سوال
میرا نام بشری صدیقی ہے اور میرے شوہر کا نام احسن صدیقی ہے۔میری شادی کو 16سال ہوگئے ہیں۔شادی کے ایک سال بعد میرے شوہر نے کسی غصہ میں آکر مجھے فون کال پر نشے کی حالت میں بنا کسی گواہوں کے تین طلاقیں دے دی تھی۔لیکن پھر فتوی نکلوایا کہ نشے میں اور بنا گواہ کے طلاق نہیں ہوتی فون پر تو مجھے وہ واپس اپنے گھر لے گیا۔پھر اسکے بعد میرے دو بچے ہوئے اور شادی کے 10 سال بعد میرے شوہر نے پھر دوبارہ سے مجھے میری امی کے گھر آکر میرے گھر والوں اور محلے والوں کے سامنے 3 طلاقیں دےدیں لیکن وہ اس ٹائم بھی نشہ کر کے آئے تھے،لیکن جب طلاقیں دیں تو کہا پورے ہوش و ہواس میں میں بشری صدیقی کو طلاق دیتا ہوں ،تمہیں طلاق دیتا ہوں،تین دفعہ تھی ۔لیکن پھر اس نے کہا کہ دو ہفتے گزرنے کے بعد یہ طلاقیں نہیں ہوئی ابھی ایک کی گنجائش ہے،پھر مجھے لے گیا واپس ۔لیکن ہماری لڑائیاں بہت بڑگئیں ہیں،میں اس رشتے سے مطمئن نہیں ہوں ۔کیا میرا رشتہ میرے شوہر کے ساتھ جائز ہے ؟میں ابھی اس کی نکاح میں ہوں ؟ یا اب رشتہ ختم ہو چکا ہے؟ مہربانی فرما کر مجھے فتوی دیں کہ میں کیا کروں ؟اور اگر طلاق ہو چکی تو کیا مجھے عدت گزارنی پڑے گی یا نہیں ؟
نوٹ:شوہر سے رابطہ نہ ہوسکا لہذا یہ فتوی اسی صورت کارگر ہے کہ جب حقیقت حال وہی ہے جو بیان ہوئی۔عورت کے بیانیہ کے مطابق پہلی بار تین طلاقیں دینے کےبعد شوہر اقراری تھے پھر کہیں سے طلاق نہ ہونے کا فتوی لے آئے۔
سائل: بشری صدیقی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بیان ہوا تو تین طلاقِ مغلظہ واقع ہوچکی ہیں یعنی تحلیل شرعی کے بغیر عورت ،شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی۔اور عدت پہلی بار دی گئی طلاقوں کے وقت سے ہی شروع ہوچکی تھی لہذا تین ماہواری کے بعد عدت مکمل ہوچکی مزید عدت گزارنی لازم نہیں۔
مسئلہ کی تفصیل:
اوّلا:ہم احناف کے نذدیک مذہبِ مختار اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق حالتِ نشہ میں دی گئی طلاق ایک ہو یا زیادہ بہر حال واقع ہو جاتی ہیں۔شرع مطہرہ نے یہ حکم زَجرًاقصدِ معصیت اور بتقاضہ حکمت و مصلحت کے قائم فرمایا کہ اوروں کو معلوم ہو جائے کہ ارادہ و قصد سے معصیت اختیار کرنے والے نشہ میں بدحواس شخص کی بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
ثانیاً :طلاق کیلئے گواہان ضروری نہیں،حتی کہ عورت کا سننا بھی لازم نہیں۔
ثالثاً :طلاق کی عدت طلاق دینے کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے چاہے زبانی طلاق دی ہو یا تحریری اگرچہ عورت کو اس کی اطلاع نہ پہنچے،کیونکہ عدت مدت کے گزرنے کا نام ہے جب وقت گزر جائے گا تو عدت ختم ہوجائے گی،یہ اس صورت میں ہے جبکہ شوہر نے طلاق کو چھپایا نہ ہو بلکہ اسی وقت سے طلاق کا اقرار کر رہا ہو اور لوگوں کو طلاق کا پتا ہو، اور اگر شوہر کہتا ہو کہ میں نے اتنے عرصہ پہلے طلاق دی تھی لیکن اس نے طلاق پر نہ گواہ بنایا نہ اُس وقت کسی کے سامنے اقرارکیا تو اس صورت میں وقت اقرار سے عدت ہوگی پہلے کی مدت سے نہیں چاہے عورت اس کی تصدیق کرے یا تکذیب۔
