سوال
دوران نمازکوئی برا وسوسہ آجانے کی صورت میں زبان سے استغفر اللہ نکل جائے تو اس سے نماز ٹوٹے گی یا نہیں ؟
سائل: محمد شمس خان: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر نماز میں کوئی برا وسوسہ آئے اوراس وسوسہ کو دور کرنے کے لیے کسی کی زبان سے لاحول یا اس جیسے الفاظ نکل جائیں تاکہ وسوسہ دور ہوجائے اور نماز میں کامل خشوع و خضوع حاصل ہوجائے تو ایسا کرنے سے نماز فاسد نہ ہوگی،البتہ اگر وسوسہ کسی دنیاوی غرض سے ہو جیسے کاروبار وغیرہ ،اور پھر زبان سے یہ الفاظ نکلیں تو نماز فاسد ہوجائے گی،جیساکہ الدرالمختار ، البحرالرائق وغیر میں ہے: واللفظ للاولوَلَوْ حَوْقَلَ لِدَفْعِ الْوَسْوَسَةِ إنْ لِأُمُورِ الدُّنْيَا تَفْسُدُ لَا لِأُمُورِ الْآخِرَةِ،ترجمہ:اگر وسوسہ دور کرنے کے لیے لاحول کہا اگر تو امور دنیا کے لیے ہے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر امور آخرت کے لیے ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی۔(الدر المختار مع رد المحتار ،کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا،جلد 1 ص 621،البحر الرائق کتاب الصلوۃ جلد 2 07)مذکورہ صورت میں کیونکہ یہ وسوسہ دنیاوی اغراض سے نہیں ہے لہذا نماز فاسد نہ ہوگی ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 جمادی الثانی 1440 ھ/15 فروری 2019 ء