ۔ رواہ الطبرانی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے، ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے۔ ملعون ہے جواپنے ماں باپ کو ستائے(اس کو طبرانی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے)۔ ( المعجم الاوسط حدیث ۸۴۹۲ مکتبہ المعارف ریاض ۹ /۲۲۶) (الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی والحاکم الحدیث ۴مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۷) ( المستدرک للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکربیروت ۴ /۱۵۲)۔ نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : رضااﷲ فی رضاالوالد وسخط اﷲ فی سخط الوالد۔رواہ الترمذی و الحاکم بسند صحیح عن عبداﷲ بن عمرو والبزار عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما۔ اﷲ کی رضاوالد کی رضامیں ہےاور اﷲ ناراضی والد کی ناراضی میں(اس کو ترمذی اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ عبداﷲ بن عمرو اور بزار نے حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے)۔ (جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین امین کمپنی دہلی ۲ / ۱۲)۔ نیز حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: کل الذنوب یوخر اﷲ تعالٰی منھا ماشاء الٰی یوم القٰیمۃ الاعقوق الوالدین فان اﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیات قبل الممات۔رواہ الحاکم والا صبھا نی والطبرانی فی الکبیر عن ابی بکرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔ سب گناہوں کی سزا اﷲ تعالٰی چاہے تو قیامت کیلئے اٹھارکھتا ہے مگر ماں باپ کو ستاناکہ اس کی سزا مرنے سے پہلے زندگی میں پہنچاتا ہے(اس کو حاکم، اصبہانی اور طبرانی نے کبیر میں حضرت ابوبکرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے)۔ (المستدرک للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۶)۔ مال کے لئے ماں باپ سے مخاصمت کتنی بے حیائی یبیاکی کافر نعمتی ناپاکی ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لاتعقن والدیک وان امراک ان یخرج من اھلک ومالک۔ رواہ الامام احمد بسند صحیح علی اصولنا والطبرانی فی الکبیر۔ خبردار ماں باپ کی نافرمانی نہ کہ اگر چہ وہ تجھے حکم دیں کہ اپنے جَورُوبچوں مال و متاع سب سے نکل جا (اس کو امام احمد نے ہمارے اصول پر صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے کبیر میں روایت کیا)۔ (مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۲۳۸)۔دوسری روایت میں ہے : اطع والدیک وان اخرجاک من مالک ومن کل شیئ ھولک۔رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند صالح کلاھما عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ اپنے ماں باپ کا حکم مان اگر چہ وہ تجھے تیرے مال اور تیری سب چیزوں سے تجھے باہر کردیں(اسے طبرانی نے اوسط میں، اسے اور مذکورہ بالاحدیث (دونوں)کو معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا)۔ (المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۷۹۵۲ مکتبۃ المعارف ریاض ۸ /۴۶۰) اوناشکر،خدا ناترس ! مال لایا کہاں سے، تیرا گوشت پوست استخوان سب تیرے ماں باپ کا ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : انت ومالک لابیک (تو اور تیر ا مال سب تیرے باپ کا)۔یہ اس وقت ارشاد ہوا کہ ایک صاحب حاضر ہوئے اور عرض کی: یارسول اﷲ!مال وعیال رکھتا ہوں اور میرے ماں باپ میرا سب مال لینا چاہتے ہیں یعنی پھر میں اور میرے بال بچے کیا کھائیں گے، فرمایا:’’تو اور تیرامال سب تیرے باپ کا ہے تجھے اس سے انکار نہیں پہنچتا‘‘۔رواہ ابن ماجۃ بسند صحیح عن جابر والطبرانی فی الکبیر عن سمرۃ بن جندب وعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ اس کو ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر اور طبرانی نے کبیر میں حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ (سنن ابن ماجہ ابواب التجارات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۷) (المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۶۹۶۱ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۷ /۲۳۰)۔حدیث میں ہے ایک شخص حاضر خدمت ہوکر عرض رساں ہوئے: ان ابیہ یرید ان یاخذ مالہ۔یعنی یا رسول اﷲ!میرے ماں باپ میرا مال لے لینا چاہتے ہیں۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ادعہ لی انہیں ہمارے حضور میں حاضر لاؤ۔ جب حاضر ہوئے ان سے ارشاد ہوا تمہارا بیٹا کیا کہتا ہے تم اس کا مال لینا چاہتے ہو، عرض کی حضور اس سے پوچھ دیکھیں کہ میں وہ مال لے کر کیا کرتا ہوں، یہی اس کی مہمانی اور اس کی قرابتی میں، یا میرا اور میرے بال بچوں کا خرچ، اتنے میں جبریل امین علیہ الصلوٰۃ و التسلیم حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم !اس مرد پیر نے اپنے دل میں کچھ اشعار تصنیف کئے ہیں جو ابھی خو داس کے کان نے نہیں سنے یعنی ہنوز زبان تک نہ لایا، حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اپنے دل میں کچھ اشعار تصنیف کئے ہیں جو ابھی تمہارے کان نے بھی نہ سنے وہ سناؤ۔ ان صاحب نے عرض کی: اﷲ ہمیشہ حضور کے معجزات سے ہمارے دل کی نگاہ ہمارا یقین بڑھاتا ہے۔

