سوال
1:کسی قرآنی سورت کو بطور وظیفہ اس طرز پر پڑھا جائے کہ اتنی آیات کے بعد فلاں درود فلاں آیت کا ورد کرنا ہےپھر مزید آیتیں پڑھنی ہیں۔کیا اس طرح یہ تلاوت کے زمرے میں آئے گا یا یہ سورت وظیفہ کہلائے گی؟
2:نیز اس طرح پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟جواز یا عدم جواز کی وضاحت فرمادیں ؟
3: اگر بطور وظیفہ ہے تو کیا عورت ایام مخصوصہ میں پڑھ سکتی ہے ؟
4: کیا اس طرح ہم تارک سنت تو نہیں کہلائیں گے؟ کیا یہ تلاوت کے آداب کی خلاف ورزی تو نہیں؟لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس طرح سورتوں کی تلاوت کہاں سے ثابت ہے؟سائل: عبد الصمد قادری کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:قرآنی آیت بنیتِ قرآن پڑھیں یا وظیفہ کی نیت سے، وہ تلاوت ہی کہلائے گی ۔اور اسکے تمام احکام تلاوت قرآن والے احکام ہی ہیں۔الا یہ کہ شریعت نے جن کا استثناء کیا وہ مستثنٰی ہی رہیں گے۔جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :تحقیق مقام یہ ہے کہ یہاں دوصورتیں ہیں: عدم نیت واعدام نیت ۔عدم نیت یہ کہ بعض الفاظ اتفاقا موافق نظم قرآن زبان سے اپنے کلام سے ادا ہوجائیں جیسے صورمذکورہ میں ثم نظراور ولم یولد کہ ان کے تکلم کے وقت خیال بھی نہیں جاتاکہ یہ الفاظ آیات قرآنیہ ہیں یہاں قرآن عظیم کی طرف قصد سرے سے پایاہی نہ گیا۔اور اعدام نیت یہ کہ آیات قرآنیہ کی طرف التفات کرے اوربالقصدانہیں نیت قرآن سے پھیرکر غیرقرآن کاارادہ کرے ۔آیۃ الکرسی یاسورۃ فاتحہ یاسورہ تبت وغیرھاہرکلام طویل میں یہی صورت متحقق ہوسکتی ہے ،ناممکن ہے کہ بلاقصد زبان سے تین آیت کے برابر کلام نکل جائے جوبالکل نظم قرآنی کے موافق ہوکہ اس قدرسے تحدی فرمائی گئی ہے توکوئی اتنے پرکیوں کر قادر ہوسکتاہے ۔نہیں بلکہ یقیناالفاظ قرآنیہ ہی کا قصد کرے گا پھر ان کو بالارادہ نیت قرآن سے نیت غیر قرآن کی طرف پھیر ے گااورموجودات حقیقیہ اعتبارمعتبرکے تابع نہیں ہوتے ،نہ باوجود علم قصدا تبدیل نیت سے علم منتفی ہوااگرکوئی شخص شہد کوجان بوجھ کراس نیت سے کھائے کہ یہ شہد نہیں نمک ہے ، تونہ وہ واقعی نمک ہوجائے گا نہ اس کاعلم کہ یہ واقع میں شہد ہے زوال پائے گا۔یونہی جب اس نے نظم قرآنی کی طرف قصدکیااوراسے اداکرناچاہاتوباوصف علم حقیقت اس کا یہ خیال کرلیناکہ میں یہ قرآن نہیں پڑھتا کچھ اورپڑھتاہوں ،نہ قرآن عظیم کو اس کی حقیقت سے مغیرہوسکتاہے نہ یہ دیدہ ودانستہ اس تبدیل خیال سے کچھ نفع پاسکتاہے توکیونکرممکن کہ تعظیم قرآن عظیم کے لئے جوحکم شرع مطہرنے اسے دیایہ دانستہ نیت پھیرکراسے ساقط کردے۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الطہارۃ جلد 1 ص 813 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
2: اس طرح پڑھنا جائز ہے۔ البتہ اس میں اس قدر ضرور ہے کہ پڑھتے وقت قرآن و غیر قرآن جیسے درود وغیرہ کو جدا جدا کرے تاکہ غیر قرآن درود وغیرہ کے قرآن ہونے کا وہم نہ ہو۔ہاں اس طرح ساتھ ملا کر پڑھنا ممنوع ہے کہ معلوم ہی نہ ہوسکے کہ کونسا قرآن ہے اور کونسا اس کا غیراور سننے والے سارا کلام قرآن سے سمجھے ۔