لہذا پوچھے گئے مسئلہ میں جب شوہر نے تین طلاقیں دیں تو اگرچہ نشہ میں دیں اور گواہان نہ تھے تین طلاقِ مغلظہ واقع ہوگئیں اور تحلیل شرعی کے بغیر عورت شوہر کیلئے حلال نہ ہوگی۔تحلیل ِ شرعی کامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (یعنی اگر حیض آتا ہے تو تین حیض آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو پھر اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی) گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاحکرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلققائم ہونے کے بعد وہ اس کوطلاق دے اور پھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔
دلائل و جزئیات:
اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)
اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
اس آیت کی تفسیر خود حضور ﷺ نے بھی فرمادی کہ جس طرح بخاری شریف ،7/ 42،رقم:5260،مطبوعہ دار طوق النجاۃ اور صحیح مسلم شریف ،2/1055،رقم:1433 ،مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ،تر مذی شریف ،3/418،رقم :1118،مطبوعہ مصطفی البابی اور مشکوٰۃ شریف میں بھی ہے ،واللفظ لہ: "عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: «لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»".ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے؛ آپ فرماتی ہیں‘حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی عورت رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ میں حضرت رفاعہ کے پاس تھی آپ نے مجھے تین طلاقیں دے دیں پھر میں نے حضرت عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیااور ان کو میں نے کپڑے کے پھندنے کی طرح پایا ،تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا تو حضرت رفاعہ کی طرف واپس جانا چاہتی ہے؟ تو یہ جائز نہیں حتی کہ تو اس کاذائقہ چکھے اور وہ تیراذائقہ چکھے(یعنی جب تک جماع نہیں ہوتا اس وقت تک واپس نہیں جا سکتی ) ۔(مشکاۃ المصابیح،2/982،رقم الحدیث:3295،مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت)
طلاق کی عدتکی اقسام کے متعلق فتاویٰ سراجیہ میں ہے:"المطلقة تعتد بثلاث حیض ان کانت من ذوات الحیض وبثلاثة اشهر ان کانت من ذوات الاشهر کالآیسة والصغیرة عدة الحامل ان تضع حملها. ملخصا".ترجمہ:اگر طلاق یافتہ عورت کو حیض آتا ہو تو وہ تین (کامل)حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اور (جس کو حیض نہیں آتا)تین مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی اگر مہینوں والی ہے جیسے آئسہ(بوڑھی)اورنابالغہ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔(فتاویٰ سراجیہ،ص:231،مکتبہ زمزم)
طلاق میں گواہوں کا ہونا ضروری نہیں:
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”شوہرِ اول طلاق دینے کامقر (اقرارکرتا) ہے ، مگرعذرصرف یہ کرتاہے کہ طلاق خفیہ دی ، چار اشخاص کے سامنے نہ دی،لہٰذا اپنی جہالت سے طلاق نہ ہوناسمجھتاہے،اگرایساہے ، تواس کادعو ٰی غلط باطل ہے،طلاق بالکل تنہائی میں دے ، جب بھی ہوجاتی ہے“۔ (فتاوی رضویہ،12/366،رضافاؤنڈیشن)
نشئ کی طلاق واقع ہے:
نشے کی تعریف کے متعلق ڈاکٹر وھبہ الزحیلی لکھتے ہیں: "السُّكْر: حالة تعرض للإنسان بامتلاء دماغه من الأبخرة المتصاعدة إليه، فيتعطل معه عقله المميز بين الأمور الحسنة والقبيحة".ترجمہ: دماغ کی طرف چڑھنے والے بخارات سے جو کیفیت انسان کو لاحق ہوتی ہے اسے "سُکر" کہتے ہیں، اسکے نتیجے میں انسان کے ذہن میں اچھی اور بری چیزوں میں تمیز کی اہلیت معطّل ہوجاتی ہے۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ،4/484،دار الفکر دمشق)
علامہ علا ؤ الدین حصکفی (المتوفی:1088 ھ) لکھتے ہیں:"أَوْ سَكْرَانَ وَلَوْ بِنَبِيذٍ أَوْ حَشِيشٍ أَوْ أَفْيُونٍ أَوْ بَنْجٍ زَجْرًا، وَبِهِ يُفْتَى تَصْحِيحُ الْقُدُورِيِّ".ترجمہ: اور ہرنشہ کرنے والے کی طلاق واقع ہو جاتی ہے خواہ اس نے شراب پی ہو یا حشیش یا افیون یا بھنگ پی اسی پرفتوی ہے اور امام قدوری نے بھی اس تصحیح کی ہے۔(الدر المختار مع الرد المحتار، 4/ 328، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
المبسوط للسرخسی،الہدایۃ مع البنایۃ،المحیط البرہانی،فتاوی قاضی خان،الفتاوی الہندیۃ اور الفتاوی التاتارخانیہ میں ہے واللفظ لہ:"طَلَاقُ السَّكْرَانِ إذَا سَكِرَ مِنْ الْخَمْرِ أَوْ النَّبِيذِ وَهُوَ مَذْهَبُ أَصْحَابِنَا".ترجمہ: نشہ والے کی طلاق واقع ہو جاتی ہے، جب نشہ خمر (شراب) یا نبیذ سے ہو، یہی ہمارے اصحاب کا مذہب ہے۔ (الفتاوی التاتارخانیہ،2/439، دار الکتب العلمیۃ بیروت ، فتاوی قاضی خان،1/414،415،دار الکتب العلمیۃ بیروت، الفتاوی الہندیۃ، 1/353 ،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ،المحیط البرہانی،3/206،دار الکتب العلمیۃ بیروت، الہدایۃ مع البنایۃ،5/300،دار الکتب العلمیۃ بیروت، المبسوط للسرخسی،5/205،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ردالمحتار میں ہے:"الْمُخْتَارُ فِي زَمَانِنَا لُزُومُ الْحَدِّ وَوُقُوعُ الطَّلَاقِ".ترجمہ:ہمارے زمانے میں مختار یہ ہے کہ شرابی کو حد بھی لگائی جائے اور اس کی طلاق بھی واقع ہو جائے۔ (ردالمحتار علی الدر المختار،3/239،دار الفکر بیروت)
الفتاوی البزازیہ کے حوالے سے غمز عیون البصائر شرح الحموی میں ہے:"لِأَنَّ الْفُسَّاقَ يَجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ وَكَذَا الْمُخْتَارُ: وُقُوعُ الطَّلَاقِ؛ لِأَنَّ الْحَدَّ يُحْتَالُ لِدَرْئِهِ وَالطَّلَاقُ يُحْتَاطُ فِيهِ، فَلَمَّا وَجَبَ مَا يُحْتَالُ؛ لَأَنْ يَقَعَ مَا يُحْتَاطُ أَوْلَى".ترجمہ:(نشئ پر حدجاری ہوگی) کیونکہ فسّاق اس پر جمع ہوجائیں گے، اسی طرح نشئ کی طلاق کا واقع ہونا بھی مختار مذہب ہےکیونکہ حَد کو ٹالنے کی تدبیر کی جاتی ہے اور طلاق میں احتیاط برتی جاتی ہے لہذا جسے ٹالا جاتا ہے وہی واجب ہوگئی تو جس میں احتیاط برتی جاتی ہے وہ بدرجہ اولیٰ نشئ پر واقع ہوگی۔ (غمز عیون البصائر،2/118،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ایک اور مقام پر ردالمحتار میں ہے:"وَإِنْ لِلَّهْوِ وَإِدْخَالِ الْآفَةِ قَصْدًا فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَتَرَدَّدَ فِي الْوُقُوعِ. وَفِي تَصْحِيحِ الْقُدُورِيِّ عَنْ الْجَوَاهِرِ: وَفِي هَذَا الزَّمَانِ إذَا سَكِرَ مِنْ الْبَنْجِ وَالْأَفْيُونِ يَقَعُ زَجْرًا، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى".