قربانی کی کھالوں کا استعمال
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 248

    سوال

    اوکھائی میمن یوتھ سروسز 1968 میں قائم کیا گیا جسکا مقصد برادری میں تعلیم کو فروغ دینا ہے اس سلسلے میں یہ ادارہ زکوۃ فنڈ اور چرمہائے قربانی سے حاصل ہونے والی رقم سے ادارہ مستحق طلباء و طالبات کے تعلیمی اخراجات پورا کرتا ہے، چرمہائے قربانی سے حاصل ہونے والی رقم کو زکوۃ کے تصور کی روشنی میں استعمال کیا جاتا ہے ، مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض طلباء زکوۃ کی رقم سے تعلیم لینے میں ناخوش اورہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، جس کے پیش نظربعض افراد اپنے بچوں کو زکوۃ کی مد سے تعلیم نہیں دلاتے ، بلکہ انکی تعلیم کو نظر انداز کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں ، جنرل فنڈ کی کمی کے باعث ہمارے چند سولات ہیں :

    1: جوطلباء و طالبات زکوۃ لینے پر آمادہ نہیں ہوتے کیا چرمہائے قربانی سے حاصل ہونے والی رقم کو زکوۃ کے مفہوم سے علیحدہ کرکےان طلباء و طالبات کیلیے بطور عطیہ انکے تعلیمی اخراجات میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟

    2: طلباء و طالبات چرمہائے قربانی سے حاصل ہونے والی رقم کو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے ہیں ؟نیز واپس ادائیگی کے بعد چرم قربانی اکاؤنٹ میں جمع کرکے دوبارہ اسی مد میں استعمال کی جا سکتی ہے؟سائل: اوکھائی میمن یوتھ سروسز: فیڈرل بی ایریا : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات جان لیں کہ قربانی کی کھالوں کو زکوۃ تصور نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ قربانی کی کھال کا صدقہ کرنا،صدقات نافلہ میں سے ہے یعنی اسکا صدقہ کرنا واجب نہیں ہے بلکہ قربانی کرنے والا شخص چاہے تو قربانی کی کھال کو باقی رکھ کر اپنے استعمال میں لائے اور چاہے تو کسی مصرف ِ خیر میں دے دے، البتہ قربانی کی کھال بیچ کر اسکی رقم استعمال میں نہیں لاسکتا اور نہ ہی کھال قصاب کو بطور اجرت کے دے سکتا ہے۔ جبکہ زکوۃ صدقات واجبہ میں سے ہے ۔درمختار میں ہے:(وَيَتَصَدَّقُ بِجِلْدِهَا أَوْ يَعْمَلُ مِنْهُ نَحْوَ غِرْبَالٍ وَجِرَابٍ أَوْ يُبَدِّلَهُ بِمَا يَنْتَفِعُ بِهِ بَاقِيًالَا بِمُسْتَهْلَكٍ كَخَلٍّ وَلَحْمٍ وَنَحْوِهِ) كَدَرَاهِمَ وَلَا يُعْطَى أَجْرُ الْجَزَّارِ مِنْهَا) (ملخصا).ترجمہ:اور قربانی کی کھال صدقہ کرے یا اس کو اپنے کام میں لائے جیسے چھلنی،جراب وغیرہ بنالے، یا اسکو چیز سے بدل دےجس کو باقی رکھتے ہوئے

    اس سے نفع اٹھایا جائے( جیسے کتاب کی جلد)نہ کہ وہ ہلاک ہونے والی ہو جیسےسرکہ،گوشت اور پیسے وغیرہ، اور کھال قصاب کو اجرت میں نہ دے۔(الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الاضحیۃ ،جلد 6 ص 328)

    اس کے بعد آپ کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ :

    1:چرمہائے قربانی سے حاصل ہونے والی رقم کو ان طلباء و طالبات کیلیے بطور عطیہ انکے تعلیمی اخراجات میں استعمال کے لیے دیا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ بھی مصرفِ خیر سے ہے۔

    2:اسی طرح چرمہائے قربانی سے حاصل ہونے والی رقم کو ان طلباء و طالبات کو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے ہیں ،اور واپس ادائیگی کے بعد چرم قربانی اکاؤنٹ میں جمع کرکے دوبارہ اسی مد میں استعمال کی جا سکتی ہے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:14 جمادی الثانی 1440 ھ/20 فروری 2019 ء