3:عورت کو ایام مخصوصہ (خواہ ایام حیض ہوں یا نفاس ، یوں ہی مرد کو حالت جنابت میں )میں قرآن مجید بنیت دعا پڑھنا جائز ہے ،جبکہ بنیتِ تلاوت پڑھنا جائز نہیں ہے۔البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں وہ مسائل ذکر کئے جہاں قرآن پڑھنا ممنوع ہے اسکے بعد فرماتے ہیں :وَهَذَا كُلُّهُ إذَا قَرَأَ عَلَى قَصْدِ أَنَّهُ قُرْآنٌ، أَمَّا إذَا قَرَأَهُ عَلَى قَصْدِ الثَّنَاءِ أَوْ افْتِتَاحِ أَمْرٍ لَا يُمْنَعُ فِي أَصَحِّ الرِّوَايَاتِ وَفِي التَّسْمِيَةِ اتِّفَاقٌ أَنَّهُ لَا يُمْنَعُ إذَا كَانَ عَلَى قَصْدِ الثَّنَاءِ أَوْ افْتِتَاحِ أَمْرٍ كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ، وَفِي الْعُيُونِ لِأَبِي اللَّيْثِ وَلَوْ أَنَّهُ قَرَأَ الْفَاتِحَةَ عَلَى سَبِيلِ الدُّعَاءِ أَوْ شَيْئًا مِنْ الْآيَاتِ الَّتِي فِيهَا مَعْنَى الدُّعَاءِ وَلَمْ يُرِدْ بِهِ الْقِرَاءَةَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَاخْتَارَهُ الْحَلْوَانِيُّ وَذَكَرَ فِي غَايَةِ الْبَيَانِ أَنَّهُ الْمُخْتَار۔ ترجمہ:یہ سب اس وقت ہے جب بقصدِ قرآن پڑھے۔لیکن جب ثنایاکسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے تواصح روایات میں ممانعت نہیں۔ اورتسمیہ کے بارے میں تواتفاق ہے کہ جب اسے ثنا یا کسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے توممانعت نہیں۔ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے:اگر سورہ فاتحہ بطور دُعا پڑھی یا کوئی ایسی آیت پڑھی جو دُعا کے معنی پر مشتمل ہے اوراس سے تلاوتِ قرآن کاقصد نہیں رکھتاتوکوئی حرج نہیں اھ۔ اسی کو امام حلوانی نے اختیارکیا اورغایۃ البیان میں مذکور ہے کہ یہی مختار ہے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الطہارۃ باب الحیض، جلد 01 ص 209)
یونہی شامی میں ہے:أن الجنب إذا قرأ على قصد الثناء جاز۔ترجمہ: جب جنبی شخص قرآن کو دعا کی نیت سے پڑھے تو اسکا پڑھنا جائز ہے۔(شامی، کتاب الصلوۃ ، باب الامامۃ، جلد 1ص 589)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : معلوم رہے کہ قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودُعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں ھو اللّٰہ الذی لاالٰہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃسے آخر سورۃ تک ،بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونُفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایک آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرک واستفتاح ہوتا ہے، نہ تلاوت، تو حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل اور انّا اللّٰہ وانّا الیہ راجعون کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر ودعا، نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں، اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا جس طرح کسی چیز کے گُمنے پر عسٰی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انّا الی ربنا راغبون کہنا ۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الطہارۃ جلد 1 ص 795 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ازالہ وہم:
یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ جب قرآنی آیت خواہ وظیفہ کی نیت سے پڑھیں یا تلاوت کی نیت سے وہ تلاوت ہی کہلائے گی پھر تو چاہیے تھا کہ عورت جب حالت حیض میں یا نفاس میں ہو اسی طرح مرد جب جنبی ہو تو انہیں اصلا قرآن پڑھنا جائز نہیں ہونا چاہیے تھا۔لیکن فقہاء نے صراحت فرمائی ہے کہ حائضہ، نافسہ و جنبی کو بنیت دعا پڑھنا جائز ہے ایسا کیوں؟
اس وہم کا جواب فتاوٰی رضویہ میں موجود ہے چناچہ میرے آقا،سیدی ،اعلٰی حضرت، عظیم المرتبت،امام اہل سنت فرماتے ہیں : واجب تھا کہ سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی بالائے سرفقط الحمدللّٰہ یا سبحٰن اللّٰہ یا لاالہٰ الا اللّٰہ بھی جُنب کو جائز نہ ہو جبکہ ان میں اخذ عن القرآن کا قصد کرے اگرچہ نیت قرآن سے پھیر کر غیر قرآن کی کرلے، مگر شرع مطہر نے لحاظ فرمایا کہ مسلمان ہر وقت ہر حال میں اپنے رب جل وعلا کے ذکر وثنا اور اُس سے سوال ودعا کا محتاج ہے اور ثنائے الٰہی وہی اتم واکمل ہے جو خود اُس نے اپنے نفس کریم پر کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرض کرتے ہیں: لااحصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک ۔الٰہی! میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے جیسی تُو نے خود اپنی ثنا کی۔یوں ہی جو دعائیں قرآن عظیم نے تعلیم فرمائیں بندہ اُن کی مثال کہاں سے لاسکتا ہے رحمت شریعت نے نہ چاہا کہ بندہ ان خزائن بے مثال سے روکا جائے علی الخصوص حیض ونفاس والیاں جن کی تہائی عمر انہیں عوارض میں گزرتی ہے لہٰذا یہاں بہ تبدیل نیت اجازت فرمائی جسے بسم اللہ الرحمن الرحیم بہ نیت افتتاح کہنے کے جواز پر علماء نے ظاہر کردیا اس کی نظیر یہ ہے کہ نماز میں کسی کلام سے اگرچہ آیت یا ذکر الٰہی ہو ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے باہر ہے مفسد نماز ہے مثلا کسی خوشی کی خبر کے جواب میں کہا الحمدللّٰہ رب العٰلمین یا خبر غم کے جواب میں انا اللّٰہ وانا الیہ راجعون یا کسی نے پوچھا فلاں شخص کیسا ہے اُس کی خوبی بتانے کو کہا سبحان اللّٰہ نماز جاتی رہے گی مگر کسی شخص نے آواز دی اور اس نے یہ جتانے کو کہ میں نماز پڑھتا ہوں لا الٰہ الا اللّٰہ یا سبحٰن اللّٰہ یا اس کے مثل ذکر یا قرآن عظیم سے کچھ کہا نماز نہ جائے گی کہ شرع مطہر نے اس حاجت کے دفع کو اتنے کی اجازت عطا فرمادی۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الطہارۃ جلد 1 ص 816 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
4: جب اس طرح پڑھنا مذکورہ شرط کہ پڑھتے وقت قرآن و غیر قرآن جیسے درود وغیرہ کو جدا جدا کرے کے ساتھ جائز ہے تو نہ یہ خلاف سنت ہے اور نہ ہی تلاوت قرآن کے آداب کی خلاف ورزی ہے۔پھر جو دعوٰی کرے دلیل اس کے ذمہ ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:21 رجب المرجب 1441 ھ/16 مارچ 2020 ء