    پھر یہ اشعار عرض کرنے لگے :

    غذوتک مولودا و منتک یافعا تعل بما اجنی علیک وتنھل

    میں نے تجھے غذاپہنچائی جب سے تو پیدا ہوا اور تیرا بار اٹھایا جب سے تو ننھا ہوا میری کمائی سے تو بار بار مکررسیراب کیا جاتا

    اذالیلۃ ضاقتک بالسقم لم ابتلسقمک الاساھر اَتَمَلْمَلُ

    جب کوئی رات بیماری کا غم لے کر تجھ پر اترتی میں تیری ناسازی کے باعث جاگ کرلوٹ کر صبح کرتا

    تخاف الردی نفسی علیک وانھالتعلم ان الموت حتم موکل

    میرا جی تیرے مرنے سےڈرتا حالانکہ اسے خوب معلوم تھا کہ موت یقینی ہے اور سب پر مسلط کی گئی ہے

    کانی اناالمطروق دونک بالذیطرقت بہ دونی فعینی تھمل

    میری آنکھیں یوں بہتیں کہ گویا وہ مرض جو شب کو تجھے ہوا تھا نہ مجھے، مجھے ہوا تھا نہ تجھے

    فلما بلغت السن والغایۃ التیالیک مدی ماکنت فیک اومل

    میں نے تجھے یوں پالا اور جب تو پروان چڑھا اور اس حد کو پہنچا جس میں مجھے امید لگی ہوئی تھی کہ اس عمر کا ہوکر تو میرے کام آئے گا

    جعلت جزائی غلظۃ وفظاظۃکانک انت المنعم المتفضل

    تو تونے میرا بدلہ سختی ودرشت خوئی کیاگویا تیرا ہی مجھ پر فضل واحسان ہے

    فلیتک اذلم ترع حق ابوتیفعلت کما الجار المجاور یفعل

    اے کاش جب تونے حق پدری کا لحاظ نہ کیا تھا تو ایسا ہی کرتا جیسا پاس کا ہمسایہ کرتا ہے

    واولیتنی حق الجوار ولم تکنعلی بمالی دون مالک تبخل

    ہمسایہ میں کا حق تومجھے دیا ہوتا اورمجھ پر اس مال سے کہ اصل میں تیرا نہیں میر اہی تھا بخل نہ کرتا

