تصویر بنانے کا شرعی حکم
    تاریخ: 13 نومبر، 2025
    مشاہدات: 35
    حوالہ: 112

    سوال

    تصویر بنوانا جائز ہے یا نہیں؟آج کل ہر موقع پر موبائل سے تصاویر لے لی جاتی ہیں حالانکہ وہاں کوئی شرعی ضرورت نہیں ہوتی۔اس صورت میں تصویر بنانے والے کا کیا حکم ہے۔

    سائل: رضوان اختر :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شرعی ضرورت کی بناءپر تصویر بنوانا جائز ہے ،لیکن آج کل بعض امور ایسے ہیں جو شرعی ضرورت نہیں اسکےباوجود ان امور کی انجام دہی کے لیے تصویر بنوانا لازم ہے تصویر کے بغیر وہ کام پایہء تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے جیسے پاسپورٹ بنوانا ، شناختی کارڈ بنوانا ، کسی بھی ادارے میں داخلے کے لیے فارم پر تصویر لگانا، اسی طرح حج یا عمرہ کے درخواستی فارم وغیرہ پر تصویر لگانا، اس کے علاوہ سینکڑوں ایسے کام ہیں جن میں اگر انسان تصویر نہ بنوائے تو وہ وہ کام نہیں ہوسکتا لہذا ان مواقع میں تصویر بنوانا منفعت کے درجے میں آگیا ہے ، اور اس میں عوام و خواص ،علماء و عوام سب کے سب داخل ہیں کیونکہ اس طرح کی ضروریات سے سب کا پالا پڑتا رہتا ہے تو گویا ان امور میں تصویر بنوانا عموم بلویٰ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے،اب اگر ان مواقع میں بھی تصویر کو ناجائز و ممنوع قرار دیا جائے تو عوام و خواص کی ایک بہت بڑی تعداد کو گنہ گار ٹھہرانا لازم آئے گا اور لوگوں کے لیے بہت بڑے حرج کا باعث بنے گا۔جبکہ شریعت نے حرج کو دفع کیا ہے ۔اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور اس نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ ( الحج: 78)

    رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ بِالنَّصِّ،ترجمہ: نص قرآن کی وجہ سے حرج کو دور کیا گیا ہے۔( رد المحتار علی الدرالمختار، باب التیمم جلد 1 ص234)

    پھر فقہ کا قاعدہ ہے:أَنَّ الْأَمْرَ إذَا ضَاقَ اتَّسِعَ۔ ترجمہ: جب کسی معاملے میں تنگی پیدا ہوجائے تو اس میں وسعت کر دی جاتی ہے۔( الاشباہ والنظائز لابن نجیم ص 72)

    لیکن معلوم رہے کہ جس تصویر کی ممانعت احادیث وغیرہ میں آئی وہ دستی تصویر ہےیعنی ہاتھ سے بنائی جانے والی یا پرنٹ شدہ تصویر ہے لیکن اگر موبائل یا کیمرے سے تصویر بنائی گئی تو ایسی تصویر بنانے میں حرج نہیں ہےجبکہ تک کہ اس کا پرنٹ آؤٹ نہ نکلوا لیا جائے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:01 صفر المظفر 1441 ھ/01 اکتوبر 2019 ء