سوال
کیا میں اپنی تمام جائیداد اپنی بیوی کے نام کرسکتا ہوں؟ تا کہ میرے مرنے کے بعد میرے بچے میری بیوی کی خدمت کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔پھر میری بیوی کے مرنے کے بعدترکہ میں جائیداد تقسیم ہو۔کیا میرا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟
سائل: محمد پرویز عالم،اورنگی ٹاؤن کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعت مطہرہ کا موضوع انسان ہے جس میں انسان سے متعلق دینی ،معاشی ،عائلی (گھریلو) معاشرتی الغرض ہر قسم کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔انہی میں سے مورث کا اپنی وارثین کیلئے ترکہ چھوڑنا ہے جو کہ انکی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرسکے۔وارثین میں سے کسی ایک کو کل ترکہ دینا اگرچہ جائز ہے لیکن یہاں دیگر ورثاء کو محتاج چھوڑنا اور وارث کو ترکہ دینے سے بھاگنا پایا جارہا ہے جس کے متعلق احادیث مبارکہ میں منع اور وعید وارد ہوئی ہے۔لہذا بہتر یہ ہے کہ اللہ عزوجل پر توکل کریں اور شیطانی وساوس کو دور کریں۔
البتہ اگر اولاد کا ظاہر درست نہیں کہ مذکورہ خدشات پر آپ کا ظن غالب ہےتو بیوی کے نام کل جائیداد کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ آپ بیوی کو کل جائیداد ہبہ (تحفہ)کردیں۔البتہ تحفہ دینے میں قبضہ دلاناضروری ہے ورنہ ملکیت منتقل نہیں ہوگی۔اگر تو جائیداد میں منقولی چیزیں ہیں (یعنی جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے)تو ان کو ہاتھ میں دے دیں قبضہ ہوجائے گا۔اور اگر غیر منقولی ہیں جیسا کہ زمین وغیرہ تو یہاں تخلیہ (یعنی جگہ خالی کردینا)ہی کافی ہے۔اور اگر تخلیہ کرنا ممکن نہ ہو تو کل جائیداد بیوی کو کسی عوض بیچ دےاسکے بعد عوض معاف کردے۔مثلاً جس گھر میں آپ رہتے ہیں اس میں تخلیہ ممکن نہ ہو کہ آپ سارا سامان کہیں لے جانہیں سکتے تو ایسی صورت میں کسی عوض اسے بیوی کو بیچ دیں پھر عوض معاف کردیں۔کیونکہ ہبہ (تحفہ) تام ہونے میں قبضہ شرط ہے لیکن بیع کی تمامیت کیلئے یہ شرط نہیں۔
دلائل و جزئیات:
صحیح بخاری کی روایت ہے:"عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، قَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ: «فَالثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ، حَتَّى اللُّقْمَةُ الَّتِي تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ،وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَكَ، فَيَنْتَفِعَ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ» ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ".ترجمہ:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ(حجۃ الوداع میں) میری عیادت کو تشریف لائے ‘ میں اس وقت مکہ میں تھا۔ نبی کریم ﷺ اس سر زمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کرچکا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ ابن عفراء (سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے۔ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنے سارے مال و دولت کی وصیت کر دوں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا :نہیں میں نے پوچھا پھر آدھے کی کر دوں ؟ آپ ﷺ نے اس پر بھی یہی فرمایا :نہیں میں نے پوچھا پھر تہائی کی کردوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا :تہائی کی کرسکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انھیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تم اپنی کوئی چیز (اللہ کے لیے خرچ کرو گے) تو وہ خیرات ہے۔یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے (وہ بھی خیرات ہے) اور (ابھی وصیت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں) ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے اور اس کے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو اور دوسرے بہت سے لوگ (اسلام کے مخالف) نقصان اٹھائیں۔ اس وقت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی صرف ایک بیٹی تھی۔(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب أن يترك ورثته أغنياء خير من أن يتكففوا الناس،4/3،رقم:2742،دار طوق النجاۃ)
سنن ابن ماجہ کی روایت ہے:"عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»".ترجمہ: جو اپنے وارث کو اپنا ترکہ پہنچنے سے بھاگے اﷲ تعالی روز ِقیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الوصایا،باب الحیف فی الوصیۃ،2/902،رقم:2703،دار احیاء الکتب العربیۃ)
مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اگر حالت صحت میں اپنا مال اپنی ملک سے زائل کردے تو وارث کچھ نہ پائے گا کہ جب ترکہ ہی نہیں تو میراث کا ہے میں جاری ہو؟ مگر اس قصد ناپاک سے جو فعل کریگا عنداﷲ گنہگاروماخوذرہے گا‘‘۔(فتاوی رضویہ،18/169،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں:"وأكثر العلماء على أن الظن القبيح بمن ظاهره الخير لا يجوز، وأنه لا حرج في الظن القبيح بمن ظاهره القبح، قاله المهدوي".ترجمہ:اکثرعلماء کی رائے یہ ہے کہ جس آدمی کا ظاہر اچھا ہو اس کے بارے میں برا گمان جائز نہیں جس کا ظاہرقبیح ہو اس کے بارے میں برا گمان رکھنے میں کوئی حرج نہیں یہ مہدوی نے کہا ہے ۔(تفسیر القرطبی،16/332،تحت سورۃ الحجرات،آیت:12،دار الکتب المصریۃ)
قبضہ کے بغیر شے میں ملکیت ثابت نہیں ہوتی،الفتاوی الہندیۃ میں ہے :"لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض".ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الھبۃ ،الباب الاول ،4/417، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
قبضہ کی اقسام کے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) البحر الرائق کے حاشیہ میں فرماتے ہیں: "قَالَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ الْهِبَةَ لَا تَتِمُّ إلَّا بِالْقَبْضِ وَالْقَبْضُ نَوْعَانِ حَقِيقِيٌّ وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ وَحُكْمِيٌّ وَذَلِكَ بِالتَّخْلِيَةِ".ترجمہ:فتاویٰ تتارخانیہ میں ہے:ہم ذکر چکے ہیں کہ بے شک ہبہ قبضہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ، اور قبضہ کی دو قسمیں ہیں:(1) حقیقی : وہ تو ظاہر ہے اور (2) حکمی: تو وہ تخلیہ سے ہوتا ہے ۔( منحۃ الخالق والبحر الرائق ،7/486،دار الکتاب کوئٹہ)
قبضہ حکمی کے متعلق علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:" أَنَّ التَّخْلِيَةَ قَبْضٌ حُكْمًا لَوْ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهِ بِلَا كُلْفَةٍ لَكِنَّ ذَلِكَ يَخْتَلِفُ بِحَسَبِ حَالِ الْمَبِيعِ، فَفِي نَحْوِ حِنْطَةٍ فِي بَيْتٍ مَثَلًا فَدَفْعُ الْمِفْتَاحِ إذَا أَمْكَنَهُ الْفَتْحُ بِلَا كُلْفَةٍ قَبْضٌ، وَفِي نَحْوِ دَارٍ فَالْقُدْرَةُ عَلَى إغْلَاقِهَا قَبْضٌ أَيْ بِأَنْ يَكُونَ فِي الْبَلَدِ فِيمَا يَظْهَرُ، وَفِي نَحْوِ بَقَرٍ فِي مَرْعًى فَكَوْنُهُ بِحَيْثُ يُرَى وَيُشَارُ إلَيْهِ قَبْضٌ وَفِي نَحْوِ ثَوْبٍ، فَكَوْنُهُ بِحَيْثُ لَوْ مَدَّ يَدَهُ تَصِلُ إلَيْهِ قَبْضٌ، وَفِي نَحْوِ فَرَسٍ أَوْ طَيْرٍ فِي بَيْتٍ إمْكَانُ أَخْذِهِ مِنْهُ بِلَا مُعِينٍ قَبْضٌ. ".ترجمہ:بلا شبہ تخلیہ حکما قبضہ ہے اگر اس چیز پر بلا تکلف قدرت کے ساتھ ہو؛ لیکن یہ قبضہ مبیع کی حالت و کیفیت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے ، پس مثال کے طور پر گھر میں رکھی ہوئی گیہوں جیسی چیز میں گھر کی کنجی دے دینا جبکہ بلا تکلف اس کو کھول سکتا ہو یہ قبضہ ہے۔ اور گھر جیسی چیز میں اس کے تالا لگانے کی قدرت ہو تو یہ قبضہ ہے ، یعنی جبکہ وہ شخص شہر میں ہو جیسے کہ ظاہر ہے اورچراگاہ میں موجودگائے جیسی چیز میں اس کا ایسی جگہ ہونا کہ اس کو دیکھا اور اس کی جانب اشارہ کیا جا سکے قبضہ ہے اور کپڑے جیسی چیز میں اس کا اس طرح ہونا کہ اس کی جانب ہاتھ بڑھا سکے، قبضہ ہے اور گھر کے اندر کے گھوڑے یا پرندے جیسے چیز میں اس کو بلا کسی مددگار کے لے سکنا قبضہ ہے۔(رد المحتار،4/562،دار الفکر بیروت)
ایجاب و قبول سے بیع تام ہوجاتی ہے،چنانچہ علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"قال البيع ينعقد بالإيجاب والقبول... وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية".ترجمہ:ایجاب و قبول سےبیع منعقد ہوجاتی ہے۔جب ایجاب و قبول پایا گیا تو بیع لازم ہوگئی اور سوائے خیارِ عیب اور خیارِ رؤیت کے بائع و مشتری میں سے کسی کو بھی خیار نہیں ہوگا۔(الہدایہ،کتاب البیوع،3/23،دار احیاء التراث العربی)
اسی طرح سوال کے متعلق مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اگر کسی شخص ایک شے مشاع ہبہ کرنا چاہے اور جانے کہ ہبہ بوجہ شیوع فاسد ہوجائیگا، تو علماء فرماتے ہیں اس مشاع کو اس کے ہاتھ بیع کرے اور ثمن معاف کرے کہ اس کی غرض یعنی تملیک بلا عوض بھی حاصل ہوجائے گی، اور بدیں وجہ کہ یہ عقد شرعاً بیع ہے فاسد بھی نہ ہوگا‘‘۔(فتاوی رضویہ،17/249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"مَنْ أَرَادَ أَنْ يَهَبَ نِصْفَ دَارٍ مَشَاعًا يَبِيعُ مِنْهُ نِصْفَ الدَّارِ بِثَمَنٍ مَعْلُومٍ ثُمَّ يُبْرِيهِ عَنْ الثَّمَنِ بَزَّازِيَّةٌ". ترجمہ: جو غیر منقسم آدھا مکان ہبہ کرنا چاہے تو وہ آدھا مکان موہوب لہ کے ہاتھ بیچ کر ثمن سے اس کو بری کردےایسا ہی بزازیہ میں ہے۔(رد المحتار،کتاب الہبۃ،5/688،دار الفکر) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 9 ذوالحجہ 1444 ھ/28 جون2023ء