ترجمہ : اگر نشہ آور چیز لہو کے طور پر یا جسم میں کسی آفت کو داخل کرنے کے لئے قصدًااستعمال کی تو پھر ایسے شخص کی طلاق کے واقع ہونے میں کوئی تردد نہیں ( یعنی طلاق واقع ہو جائے گی) اور تصحیح القدوری میں جواہر سے ہے کہ آج کے دور میں بھنگ اور افیون سے نشہ کیا ہو تو زجرًا طلاق واقع ہو جائے گی اور اسی پر فتوی ہے۔(ردالمحتار،کتاب الطلاق،ج:4،ص:446، مکتبہ امدادیہ ملتان)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’نشہ میں طلاق دی بلاشبہ بالاتفاق ہوگئی‘‘۔(ملخصا،فتاوی رضویہ، 12/386، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفی:1367ھ) بہار شریعت میں فرماتے ہیں:’’نشہ والے نے طلاق دی تو واقع ہو جائے گی کہ یہ عاقل کے حکم میں ہے اورنشہ خواہ شراب پینے سے ہو یا بھنگ وغیرہ کسی اور چیز سے۔ افیون کی پینک میں طلاق دے دی جب بھی واقع ہو جائے گی‘‘۔ (بہار شریعت،جلد:2،حصہ:8،ص:111،مکتبۃ المدینہ العلمیۃ)
نشئ شخص مکّلف بالشرع ہے، اسکو زائل العقل نہیں مانا جائے گا:
علامہ زین الدین ابن نجیم المصری الحنفی (المتوفی:970ھ) لکھتے ہیں:"هُوَ مُكَلَّفٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ خَاطَبَهُمْ تَعَالَى وَنَهَاهُمْ حَالَ سُكْرِهِمْ. فَإِنْ كَانَ السُّكْرُ مِنْ مُحَرَّمٍ فَالسَّكْرَانُ مِنْهُ هُوَ الْمُكَلَّفُ".ترجمہ:نشئ شخص مکلّف ہے اللہ رب العزت کے اس فرمان کی بناء پر﴿نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ ﴾ ،اللہ عزوجل نے اِن سے خطاب فرمایا اور حالتِ نشے سے منع فرمایا۔ اگر نشہ حرام شے سے ہو تو نشئ مکلّف ہے۔(الاشباہ والنظائر،1/267،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
التحریر لابن الہمام کے حوالے سے علامہ شامی رحمہ اللہ ردّالمحتار میں فرماتے ہیں:"حُكْمَهُ أَنَّهُ إنْ كَانَ سُكْرُهُ بِطَرِيقٍ مُحَرَّمٍ لَا يُبْطِلُ تَكْلِيفَهُ فَتَلْزَمُهُ الْأَحْكَامُ وَتَصِحُّ عِبَارَتُهُ مِنْ الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ، وَالْبَيْعِ وَالْإِقْرَارِ، وَتَزْوِيجِ الصِّغَارِ مِنْ كُفْءٍ، وَالْإِقْرَاضِ وَالِاسْتِقْرَاضِ لِأَنَّ الْعَقْلَ قَائِمٌ، وَإِنَّمَا عَرَضَ فَوَاتُ فَهْمِ الْخِطَابِ بِمَعْصِيَتِهِ، فَبَقِيَ فِي حَقِّ الْإِثْمِ وَوُجُوبِ الْقَضَاءِ".ترجمہ:نشئ کا حکم یہ ہے کہ اگر تو اسکا نشہ کسی حرام شے سے ہو تو اسکا مکلّف ہونا باطل نہیں ہوگا لہذا اس پر احکام شرع لازم ہونگے اور اس کا طلاق و عتاق کے متعلق کلام،خرید و فروخت'اقرار'نابالغ کا کفو میں نکاح کرانا'قرض دینالیناتمام درست ہوگا، کیونکہ عقل قائم ہے،البتہ اپنے گناہ کی وجہ سے خطاب باری تعالی کے نہ سمجھنے کا عارضہ اسکو لاحق ہے،لہذا گناہ کے حق میں اور قضاء لازم ہونےمیں اسکی عقل قائم ہے۔(ردالمحتار علی الدر المختار،3/239،دار الفکر بیروت)
المحیط الرضوی میں ہے:"وطلاق السكران من الخمر أو النبيذ واقع،وجميع تصرفاته نافذة... فلا يعتبر زائلا في تصحيح زجرا وردعا له عن شرب الخمر، فانه أم الخبائث، ولهذا بقي مخاطبا بأداء الفرائض".ترجمہ: خمر یا نبیذ کے نشئ کی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اور اسکے تمام تر تصرفات نافذ ہیں،صحیح قول کے مطابق اسکو زجرًا و رَدعًا (روک تھام کرتے ہوئے) شراب پینے کی وجہ سے زائل العقل نہیں مانا جائے گا ، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے، اسی وجہ سے نشئ کو فرائض کی ادائیگی کا مخاطب باقی قرار دیا گیا۔ (المحیط الرضوی،3/311،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ردِّ بد مذہباں:
