سوال
میری بیوی میری موجودگی میں جب میں رات میں سو رہا تھا کسی غیر مرد کے ساتھ مل رہی تھی ،میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، تقریبا 2 ماہ سے ہم دونوں کے تعلقات اچھے نہیں ہیں ،میرے چار بچے ہیں سب سے بڑا بچی 4 سال کا ہے اور سب سے چھوٹا 3 ماہ کا ہے۔گزارش کرتا ہوں کہ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروںمیں اس سے تعلقات بنانے کا سوچتا ہوں تو ایک دو دن صحیح رہتے ہیں ، پھر خراب ہوجاتے ہیں ؟ آپ مجھے اسکا حل بتائیں بڑی مہربانی ہوگی۔سائل: محمد نوید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ واقعتا ایسا ہی ہے تو شریعت اسلامیہ میں شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر کے علاوہ کسی بھی مرد سے کسی بھی طرح کے ناجائز تعلقات قائم کرنا حرام و گناہ کا کام ہے ، قال اللہ تعالیٰ :وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ.ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ،اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں ، مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر۔
ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ایسی عورتوں کی مدح بیان فرماتا ہے جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھتی ہیں ارشاد فرماتا ہے :’’فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (النساء: 34،35)
ترجمہ: تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں، جس طرح اللّٰہ نے حفاظت کا حکم دیا(یعنی اپنی شرمگاہوں کی) اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو، تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو ، پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے۔
اس آیت کے تحت روح البیان جلد2 ص 202 میں ہے:’’حافِظاتٌ لِلْغَيْبِ اى لمواجب الغيب اى لما يجب عليهن حفظه فى حال غيبة الأزواج من الفروج والأموال والبيوت. وعن النبي صلى الله عليه وسلم (خير النساء امرأة ان نظرت إليها سرتك وان أمرتها اطاعتك وإذا غبت عنها حفظتك فى مالها ونفسها).ترجمہ: خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں یعنی جو ان پر خاوندوں کی عدم موجودگی میں ان پر مال ،گھر اور شرمگاہوں کی حفاظت لازم ہے اسکی حفاظت کرتی ہیں ،اور نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ بہترین عورتیں وہ ہیں کہ ان کے شوہر انکی طرف دیکھیں تو خوش ہوجائیں اور جب خاوند کوئی حکم دے تو اطاعت کریں ،اور جب وہ موجود نہ ہوتو اپنی جان و مال کی حفاظت کریں۔
عیون الأخبار ، ج 2 ، باب 30 ، حدیث 24میں ہے :’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لیلة اسری ابی الی السّماء ، رأیت نسائً من اُمتی فی عذاب شدید فأنکرت شأنھن فبکیت لما رأیت من شدت عذابھن و رأیت امرئة معلّقة بشعرھا یغلی دماغ رأسھا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم أمّا المعلقة بشعرھا . فانھا کانت لا تغطیّ شعرھا من الرجال. ترجمہ:رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتےہیں کہ شب معراج میں نے اپنی امت کی عورتوں کو شدید عذاب میں مبتلا دیکھا جنھیں دیکھ کر مجھے سخت تعجب ہوا اور میں نے ان کے عذاب کی شدت کی وجہ سے گریہ کیا میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کا دماغ پگھل رہا تھا فرمایا : البتہ جو عورت اپنے سر کے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی یہ ایسی خاتون تھی جو اپنے سر کے بالوں کو نامحرموں سے نہ چھپاتی تھی۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے:’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم من کانت منکن تو منّ باللہ و الیوم الآخر ، لا تجعل زینتھا تغیر زوجھا ولا تبدی خمارھا و معصمھا و ایما امرئة جعلت شیئاً من ذلک لغیر زوجھا فقد أفسدت دینھا و أسخطت ربھا علیہا .ترجمہ: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خواتین کی ذمہ داری بیان کرتے ہوئےفرمایا جو عورت خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے شائستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے زینت کرے اور اگر کوئی عورت کسی غیر کے لئے زینت کرے تو اس نے اپنے اس عمل سے اپنے دین کو نابود کیا اور خدا کو اپنے اوپر غضبناک کیا۔
لہذا مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور اپنے خاوند کی فرمانبردار رہے ، تاکہ دنیا و آخرت کے بھیانک عذاب سے بچ جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 26ذوالقعدہ 1439 ھ/08اگست 2018 ء