    ان اشعار کو استماع فرماکر حضور پر نور رحمت عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے گریہ کیا اور بیٹے کا گریبان پکڑ کر ارشاد فرمایا : اذھب انت ومالک لابیک۔ رواہ الطبرانی فی المعجم الصغیر والبیہقی فی دلائل النبوۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲتعالٰی عنھما۔ ترجمہ: جاتو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے(اس کو طبرانی نے معجم صغیر اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیا)۔ (المعجم الصغیر للطبرانی باب من اسمہ محمد ترجمہ حضرت جابر بن عبداﷲرضی اﷲعنہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۶۳) (دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی اخبارہ من قال فی نفسہ شعراً الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ /۵۔۳۰۴)۔

    حکم سعادت تو یہ ہے مگر بایں ہمہ قضاءً باپ بیٹے کی ملک جدا ہے۔ باپ اگر محتاج ہو تو بقدر حاجت بیٹے کے فاضل مال سے بے اس کی رضا واجازت کے لے سکتا ہے زیادہ نہیں اور یہ لینا بھی کھانے پینے، پہننے، رہنے کے لئے، اور حاجت ہوتو خادم کے واسطے بھی، بیٹے کے روپے پیسے سونے چاندی ناج کپڑے یاقابل سکونت پدر مکان سے ہو، ہاں یہ اشیاء نہ ملیں توانہیں اغراض ضروریہ کے لئے اس کے اور اموال سے جو خلاف جنس حاجت ہوں بحکم حاکم یا حاکم نہ ہو تو علی المفتی بہ بطور خود بھی لے سکتا ہے مثلاً کھانے کی ضرورت ہے اناج یا روپیہ نہ پایا تو کپڑے برتن لے سکتا ہے یا کپڑوں کی ضرورت ہے اور دام یاکپڑے نہ ملے تو ناج وغیرہ بیچ کر بناسکتا ہے نہ یہ کہ اس کی جائداد ہی سرے سے اپنی ٹھہرالے۔ درمختار میں ہے: فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمۃ والا اثم۔ترجمہ: مبتغی للفقیر میں ہے کہ باپ اپنے بیٹے کے انکار پر اس کااتنا مال چوری کرلے جتنا اس کونفقہ کےلئے ضرورت ہے جبکہ وہاں قاضی نہ ہو ورنہ گنہگار ہوگا۔ (درمختار کتاب الطلاق باب النفقہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۴)۔ردالمحتار میں ہے : سیاتی قریبا لو انفق الابوان ماعندھما للغائب من مالہ علی انفسھما وھو من جنس النفقۃ لایضمنان لوجوب نفقۃ الابوین والزوجۃ قبل القضاء حتی لو ظفر بجنس حقہ فلہ اخذہ ولذافرضت فی مال الغائب بخلاف بقیۃ الاقارب ونحوہ فی المنح والزیلعی وفی زکاۃ الجوھرۃ الدائن اذاظفر بجنس حقہ لہ اخذہ بلا قضاء ولارضاء وفی الفتح عند قولہ ویحلفھا باﷲ مااعطاھا النفقۃ وفی کل موضع جازا القضاء بالدفع کان لھا ان تأخذ بغیر قضاء من مالہ شرعا اھ فیقول المبتغی ولا قاضی ثمۃ محمول علی مااذاکان یاخذہ من خلاف جنس النفقۃ، فلاحاجۃ فیہا الی القاضی وتمامہ فی حاشیۃ الرحمتی وقد اطال واطاب۔ترجمہ: عنقریب آئے گا کہ اگر غائب بیٹے کا مال پاس ہو تو والدین ضرورت نفقہ کے لئے اسے صرف کرلیں در انحالیکہ وہ مال جنس نفقہ ہو تو والدین ضامن نہ ہوں گے کیونکہ والدین اور بیوی کا نفقہ قضاء کے بغیر بھی واجب ہے لہذا وہ اپنے حق والی جنس پر قابو پالیں تو قبضہ کرسکتے ہیں، اسی وجہ سے غائب کے مال میں ان کا نفقہ بقدر ضرورت نافذ ہوتا ہے بخلاف باقی اقارب کے۔ اسی طرح کا بیان منح، زیلعی اور جوہرہ کے باب زکوٰۃ میں ہے، قرض خواہ اپنے حق والی جنس پر قابو پا نے پر لے سکتا ہے خواہ رضا اور قضانہ ہو۔ اورفتح میں اس کے قول کہ''بیوی سے قاضی قسم لے گا کہ خاوند نے مجھے نفقہ نہیں دیا'' کے تحت ہے جہاں قاضی کو بیوی کے لئے نفقہ نافذکرنے کا اختیار ہے وہاں بیوی کو یہ جائز ہے کہ شرعاً وہ بغیر قضاء خاوند کے مال سے حاصل کرلےاھ، تو مبتغی کا یہ قول کہ''وہاں قاضی نہ ہو''یہ اس صورت پر محمول ہے جبکہ غیر جنس نفقہ سے لے، تو جنس نفقہ کی صورت میں قاضی کی ضرورت نہیں، یہ تمام بیان رحمتی کے حاشیہ میں ہے انہوں نے اچھی طوالت سے بیان کیا ہے... یہ فیصلہ قضا ہے اور فیصلہ سعادت وہ تھا انت ومالک لابیک (تواور تیرا مال تیرے باپ کا ہے)۔اپنے دونوں جہان کی بھلائی چاہتا ہے تو اسی فیصلہ پر سر رکھ دے کہ یہ فیصلہ اس کے نبی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہے، اور مسلمان وہی ہے جوان کافیصلہ دل سے مان لے، اﷲ عزوجل فرماتا ہے تیرے رب کی قسم مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں تجھے حکم نہ بنائیں پھر تیرے فیصلہ سے اپنے دلوں میں اصلاً تنگی نہ پائیں گے اور قبول کرلیں مان کر۔ اﷲ عزوجل توفیق عطا فرمائے، آمین!واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ،18/ 310-318، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    کامل مسلمان ہمیشہ دوسروں کے حقوق دبانے یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے،نبی آخر الزماں ﷺکافرمان ہے:"كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ، وَعِرْضُهُ، وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".ترجمہ:مسلمان کی سب چیزیں (دوسرے) مسلمان پرحرام ہیں، اس کا مال،اس کی آبرو اور اس کا خون۔(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی الغیبۃ،4/270،رقم:4882، المكتبة العصريۃ)

