نماز میں ایسی غلطی کرنا جس سے معنی فاسد ہوں
    تاریخ: 1 جنوری، 2026
    مشاہدات: 33
    حوالہ: 507

    سوال

    اگر کوئی شخص نماز میں دورانِ تلاوت جس جگہ موسٰی یا عیسٰی کا لفظ آتا ہے اس جگہ بھولے سے موسٰی یا عیسٰی کے آگے بن لقمان پڑھ لیتا ہے، تو کیا ایسے شخص کی نماز فاسد ہوجائے گی یا نہیں ؟ زید کہتا ہے کہ اگر موسٰی بن لقمان پڑھا تو فاسد نہ ہوگی ۔عیسٰی بن لقمان پڑھا تو فاسد ہوجائے گی۔رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:عبدالسبحان:سکھر


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قرات میں غلطی سے نماز فاسد ہونے یا نہ ہونے کے سلسلے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی کی جس سے معنٰی فاسد ہوں تو نماز فاسد ہوجائے گی ورنہ نماز فاسد نہ ہوگی۔نیز اگر دوران قرات غلطی سے ایک اسم کی طرف دوسرے اسم کی نسبت کردی تو اگر قرآن میں وہ نسبت موجود نہ ہو تو بالاتفاق نماز فاسد ہے۔اور اگر قرآن میں وہ نسبت موجود ہو تو صحیح قول کے مطابق نماز فاسد نہ ہوگی یہی اکثر علماء کا مختار ہے۔

    لہذا صورت مسئولہ زید کا قول درست و صحیح ہے کہ عیسٰی بن لقمان کہنے سے نماز فاسد ہوجائے گی جبکہ موسٰی بن لقمان کہنے کی صورت میں فاسد نہ ہوگی۔اسکی پہلی وجہ یہ ہے کہ عیسٰی بن لقمان کہنے سے معنٰی میں فساد ہے کیونکہ جناب عیسٰی کو اللہ کریم نے اپنی قدرت کاملہ سے بن باپ پیدا کیاتو جب کوئی عیسٰی بن لقمان کہے گا تو اس صورت میں فساد معنٰی لازم آئے گا۔ جوکہ فساد صلوۃ کو مستلزم ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ عیسٰی بن لقمان کہنے سے ایک اسم کی دوسرے کی طرف ایسی نسبت سے جو کہ قرآن میں مذکور نہیں کیونکہ قرآن میں ہر جگہ عیسٰی بن مریم مذکور ہے۔اور ایسی نسبت کرنا بھی مفسد نماز ہے۔(کمامر)

    فتاوٰی ھندیہ میں کلمہ کی زیادتی کی صورت میں فساد و عدم فساد سے متعلق مذکور ہے: (ومنها) زيادة حرف إن زاد حرفا فإن كان لا يغير المعنى لا تفسد صلاته نحو أن يقرأ وانهى عن المنكر بزيادة الياء، وإن غير المعنى تفسد هكذا في الخلاصة: ترجمہ:اور ان میں سے ایک صورت حرف زائد کرنے کی ہے۔ کہ اگر کوئی حرف زائد کیا تو اگر معنٰی نہ بگڑ ے نماز فاسد نہ ہوگی،جیسے وانہ عن المنکر میں المنکر کے بعد ی کا اضافہ کیا۔(تو فاسد نہ ہوگی)اور اگر معنٰی بگڑ جائے تو فاسد ہوجائے گی۔خلاصہ میں اسی طرح ہے۔(الفتاوٰی الھندیہ ،کتاب الصلوۃ،باب صفۃ الصلوۃ،الفصل الخامس جلد 1 ص 79)

    اسی میں ایک اور مقام پر ہے: ولو نسب إلى غير ما نسب إليه إن لم يكن المنسوب إليه في القرآن نحو مريم ابنة غيلان تفسد بلا خلاف، ولو كان في القرآن نحو مريم ابنة لقمان وموسى بن عيسى لا تفسد عند محمد - رحمه الله تعالى - وعليه عامة المشايخ ولو قرأ عيسى بن لقمان تفسد ولو قرأ موسى بن لقمان لا؛ لأن عيسى لا أب له وموسى له أب كذا في الوجيز للكردري۔ ترجمہ:اور اسم کو اسکے غیر کی طرف منسوب کیا تو اگر منسوب الیہ قرآن میں نہ ہو جیسے مریم بنت غیلان کہا تو بالاتفاق نماز فاسد ہوجائے گی۔ اور اگر منسوب الیہ قرآن میں موجود ہو جیسے مریم بنت لقمان تو امام محمد کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی ،اسی پراکثر مشائخ ہیں۔اور اگر عیسٰی بن لقمان پڑھا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ اوراگر موسٰی بن لقمان پڑھا تو فاسد نہ ہوگی کیونکہ عیسٰی بن باپ پیدا ہوئے اور موسٰی باپ سے پیدا ہوئے ۔ علیھم السلام اسی طرح وجیز للکردی میں ہے۔(الفتاوٰی الھندیہ ،کتاب الصلوۃ،باب صفۃ الصلوۃ،الفصل الخامس جلد 1 ص 80)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 صفر المظفر 1441 ھ/10 اکتوبر 2019 ء