نماز کی دعوت کا شرعی طریقہ اور ہدایات
    تاریخ: 1 جنوری، 2026
    مشاہدات: 36
    حوالہ: 505

    سوال

    1: نماز کی دعوت کس طرح دینی چاہیے؟؟

    2:کیا اس کے لیے اس طرح ڈانٹ ڈپٹ کرنا جائز ہےجس سے سننے والا اپنی بے عزتی محسوس کرے ؟؟

    3: نیز جو سختی نماز کے لیے ہونی چاہیے کیا وہ ہی سختی جماعت کے لیے کرسکتے ہیں؟؟

    4:بعض لوگ آذان ہوتے ہی جماعت کی تیاری نہیں کرتے بلکہ وقتِ آخر کا انتظار کرتے ان سے سختی سے پیش آنا کیسا؟

    سائل:عبداللہ: کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں دعوت دین اور تبلیغ دین کے واضح اور رہنما اصول ملتے ہیں ۔

    تبلیغِ دین خواہ نماز کی دعوت کے بنیا دی اصول قرآن کی رو شنی میں:

    سورۃ النحل میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۔ترجمہ:آپ انہیں اپنے رب کی راہ کی طرف بلا ئیں حکمت عمدہ نصیحت اور احسن طریق سے بحث و تمحیص کے ذریعے۔(النحل: 125)

    اس آیت مبارکہ میں تبلیغ دین کے تین اصولوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ (1)حکمت (2) وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ یعنی عمدہ نصیحت (3)احسن طریق سے بحث۔

    1:حکمت سے مراد: دانائی کے ساتھ مخا طب کی ذہنیت، استعدادا اور حا لا ت کو سمجھ کر مو قع و محل کی مناسبت سے بات کی جا ئے ۔ہر قسم کے لو گوں کو ایک ہی لا ٹھی سے نہ ہانکا جا ئے جس شخص یا گرو ہ سے سابقہ پیش آئے اس کے مرض کی تشخیص کی جا ئے پھر ایسے دلا ئل سے اس کا علاج کیا جا ئے جو اس کے دل و دماغ کی گہرا ئیوں سے اس کے مرض کی جڑ نکال سکتے ہیں۔ نہایت سنجید ہ طریقے سے مخا طب کی ذہنیت کا لحا ظ رکھتے ہوئے بات پیش کی جا ئے۔

    2: وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ یعنی عمدہ نصیحت سے مراد:اس کا مطلب ہے کہ نہا یت مو ثر اور رقت آمیز نصیحت سے نرم خوئی اور دلسوزی کے ساتھ بات پیش کی جا ئے ۔اخلا ص ہمدردی شفقت اور حسن اخلاق کے ساتھ خوبصورت اور معتدل انداز سے نصیحت ان لوگوں کے لیے زیادہ مؤثر ہوتی ہے جو زیادہ عالی دماغ اور ذکی و فہیم تو نہیں ہو تے مگر ان کے دل میں طلب حق کی چنگا ری مو جو د ہو تی ہے۔ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ مخاطب کو صرف دلا ئل ہی سے مطمئن نہ کیا جا ئے بلکہ اس کے جذبات کو بھی اپیل کیا جا ئے ۔برا ئیوں اور گمراہیوں کا ابطال محض عقلی انداز سے ہی نہ کیا جا ئے بلکہ اس کے اندر اللہ نے برا ئی کے لیے جو فطری نفرت رکھی ہے۔ اسے بھی ابھا را جا ئے اور اس کے برے نتا ئج کا خوف دلا یا جائے ۔ہدایت اور اعمال صا لحہ کی محض تلقین ہی نہ کی جا ئے بلکہ ان کی حقانیت عقلاً بھی ثا بت کی جا ئے اور ان کی رغبت و شوق اس کے اندر سے بھی پیدا کی جا ئے نصیحت دل سوزی کے ساتھ پیش کی جا ئے اپنی علمی بالا دستی اور دوسرے کی کم علمی کو نہ ابھا را جا ئے بلکہ خیر خواہا نہ اندا ز سے بات کی جائے ۔