طلاق ایک دینی معاملہ ہے جس میں جاہلوں اور مخالفانِ دین کی طرف رجوع کرنا سخت حرام ہے ۔
صحیح مسلم کی حدیث مبارکہ ہے: "إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ".ترجمہ:یہ علم دین ہے تو تم دیکھ لو کہ کس سے یہ دین لے رہے ہو۔ (صحیح مسلم،1/14،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
اور غیر مقلد وہابیہ جو کسی امام کی تقلید سے صاف انکار کرتے ہیں اوّلا تو ان کا عدم وقوع طلاق کے متعلق امام بخاری کا حوالہ لانا عوام کو فریب میں ڈالنا ہے کہ اگر یہ صاحبان مقلد نہیں تو امام بخاری کی بات ماننی کس آیت و حدیث نے فرض کی؟
نیز نشئ کی طلاق صرف ہم احناف کے نذدیک ہی نہیں بلکہ امام مالک رحمہ اللہ کے نذدیک بھی ہوجاتی ہے اور آپ رحمہ اللہ تبع تابعین میں سے ہیں اور امام بخاری سے علمِ حدیث و علمِ فقہ ہر بات میں بدرجہا افضل و اعلی ہیں۔
وہابی مفتی صاحب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان دلیل کے طور پر لاتے ہیں:"طلاق السكران المستكره ليس بجائز".ترجمہ:مکرہ نشئ کی طلاق جائز نہیں۔(صحیح البخاری، باب الطلاق في الإغلاق والكره، والسكران،7/45،دار طوق النجاۃ)
اوّلا یہ دلیل دعوی کے مطابق نہیں کہ انکے ہاں مطلقا نشئ کی طلاق واقع نہیں ہوتی جبکہ دلیل حالتِ اکراہ کے نشئ سے متعلق ہے۔
ثانیاًنشئ کی وقوع ِطلاق کا حکم زَجرًا قصدِ معصیت کی بناء پر ہے جبکہ حالتِ اکراہِ شرعی میں قصد منتفی ہوتا ہے۔لہذا صحیح یہ ہے کہ ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی،جیسا کہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے بیان فرمایا:’’لوگ کسی کے اصرار کو بھی جبر کہتے ہیں، یہ جبر نہیں، اگر ایسے جبر سے نشہ کی چیز پی اور اس نشہ میں طلاق دی بلاشبہہ بالاتفاق ہوگئی، ہاں اگر جبر واکراہِ شرعی ہو۔ مثلاً قتل یا قطع عضو کی دھمکی دے جس کے نفاذپر یہ اسے قادر جانتا ہو، یایُوں کہ کسی نے ہاتھ پاؤں باندھ کر منہ چیرکر حلق میں شراب ڈال دی تو یہ صورت ضرور جبر کی ہے، اورتحقیق یہ ہےکہ اس نشہ میں اگر طلاق دے نہ پڑے گی۔ (فتاوی رضویہ،12/386،رضا ؤنڈیشن لاہور)
ثالثاً حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس خود نشئ کے وقوعِ طلاق کے قائل ہیں اور وقوعِ طلاق کے متعلق آپ سے علّت بھی منقول ہے چنانچہ المجموع شرح المہذب میں ہے:" وفى علته ثلاثة أوجه. أحدها - وهو قول أبى العباس - أن سكره لا يعلم إلا منه، وهو متهم في دعوى السكر لفسقه، فعلى هذا يقع الطلاق في الظاهر. ويدين فيما بينه وبين الله عزوجل. ترجمہ: اوراس کی طلاق واقع ہونے کی تین وجوہات ہیں۔(1)پہلی یہ ابو العباس کا قول ہے کہ اس کے نشے کا پتہ اسی سے چلتا ہے اور وہ نشے کی دعوے میں اپنے فسق کی بنا پر تہمت زدہ ہے، لہذا اس کی طلاق ظاہر میں واقع ہوجائے گی اور اس کا معاملہ اس کے اور اللہ کے درمیان چھوڑ دیا جائے گا ۔(المجموع شرح المہذب مع تكملۃ السبكی والمطيعی ،17/57،دار الفکر)
اور ابو العباسحضرت عبد اللہ بن عباس ہی کی کنیت ہے۔ (سير أعلام النبلاء ،3/332،مؤسسۃ الرسالۃ)
