سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام بابت اس مسئلے کے کہ زید کو وراثت میں ایک مکان اور کچھ زمین ملی ہے ، جس جگہ یہ مکان و زمین ہے وہ زید کا گاؤں ہے، زید کا ددھیال بھی وہیں ہے جبکہ زید کے والد کراچی منتقل ہوچکےتھے اور زید کی پیدائش بھی کراچی کی ہے اور زید اپنے بھائیوں سمیت یہیں رہتا ہے، یہیں بیوی بچے بھی ہیں ۔لیکن کبھی کبھی اپنے گاؤں جاتا ہے ۔ صورت مسئلہ میں جب زید اپنے گاؤں جائیگا تو مسافر تصور ہوگا یا مقیم ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل: مولانا فیاض احمد نعیمی نقشبندی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کراچی زید کا وطن اصلی ہے اور وہ گاؤں جہاں اسکو وراثت میں مکان وغیرہ ملے ہیں ،وہ جگہ اسکا وطن اصلی نہیں ہے لہذا اگر وہ جگہ مسافت سفریعنی کم از کم 92 کلو میٹر کی دوری بنتی ہو اور وہاں پندرہ دن سے کم رہنے کا ارادہ ہوتو مسافر ہوگا ،اس صورت میں قصر نماز پڑھے گا،اور پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کا ارادہ ہو تو مکمل نماز پڑھے گا۔کیونکہ انسان کا وطن اصلی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں اسکی پیدائش ہوئی ہو یا جہاں اسکے بیوی بچے رہتے ہوں یا جہاں اس نے مستقل سکونت اختیار کرلی اور اب یہ ارادہ ہے کہ یہاں سے کہیں اور رحلت نہیں کرے گا۔مذکورہ صورت میں کراچی زید کی جائے پیدائش ہے نیز اسکی مستقل سکونت مع اہل و عیال یہیں کراچی میں ہے تو کراچی وطن اصلی ہے۔ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے :(الْوَطَنُ الْأَصْلِيُّ) هُوَ مَوْطِنُ وِلَادَتِهِ أَوْ تَأَهُّلِهِ أَوْ تُوَطِّنْهُ,ترجمہ: پیدائش ہوئی ہو یا جہاں اس نے شادی کرلی یا کسی جگہ کو اپنی مستقل رہائش گاہ بنا لیا۔
( تنویر الابصار مع الدرالمختار باب صلوۃ المسافر جلد 02 ص 131 الشاملہ)
یوں ہی نورالایضاح مع نجاۃ الارواح میں ہے :والوطن الأصلي هو: الذي ولد فيه أو تزوج أو لم يتزوج وقصد التعيش لا الارتحال عنه،ترجمہ:وطن اصلی وہ جگہ ہے جہاں یہ پیدا ہوا یا جہاں اس نے شادی کرلی یا شادی تو نہ کی لیکن وہاں مستقل رہنے کا ارادہ ہے ،وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔(نورالایضاح مع نجاۃ الارواح ص 88)
جب یہ معلوم ہوا کہ کراچی زید کا وطن اصلی ہے تو جب وطن اصلی سے سفر کی نیت سے نکلے گا تو نماز قصر کرے گا ۔اسی میں ہے :فيقصر الفرض الرباعي من نوى السفر إذا جاوز بيوت مقامه وجاوز أيضا ما اتصل به من فنائه.ترجمہ: جو سفر کی نیت کرے توجب اس جگہ (کہ جہا ں وہ رہتا ہے) کی آبادی اور آبادی سے متصل علاقوں سے تجاوز کرلے تو چار رکعتی (فرض )نماز کو قصر کرکے(دو ) پڑھے گا۔(ایضا)
خلاصہ یہ ہوا کہ زید کا گاؤں مسافت سفر کی دوری پر ہو اور وہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ر کھتا ہو توزید مسافر ہوگا لہذا صرف فرض نماز میں قصر کرے گا ۔ سنتوں میں قصر نہ کرے بلکہ اگر نارمل حالت ہو تو سنتیں پوری پڑھے گا اور خوف کی حالت ہومثلا دورانِ سفر سنتوں میں مشغولیت کے سبب گاڑی چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو(یا اس طرح کا کوئی اور معاملہ ہو) تو سنتیں معاف ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11 ربیع الاول 1440 ھ/20 نومبر2018 ء