    3: وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا معنی یہ ہے کہ اول تو بحث و تمحیص سے گریز کیا جا ئے لیکن اس کی نو بت آہی جا ئے تو پھر نہا یت احسن و موزوں اندا ز اپنا جا ئے ۔یہ با ت ذہن میں رکھی جا ئے کہ با طل ہمیں ادھر ادھر کی بحثوں میں الجھا کر ہمیں ہمارے نصب العین سے ہٹا نااور الجھا نا چاہے گا تا کہ ہماری صلا حیتیں اور اوقات اسی طرف صرف ہوں ۔ مزید یہ کہ ایسےکچھا ؤکی فضا بن جا ئے کہ حق بات قبول کرنے کے احکا مات اور فضا موزوں نہ رہے لہٰذا اگر بحث کرنی ہی پڑے تو شائستگی کے ساتھ کہ فضا مکد ر نہ ہو نے پا ئے بحث برا ئے بحث کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ ہو۔حق شناسی اور انصاف کا دا من نہ چھوڑا جا ئے۔

    بے نمازی شخص کو نماز کی دعوت دینے کا بہترین طریقہ درج ذیل نکات میں محصور ہے:

    1:بے نمازی شخص کو یاد دہانی کروائیں کہ نماز فرض ہے اور شہادتین کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن ہے

    2:نماز کے فضائل ذکر کریں، مثلاً: نماز اللہ تعالی کی طرف سے بندوں پر فرض کردہ سب سے اعلی ترین عبادت ہے، قرب الہی کا سب سے بہترین ذریعہ ہے، دینی امور میں سب سے پہلے نماز کا ہی حساب لیا جائے گا، پانچوں نمازیں درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے، ایک سجدے کے بدلے میں اللہ تعالی بندے کا درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے۔ اسی طرح دیگر نماز کے ثابت شدہ فضائل ذکر کریں؛ کیونکہ فضائل ذکر کرنے سے انسان کا دل موم ہو جاتا ہے ۔ان شاء اللہ مخاطب آپ کی ترغیب پر عمل بھی کرے گا، اللہ تعالی سے امید واثق ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز تھی اسی طرح اس شخص کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی نماز بن جائے۔

    3:بے نمازی شخص کے بارے میں آنے والی سخت وعیدیں انہیں سنائیں اور ایسے شخص کے کافر اور مرتد ہونے کے متعلق علمائے کرام کا اختلاف ذکر کریں، یہ بھی بتلائیں کہ اسلام بے نماز شخص کو لوگوں میں آزادانہ زندگی کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ بے نمازی کے متعلق واجب یہ ہے کہ اسے نماز کی دعوت دی جائے گی اور اگر وہ بے نماز ہی رہے تو وہ امام احمد اور ان کے ہم موقف سلف صالحین کے ہاں مرتد ہے ، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے موقف کے مطابق اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا، چنانچہ بے نمازی کی آزادانہ زندگی کا کوئی بھی اہل علم قائل نہیں ہے، لہذا بے نمازی کو کہا جائے گا کہ کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ اہل علم آپ کے متعلق مختلف آراء رکھیں؟

    4:بے نمازی کو اللہ تعالی سے ملاقات ، موت اور قبر یاد کروائیں، بے نمازی کے برے انجام اور عذاب قبر میں اس کے ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے یہ بھی بتلائیں۔

    5: اسے بتلائیں کہ مقررہ وقت سے نماز کی تاخیر کرنا کبیرہ گناہ ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيّاًترجمہ: ان کے بعد نا خلف لوگ آئے انہوں نے نمازیں ضائع کیں اور شہوت پرستی میں لگ گئے، عنقریب وہ جہنم کی وادی میں گریں گے۔ (مريم:59)

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ" غی"سے مراد جہنم کی وادی ہے جس کی گہرائی بہت زیادہ اور اس کا کھانا انتہائی خبیث ہے اللہ فرماتے ہیں:فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ۔ترجمہ:ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں ۔( الماعون:4، 5)

    لہذا ان تمام باتوں کو مدِ ظر رکھتے ہوئے دینی احکام کی تبلیغ کی جائے۔

    2:نماز کے لئے غیر قاضی کو کسی بھی شخص پر ایسی سختی کرنا جائز نہیں کہ جس سے وہ اپنی بے عزتی محسوس کرے۔رسول اللہ ﷺ نے کسی مسلمان کی بلاوجہ بے عزتی کو سود سے بڑھ کر گناہ قرار دیا ہے چناچہ سنن ابو داؤد میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ، اسْتِطَالَةَ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَمِنَ الكَبَائِرِ السَّبَّتَانِ بِالسَّبَّةِ۔ ترجمہ: بلاشبہ کبیرہ گناہوں میں ایک بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کی ناحق ہتک اور توہین کر دے۔(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4877)