وہابیہ کے اپنے گھر سے ان کے خلاف دلیل:
فتاوى نور على الدرب میں وہابیہ کا شیخ ابن باز کہتا ہے:"اختلف العلماء في وقوع طلاق السكران ، فذهب جمهور العلماء إلى أنه يقع طلاقه".ترجمہ:نشئ کے وقوعِ طلاق کے مسئلے میں علماء نے اختلاف کیا،جمہور علماءاس طرف گئے کہ نشئ کی طلاق واقع ہوجائے۔ (فتاوى نور على الدرب للعبد العزيز بن عبد الله بن باز،1/1679،مؤسسۃ الشیخ عبد العزیز بن بازالخیریۃ)
اور حدیث مبارکہ ہے: اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ.ترجمہ: بڑی جماعت کی پیروی کرو ! اس لیے کہ جو جماعت سے الگ ہوا وہ تنہا آگ میں ڈالا جائے گا۔(مشکاۃ المصابیح،1/51،رقم الحدیث:174،شرکۃ دار ارقم/المستدرک للحاکم،1/189،رقم الحدیث:395،مکتبۃ العلم الحدیث/حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء،3/37،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اسی طرح امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن العقود الدریہ کے حوالے سے فرماتے ہیں: "القاعدة ان العمل بما عليه الاكثر".ترجمہ:قاعدہ یہ ہے کہ اکثریت کے قول پر عمل ہوگا۔(فتاوی رضویہ،12/491،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور نشئ کی طلاق کے مسئلے میں جمہور فقہاء کرام وقوع طلاق کے قائل ہیں جس کا اعتراف خودوہابیہ کے شیخ ابن باز نے بھی کیا اور ہمیں بڑی جماعت یعنی جمہور کی پیروی کا حکم حدیث مبارکہ میں آیا لہذا نام نہاد اہل حدیث وہابی مذکورہ حدیث مبارکہ پر عمل کیوں نہیں کرتے؟؟
اجلّ صحابہ کرام میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی یہی مؤقف ہے کہ نشئ کی طلاق واقع ہے۔
علامہ ابن عبد البر مالکی لکھتے ہیں:"عَنْ أَبِي لَبِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجَازَ طَلَاقَ السَّكْرَانِ بِشَهَادَةِ النِّسْوَةِ".ترجمہ: ابو لبید روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے نشئ کی طلاق کو عورتوں کی گواہی سے جائز قرار دیا۔(الاستذکار،6/206،دار الکتب العلمیۃ/ مصنف ابن ابی شیبہ،4/76،رقم :17968،مکتبۃ الرشد)
اور حدیث مبارکہ میں حضرت ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کی پیروی کو لازم قرار دیا ہے۔چنانچہ مجمع الزائد میں ہے: "وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «اقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللَّهِ الْمَمْدُودُ، وَمَنْ تَمَسَّكَ بِهِمَا فَقَدْ تَمَسَّكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى الَّتِي لَا انْفِصَامَ لَهَا»".ترجمہ:حضرت ابو درداء سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے بعد ابو بکر و عمر کی پیروی کرنا کہ یہ اللہ کی کشادہ رسّی ہیں، جس نے انہیں مضبوطی سے تھاما،اس نے ایسی مضبوط رسّی کو تھاما جس کا کوئی انقطاع نہیں۔ (مجمع الزوائدومنبع الفوائد،9/53،رقم الحدیث:14356،مکتبۃ القدسی القاہرۃ)
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے کلام سے بھی واضح ہے کہ نشئ کی طلاق واقع ہوتی ہے، چنانچہ روایت ہے:"عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ".ترجمہ: عامر بن ربیعہ سے روایت ہےفرماتے ہیں میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہر ایک شخص کی طلاق واقع ہے سوائے معتوہ کی طلاق کے۔ (الاستذکار،6/207،دار الکتب العلمیۃ/شرح مشکل الآثار،12/244،رقم:4779،مؤسسۃ الرسالۃ)
