بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرنا اور والدین کی توہین کرنے کا حکم
    تاریخ: 1 جنوری، 2026
    مشاہدات: 41
    حوالہ: 509

    سوال

    میری بیوی مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور میرا مکان بھی مجھ سے مانگ رہی ہے۔بچے بھی مکان سے حصے مانگ رہے ہیں۔میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا۔لیکن میری بیوی بچے اور سالے مجھ سے زبردستی کر رہےہیں کہ جب عورت تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اسے چھوڑتے کیوں نہیں۔میرے بچے جوان ہیں ،انہوں نے مجھے مارا پیٹا بھی ہے۔برائے مہربانی شریعت کا حکم بیان فرمائیں۔

    سائل: اصغر علی، لیاقت آباد کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بغیر شرعی عذر کے عورت کا طلاق کا مطالبہ کرنا گناہ ہے، اور اس پر سخت وعید آئی ہے۔نیز اولاد کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے والدین کی حیات میں ان سے جبرًا حصہ طلب کریں، اگر اس مطالبے سے ان کو اذیت پہنچتی ہو تو یہ مطالبہ بھی ناجائزو حرام ہوگا۔اور والدین کو مارنا پیٹنا تو دور انہیں جھڑکنا تک منع ہے،اولاد پر لازم ہے کہ اپنے والد سے فوری معافی مانگیں اور رب تعالی سے توبہ کریں۔

    یاد رہے ترکہ انتقال کے بعد تقسیم ہوتا ہے اس سے پہلے شخص اپنی چیزوں پر مالکانہ قدرت رکھتا ہے،یعنی اسکی اجازت و رضا کے بغیر کسی کو بھی (چاہے بیوی ہو یا بچے)یہ حق نہیں کہ اسکی ملک میں تصرف کرے۔اگر بلااجازت کوئی تصرف کرتا ہے تو گناہ کا مرتکب ہوگا اور کل بروز قیامت اس کا جواب دہ ہوگا۔

    دلائل و جزئیات:

    بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت جنت کی خوشبو نہیں پاسکے گی،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:"«أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ»".ترجمہ:جو عورت بلا وجہ شوہر سے طلاق طلب کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔(سنن ابی داود،کتاب الطلاق،باب فی الخلع،2/268،رقم:2226،المکتبۃ العصریہ)

    والدین کے حقوق کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے:"وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا".ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ (بنی اسرائیل:23)

    والدین کے نافرمان کے متعلق حدیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہے،حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" كُلُّ الذُّنُوبِ يَغْفِرُ اللهُ مِنْهَا مَا شَاءَ، إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ، فَإِنَّهُ يُعَجَّلُ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَيَاةِ قَبْلَ الْمَمَاتِ".ترجمہ:ماں باپ کی نافرمانی کے علاوہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ میں سے جسے چاہے معاف فرما دے گا جبکہ ماں باپ کی نافرمانی کی سزا انسان کو موت سے پہلے زندگی ہی میں مل جائے گی۔( شعب الایمان، فصل فی عقوق الوالدین،6/197،رقم الحدیث:7890،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    بخاری شریف کی روایت ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"«ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟» ثلاثا، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: «الإشراك بالله، وعقوق الوالدين".ترجمہ:میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب کبیرہ گناہوں سے سخت تر گناہ کیاہے، کیانہ بتادوں کہ سب کبائر سے بدترکیاہے، کیانہ بتادوں کہ سب کبیروں سے شدیدتر کیاہے۔صحابہ نے عرض کی : ارشاد ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالی کاشریک ٹھہرانا اور ماں باپ کوستانا۔(صحیح البخاری ،کتاب الشہادات ،باب ماقیل فی شہادۃ الزور،3/172،رقم الحدیث:2654،دار اطوق النجاۃ)

    اسی قسم کا سوال امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے ہوا کہ بیٹے نے اپنے باپ کی نافرمانی اختیار کر کے کل جائداد پر قبضہ کرلیا اور باپ کیلئے کچھ نہ چھوڑا بلکہ تذلیل و توہین کے درپے ہوگیا، حالانکہاللہ جل شانہ نے والد کی اطاعت کا حکم دیا ہے،تو کیا اس صورت میں اللہ عزوجل کے فرمان کا خلاف کیا؟ کیا وہ اللہ جل شانہ کے حکم کا منکر ہوا؟ایسے شخص کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے؟آپ علیہ الرحمہ نے جوابا ارشاد فرمایا:’’پسرِ مذکور(یعنی بیٹا)، فاسق، فاجر، مرتکبِ کبائر، عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضبِ الہی کا استحقاق، باپ کی نافرمانی اللہ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جبار وقہار کی ناراضی ہے ، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔جب تک باپ کو راضی نہ کریگا اس کا کوئی فرض ، کوئی نفل ، کوئی عملِ نیک اصلاً قبول نہ ہوگا۔عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہوگی مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،24/383-384،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    بلا اجازت دوسرے کا مال لینا ناحق مال کھانا ہے،ارشاد باری تعالی ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ۔ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرة: 188)

    آیت ِمذکور کے تحت علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں: "والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه ".ترجمہ:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو۔ (الجامع لاحکام القرآن،2/338،تحت سورۃ البقرۃ:188،دار الکتب المصریۃ)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 2ذو القعدہ 1445 ھ/11مئی 2024ء