سوال
میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے میری عمر 80سال ہے ،مجھے عدت کے حوالے سے معلومات چاہیئے کہ میری عدت کیا ہوگی اور دوران عدت میں ٹی وی پر دینی اور سیاسی پروگرام دیکھ سکتی ہوں ؟قرآن و سنہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائلہ:مریم بیگم ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہر وہ عورت جس کا شوہر انتقال کر جائے اس کی عدتِ وفات شوہر کے انتقال کے بعد سے پورے چار مہینے دس دن ہےجس میں پانچویں مہینے کے دس دن کے ساتھ دس راتیں بھی شمار ہونگی ۔
اورعدت کے احکام یہ ہیں :
(1)بلاضرورت گھر سے باہر جانا جائز نہیں ہے البتہ معاش کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو دن میں روزگار کے سلسلے میں جانا جائز ہے لیکن رات شوہر کے گھر میں ہی گزار نا ہوگا ۔
(2)عدت کے دوران زیب و زینت کے تمام کا موں کا ترک کرنا ہے ،مثلا خوشبو لگانا ،بلا ضرورت سر میں تیل کا استعمال کرنا ، زیورات پہنا،بلاضرورت آنکھوں میں سرمہ لگانا اور زیب و زینت کے کپڑے پہننا وغیرہ جا ئز نہیں ہے ۔
(3)دوران عدت کہیں سفر کرنا چاہے محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے ۔
ان کے علاوہ گھر کے کام کاج اورگھر میں ہی رہتے ہو ئے دیگر مصروفیات کا عدت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، لہذآپ کے لیئےٹی وی پر دینی و سیاسی پروگرامز دیکھنےمیں کوئی حرج نہیں ہے ۔
المبسوط للسرخسی (باب العدۃ ،ج:۶،ص:30تا 59،طبع:دارالمعرفۃ،بیروت)میں ملخصاًو متغیراًہے:فَأَمَّا عِدَّةُ الْوَفَاةِ فَإِنَّهَا لَا تَجِبُ إلَّا عَنْ نِكَاحٍ صَحِيحٍ فَعِدَّتُهَا مَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ } [البقرة: 234] ۔۔۔۔۔۔ أَنَّ عِدَّةَ الْوَفَاةِ مُعْتَبَرَةٌ مِنْ وَقْتِ الزَّوْجِ عِنْدَنَاوَأَمَّا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَلَهَا أَنْ تَخْرُجَ بِالنَّهَارِ لِحَوَائِجِهَا وَلَكِنَّهَا لَا تَبِيتُ فِي غَيْرِ مَنْزِلِهَا ،وَلَا يَنْبَغِي لِلْمُعْتَدَّةِ أَنْ تَحُجَّ وَلَا تُسَافِرَ مَعَ مَحْرَمٍ وَغَيْرِ مَحْرَمٍ ۔أَنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا يَلْزَمُهَا الْحِدَادُ فِي عِدَّتِهَا، وَهَذَا لِمَا رُوِيَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ۔۔۔۔۔«لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»وَصِفَةُ الْحِدَادِ أَنْ لَا تَتَطَيَّبَ وَلَا تَدَّهِنَ وَلَا تَلْبَسَ الْحُلِيَّ وَلَا الثَّوْبَ الْمَصْبُوغَ بِالْعُصْفُرِ أَوْ الزَّعْفَرَانِ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ التَّزَيُّنُ وَلَا تَدْهُنُ رَأْسَهَا لِزِينَةٍ فَإِنَّ الدُّهْنَ أَصْلُ الطِّيبِ وَإِنْ اسْتَعْمَلَتْ الدُّهْنَ عَلَى وَجْهِ التَّدَاوِي بِأَنْ اشْتَكَتْ رَأْسَهَا فَصَبَّتْ عَلَيْهِ الدُّهْنَ جَازَ لِأَنَّ الْعِدَّةَ لَا تَمْنَعُ التَّدَاوِي وَإِنَّمَا تَمْنَعُ مِنْ التَّزَيُّنِ. وَلَا تَكْتَحِلُ لِلزِّينَةِ أَيْضًا فَإِنْ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَكْتَحِلَ بِالْكُحْلِ الْأَسْوَدِ ۔ترجمہ:اور عدت وفات نکاح صحیح ہی کی وجہ سےواجب ہے ،اور اس کی عدت (وہی ہے )جو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا "اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو تم پر مُواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے"
اور ہمارے نزدیک عدت وفات کی مدت شوہر کے انتقال کے وقت سے ہے اور بیوہ ا پنی ضروریات کے لئے دن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے لیکن اپنے گھر کے علاوہ میں رات گزار نہیں سکتی۔اور عدت گزر نے والی عورت کے لیئے جا ئز نہیں ہے کہ وہ دوران عدت حج کرے اور کہیں سفر کرے چاہے کسی محرم کے ساتھ ہو یا محرم کے بغیر ۔
عدت وفات گزر نے والی عورت کے لیئےدوران عدت سوگ لازم ہے ،اور یہ اس وجہ سے ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے روایت کی گئی ہے (رسول اللہ ﷺنے فر مایا ہے کہ)کسی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی بھی میت پر تین دن سے ضزائد سوگ کرے مگر اپنے شوہر پر چار مہینے اور دس دن تک (سوگ منانا لازم ہے )اور سوگ سے مراد یہ ہے کہ خوشبو ،تیل اور زیورات کا استعمال نہ کرے ،زعفران یا کسی اور رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے کیوں کہ ان سب سے مقصود زینت کا حصول ہوتا ہے ،اور زینت کے لئے سر پر تیل کا استعمال نہ کرے اس لیئے کہ تیل اصلا خوشبو ہے ،اور اگرعلاج کے طور پر استعمال کا کیا کہ سر میں درد وغیرہ تھا تیل لگا لیا تو جا ئز ہے اس لیئے کہ عدت میں علاج کرنا منع نہیں بلکہ زینت اختیار کرنا منع ہے،اور زینت کے لیئے سرمہ کا استعمال نہ کرے اور اگر آنکھ میں کوئی تکلیف ہے تو سیاہ سرمہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:30صفر المظفر 1440 ھ/09نومبر 2018ء