عمدۃ القاری میں علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:"وَذهب مُجَاهِد إِلَى أَن طَلَاقه يَقع، وَكَذَا قَالَه مُحَمَّد وَالْحسن وَسَعِيد بن الْمسيب وَإِبْرَاهِيم بن يزِيد النَّخعِيّ وَمَيْمُون بن مهْرَان وَحميد بن عبد الرَّحْمَن وَسليمَان بن يسَار وَالزهْرِيّ وَالشعْبِيّ وَسَالم بن عبد الله وَالْأَوْزَاعِيّ وَالثَّوْري، وَهُوَ قَول مَالك وَأبي حنيفَة".ترجمہ: مجاہد کے نزدیک نشئ کی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح محمد، حسن، سعید بن مسیب، ابراہیم بن یزید نخعی، میمون بن مہران، حمید بن عبد الرحمن، سلیمان بن یسار، زہری، شعبی، سالم بن عبد اللہ، اوزاعی، ثوری، امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔(عمدۃ القاری،20/251،دار احیاء التراث العربی)
فتح الباری میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:"وَقَالَ بِوُقُوعِهِ طَائِفَةٌ مِنَ التَّابِعِينَ كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْحَسَنِ وَإِبْرَاهِيمَ وَالزُّهْرِيِّ وَالشَّعْبِيِّ وَبِهِ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَالثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَعَنِ الشَّافِعِيِّ قَوْلَانِ الْمُصَحَّحُ مِنْهُمَا وُقُوعُهُ".ترجمہ: تابعین کی ایک جماعت سعید بن مسیب، حسن، ابراہیم، زہری، شعبی، اوزاعی، ثوری، امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا بھی یہی مؤقف ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قول ہیں ان کا صحیح قول یہ ہے کہ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ (فتح الباری،9/391،دار المعرفۃ بیروت)
مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و تابعین رحمہم اللہ میں سے ایک جماعت کا مؤقف یہ رہا کہ نشئ کی طلاق واقع ہوجاتی ہے جبکہ نام نہاد اہل حدیث ان صحابہ کرام و تابعین عظام کی پیروی نہیں کرتے۔
اسی طرح وہابی مفتی نشئ کے عدم وقوع طلاق کے متعلق حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کا مؤقف بیان کرتے ہیں کہ آپ کے نذدیک نشئ کی طلاق واقع نہیں ہوتی حالانکہ روایت ہے کہ آپ حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کے نزدیک نشئ کی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:"حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: «يَجُوزُ طَلَاقُ السَّكْرَانِ»".ترجمہ: حمید بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا نشئ کی طلاق جائز و واقع ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ،4/76،رقم :17966،مکتبۃ الرشد)
اسی طرح وہابیہ کے اپنے شیخ ابن حزم کی کتاب ’’المحلی بالآثار‘‘ میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی نشئ کی طلاق کو جائز و واقع قرار دیتے تھے۔عبارت یہ ہے:"عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَجَازَ طَلَاقَ السَّكْرَانِ". (المحلی بالآثار،9/472،دار الفکر بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 جمادی الاول1444 ھ/13 دسمبر2023ء