    صحیح بخاری کی روایت ہے:" مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ".ترجمہ:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم ہو،ا سے لازم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے ،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں گے۔(صحیح البخاری،كتاب المظالم والغصب،باب من كانت له مظلمة عند الرجل،3/129،رقم:2449،دار طوق النجاۃ)

    علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں:"وان کانت مما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال فتتوقف صحۃ التوبۃ منہا مع ماقدمناہ فی حقوق اﷲ تعالٰی علی الخروج عن عہدۃ الاموال وارجاء الخصم بان یتحلل عنہم ایردھا الیہم اوالی من یقوم مقامہم من وکیل او وارث".ترجمہ:اگر ضائع کردہ حقوق کا تعلق بندوں سے ہو تو صحت تو بہ اس پر موقوف ہے جس کو ہم نے پہلے حقوق اللہ کے ضمن میں بیان کردیا ہے کہ اس کی صورت میں اموال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا اور مظلوم کو راضی کرنا ضروری ہے جن کا مال غصب کیا گیا، وہ انہیں واپس کیاجائے یا ان سے معاف کرایا جائے اور وہ متعلقہ افراد موجود اوربقید حیات نہ ہوں تو ان کے ورثاء متعلقین اور قائم مقام افراد و وکلاء کے ذریعے اموال کی واپسی او ر معافی عمل میں لائی جائے۔(منح الروض شرح فقہ الاکبر،التوبۃ والشرائطہا،ص:158،مصطفی البابی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 14 رجب المرجب 1446 ھ/15 جنوری 2024ء