    اسی طرح شعب الایمان میں ہے: عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " أَخْبِرُونِي مَا أَرْبَى الرِّبَا؟ " قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " فَإِنَّ أَرْبَى الرِّبَا عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ اسْتِحْلَالُ عِرْضِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا} [الأحزاب: 58]۔ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے دریافت فرمایا:’’کیا تم جانتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سود سے بڑا گناہ کون سا ہے؟‘‘صحابۂ کرام نے عرض کی:’’اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سود سے بڑھ کر گناہ مسلمان کی عزت کو حلال سمجھناہے۔‘‘ پھرآپ ﷺنے یہ آیت ِ کریمہ تلاوت فرمائی: وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکْتَسَبُوۡا فَقَدِ احْتَمَلُوۡا بُہۡتٰنًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا۔(پ۲۲، الاحزاب:۵۸)ترجمۂ کنزالایمان:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلاگناہ اپنے سر لیا۔(شعب الایمان للبیھقی حدیث نمبر 6285)

    3:کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد سب سے پہلا فرض نماز اپنے وقت پر ادا کرنا ہے، ادائیگی نماز کی قرآن و حدیث میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔یہی وجہ سے کہ سوائے بے ہوشی کے ہر حالت میں نماز فرض ہے،یعنی نماز پڑھنا کسی صورت معاف نہیں ہے بلکہ ہر صورت میں نماز پڑھنا لازم ہے ،اگر کسی کو مسجد میں آنے کی طاقت نہ ہو تو اس پر گھر میں پڑھنا لازم ہے، یونہی کھڑے ہوکر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کرپڑھے، بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر پڑھے۔لیکن جماعت کا درجہ فرضیت نماز سے کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اعذار کی بناء پر جماعت ترک کرنا جائز ہے۔ چناچہ فقہ حنفی کی مشہورِ کتاب نورالایضاح میں ترکِ جماعت کے 18 اعذار ذکر کئے گئے ہیں ،چناچہ اسی میں ہے: يسقط حضور الجماعة بواحد من ثمانية عشر شيئا:1-مطر 2 - وبرد 3 - وخوف4 - وظلمة 5 - وحبس 6 – وعمى،7 - وفلج 8 - وقطع يد ورجل 9 - وسقام10 - وإقعاد 11 - ووحل 12 - وزمانة13 - وشيخوخة 14 - وتكرار فقه بجماعة تفوته15 - وحضور طعام تتوقه نفسه 16 - وإرادة سفر17 - وقيامه بمريض 18 - وشدة ريح ليلا لا نهاراوإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها المبيحة للتخلف يحصل له ثوابها.ترجمہ:اٹھارہ چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی وجہ سے جماعت میں حاضر ہونا ساقط ہوجاتا ہے، 1:بارش۔2:برف باری۔3:دشمن کا ڈر۔4:سخت اندھیرا۔5:قید۔6:اندھاپن۔7:فالج۔ 8:ہاتھ پاؤں کا کٹا ہونا۔9:سخت بیماری۔10:مارے جانے کی وجہ۔11:سخت کیچڑ۔ 12: اپاہج پن۔13: بڑھاپے کی وجہ سے۔14: فقہ کا تکرار ہورہا ہو اگر جماعت میں گیا تو تکرار فوت ہوجائے گا ۔15:کھانا کا موجود ہونا جبکہ دل کھانے کی جانب مائل بھی ہو۔16:سفرکی تیاری۔ 17:مریض کی عیادت کی وجہ سے۔ 18:رات میں سخت تیز ہوا کا چلنا نہ کہ دن میں۔اور جب کسی عذر جائز کی بناء پر جماعت ترک ہوجائےتو بھی اسے جماعت کا ثواب مل جائے گا۔(نور الایضاح و نجاۃ الارواح ص 65۔66)

    البتہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جماعت سے نماز پڑھنا واجب اور سنن ھدٰی میں ہے ،اور بلا عذر شرعی جماعت کے ترک کرناگناہ کبیرہ ہے ،نیز جماعت ترک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محرومی کا اندیشہ بھی ہے،اس لیے ادارے میں کام کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ از خود جماعت میں حاضر ہوں اور ہرگز جماعت ترک نہ کریں بلکہ اگر وضو وغیرہ نہ ہو تو جماعت سے پہلے ہی وضو کرکے مسجد میں حاضر رہیں ۔تاکہ اس طرح کی نوبت ہی نہ آئے۔شامی میں ہے: فی التلویح: ترک السنة الموٴکدة قریب من الحرام یستحق حرمان الشفاعة ومقتضاہ أن ترک السنة الموٴکدة مکروہ تحریماً لجعلہ قریباً من الحرام، والمراد بھا سنن الھدی کالجماعة والأذان والإقامة؛ فإن تارکھا مضلل ملوم کما فی التحریر، والمراد الترک علی وجہ الإصرار بلا عذر۔ ترجمہ: تلویح میں ہے کہ سنت مؤکدہ کا ترک کرنا حرام کے قریب ہے ،ایسا شخص شفاعت سے مرحوم ہوگا۔اور اسکا تقاضا یہ ہے کہ سنت موکدہ کا ترک مکروہ تحریمی ہے،کیونکہ یہ حرام کے قریب ہے۔اور اس سے مراد سنن ھدٰی ہے جیسے اذان، اقامت اور جماعت، کیونکہ اسکا تارک گمراہ ہے، جبکہ ترک عادتا اور بلاعذر ہو۔(شامی ، أول کتاب الحظر والإباحة، ٓجلد 09 ص 487)

    لہذا جو سختی نماز کے لئے ہے جماعت کے لئے نہیں کی جاسکتی ۔

    4:جو شخص مسجد کی کسی قریبی جگہ میں موجود ہو اور مسجد میں آنے کے لئے امام کی تکبیر اولٰی کا انتظار کرے تو ایسے شخص کے لئے فقہاء کرام نے فرمایا کہ کسی معاملے میں اسکی گواہی معتبر نہ ہوگی۔

    لہذا کسی بھی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اذان لگنے کے بعد بیٹھے رہیں اور جب تکبیر کہی جانا شروع ہو تو اس وقت اپنی سیٹ سے اٹھ کر وضو کرنے جائیں ، وگرنہ لازما جانتے بوجھتے تکبیرِ اولٰی ترک کرنے والے شمار ہونگے۔اور ممکن ہے کہ تکبیرِ اولٰی کی فضیلت یا پہلی رکعت فوت کردیں۔

    تکبیر تحریمہ یا تکبیرِ اولٰی کی فضیلت کے بارے میں کثیر احادیث وارد ہوئی ہیں ، جیساکہ ترمذی میں ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الأُولَى كُتِبَ لَهُ بَرَاءَتَانِ: بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ ۔ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:'جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت صلاۃ پڑھی تو اس کے لیے دوقسم کی برأت لکھی جائے گی: ایک آگ سے برأت، دوسری نفاق سے برأت۔(ترمذی، حدیث نمبر 241)

    حاشیہ طحطاوی میں ہے: واختلف في إدراك فضل التحريمة على قولهما فقيل إلى الثناء كما في الحقائق وقيل إلى نصف الفاتحة كما في النظم وقيل في الفاتحة كلها وهو المختار كما في الخلاصة وقيل إلى الركعة الأولى وهو الصحيح كما في المضمرات۔ ترجمہ:تکبیر تحریمہ کی فضیلت پانے کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ امام کے ثناء پڑھنے تک ہے جیساکہ حقائق میں ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ نصف فاتحہ پڑھنے تک ہے،جیساکہ نظم میں ہے۔ اور تیسرا یہ کہ مکمل فاتحہ پڑھنے تک ہے، جیساکہ نظم میں ہے اور یہی مختار ہے جبکہ ایک قول یہ ہے کہ پہلی رکعت تک ہے یہی صحیح ہے جیساکہ مضمرات میں ہے۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد 1 ص 172)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11 صفر المظفر 1442 ھ/29 دسمبر 2020 ء