سوال
1:۔ کہ میں اپنی بڑی بہن کو زکوۃ دے سکتی ہوں یا نہیں ؟ان کے شوہر کی نوکری ہے لیکن ان کا گزارہ نہیں ہوتا اور ہر مہینے ادھار لینا پڑجاتا ہے تو کیا میں انکو زکوۃ دے سکتی ہوں ؟
2:۔دوسری بات یہ کہ میں زکوۃ کیسے ادا کروں مثلا ایک لاکھ ہو یا اس سے زائد ہو تو مجھ پر کتنی زکوۃ بنتی ہے؟
سائلہ: شہلا سہیل :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:۔اگر آپ کی بہن شرعی فقیر ہیں یعنی اگر انکے پاس اتنا مال نہیں جو زکوۃ کے نصاب کو پہنچ جائے(اور زکوۃ کا نصاب سونے کے حساب سے ساڑھے سات تولہ سونا، چاندی کے حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم ہے، یا مال تجارت ہے جس کی مقدار چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے )یااتنا مال تو ہے جو نصاب کی مقدار کے برابر ہے لیکن اسکی حاجت اصلیہ (ضروریاتِ زندگی مثلا رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان، سواری بائک وغیرہ) میں مستغرق(گھرا ہوا ہے)ہے۔ تو آپ ان کو زکوۃ دے سکتی ہیں بلکہ دوسروں کو دینے کی بجائے ان ہی کو زکوۃ دی جائے کیونکہ انکو زکوۃ دینے میں آپکو دگنا ثواب ملے گا ایک زکوۃ دینے کا اور دوسرا صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے) کا۔
رشتے داروں میں سے ماں،باپ،دادا دادی،نانا،نانی،بیٹا ،بیٹی،پوتا ،پوتی،میاں ،بیوی کے علاوہ سب تمام رشتہ داروں کو زکوۃ دینا جائز ہے جو شرعی فقیر ہوں ۔فتح القدیر میں ہے:وَسَائِرُ الْقَرَابَاتِ غَيْرُ الْوِلَادِ يَجُوزُ الدَّفْعُ إلَيْهِمْ، وَهُوَ أَوْلَى لِمَا فِيهِ مِنْ الصِّلَةِ مَعَ الصَّدَقَةِ كَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ وَالْأَعْمَامِ وَالْعَمَّاتِ وَالْأَخْوَالِ وَالْخَالَاتِ،ترجمہ: اور تمام رشتے داروں (ماسوائے ان کے جن کا اوپر ذکر ہوا) کو زکوۃ دینا جائز ہے، بلکہ انکو دینا اولیٰ ہے کیونکہ اس میں صدقہ کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی بھی ہے ،جیسے بھائی،بہن،چچا،پھپو،خالہ،ماموںوغیرہ۔(فتح القدیر باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ جلد 2 ص 270 الشاملہ)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں :یا اپنے بہن ، بھائی،چچا،پھوپھی، خالہ ،ماموں، بلکہ انھیں دینے میں دُونا ثواب ہے زکوٰۃ وصلہ رحم(فتاویٰ رضویہ کتاب الزکوۃ جلد 10 ص 110 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
2:۔ زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کے پاس جو بھی مال حاجت اصلیہ یعنی ضروریاتِ زندگی مثلا رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان، سواری بائک،پہننے کے کپڑے وغیرہ سے زائد ہے ،اور وہ نصاب کی مقدار کو پہنچتا ہے یا نصاب کی مقدار سے زائد ہے جب اس مال پر سال گزر جائے تو اس تمام مال کا چالیسواں حصہ بطور زکوۃ نکالنا فرض ہے۔اس کا آسان طریقہ ہی ہے کہ جس قدر بھی رقم ہو تو اس رقم کو یا اگر سونا وغیرہ ہو تو اسکی قیمت کو 40 پر تقسیم کردیں جو بھی حاصل جواب ہوگا وہ اس رقم کی زکوۃ ہوگی۔مثلا ایک لاکھ روپے کی زکوۃ نکالنی ہے تو اسکو 40 پر تقسیم کردیں تو جواب 2500 آئے گا ۔لہذا ایک لاکھ روپے کی زکوۃ 2500 روپے ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنہن مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22محرم الحرام 1440 ھ/10اکتوبر 2018 ء