taqarruri mudarriseen ki sharaait o khain ko ohde par bithana
سوال
1) تقرری معلمین و مدرسین (قاعدہ، ناظرہ، حفظِ قرآن، درس نظامی اور تخصص وغیرہ) کی قابلیت کی کم از کم حد کیا ہے ؟
2) وہ کتنی مقدارِ قابلیت ہے جس کا حامل ہونے کے باوجود اس شخص کو نا اہل ہی شمار کیا جائے گا ؟
3) کسی شخص کو ایک یا چند امور کی انجام دہی پر مقرر کیا گیا، جبکہ اس شخص کا حال یہ ہے کہ وہ بعض کو انجام دینے کے قابل ہے اور بعض کے قابل نہیں، آیا ایسا شخص تقرری کا اہل شمار ہوگا یا نہیں ؟
4) ایک شخص خود تو قابل ہے لیکن فی الحال طلباء تک علم منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، آیا ایسا شخص تقرری کا اہل شمار ہوگا یا نہیں ؟
5) نا اہل کو مقرر کرنے کا کیا حکم ہے ؟
6) اگر کسی ادارے میں نا اہل افراد مسند نشین ہوں تو ایسے نا اہل لوگوں کا تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے کا، مہتمم کا انہیں وظائف دینے کا، ایسے ادارے کو چندہ دینے اور تشہیر کرنے کا کیا حکم ہوگا ؟
7) انجانے میں یا جان بوجھ کر ایسے ادارے کو چندہ دینے والے یا اس کی تشہیر کرنے والے افراد فاسقِ معلن شمار ہوں گے یا نہیں؟
8) فاسقِ معلن کسے کہتے ہیں؟ اور اس کا کیا حکم ہے ؟ بیّنوا توجروا
سائل: محمد عارف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1،2:مدرّس(درس نظامی و تخصص) کیلئے درج ذیل شرائط ہیں:
(۱)سنّی صحیح العقیدہ ہو۔
(۲) وہ بات کو صحیح طور پر سمجھتا ہو، یعنی کلام کا ظاہری مطلب بھی جانتا ہو اور اس کا پوشیدہ مفہوم بھی سمجھتا ہو۔
(۳) اس نے اساتذہ کے ساتھ باقاعدہ اور مسلسل تعلیم حاصل کی ہو، یہاں تک کہ وہ علمی اصطلاحات سے واقف ہو جائے اور کتابوں سے مسائل نکالنے کی صلاحیت پیدا کر لے۔
(۴) اس میں سوال پوچھنے اور سوال کا درست جواب دینے کی اہلیت ہو، اور اس کے لیے اسے نحو اور صرف کی بنیادی سمجھ ہو، تاکہ وہ فاعل، مفعول وغیرہ میں فرق کر سکے۔ نیز وہ خود پڑھتے وقت غلطی نہ کرے، اور اگر کوئی اور غلط پڑھے تو وہ اس کی اصلاح کر سکے۔
(۵)مدرس اخلاق حسنہ سے مزین ہو ،خود بھی بااخلاق ہو نیز طلباء کی بھی تربیت کرنا جانتا ہو۔کیونکہ استاذ معلم ہونےکیساتھ مربی بھی ہوتاہے ۔
لیکن اگر مدرس تخصص کیلئے ہو تو اس میں مندرجہ بالا شرائط کےساتھ ساتھ جس فن میں تخصص کروا رہا ہو، اس میں مہارت بھی ہو جیساکہ فقہ میں تو فقہی مہارت کا ہونا ضروری ہے ۔
لہذا مندرجہ بالا شرئط کی معدوم ہونے(نا پائے جانے ) کے سبب وہ شخص نااہل قرار پائے گا۔
ناظرہ و حفظ کے استاد کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ تجوید کے ابتدائی قواعد سے بخوبی واقف ہو اور حروف کے مخارج درست طور پر ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا اخلاقِ حسنہ سے مزین ہونا بھی لازم ہے، تاکہ وہ خود بھی اخلاقی برائیوں سے محفوظ رہے اور اپنے طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت مؤثر اور بہتر انداز میں کر سکے۔
3:اسی طرح اگر کسی شخص کو کسی کام کے لیے مقرر کیا جائے اور وہ اس کام کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی تقرری درست اور جائز ہے۔ لیکن اگر وہ اس کام کے بعض پہلوؤں سے واقف ہو اور بعض سے ناواقف ہو، تو ایسی صورت میں اس کی تقرری جائز نہیں ہوتی۔
4:معلم سے مراد وہ شخص ہے جو محض علم رکھنے والا نہ ہو، بلکہ طلبہ تک بات مؤثر انداز میں پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ وہ اصولِ تدریس سے واقف ہو، گفتگو، بحث و مباحثہ اور دلیل کے ساتھ قائل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ صرف نصابی کتاب کو سمجھ لینا، یاد کر لینا یا اسے دہرا دینا کسی کو معلم نہیں بناتا، کیونکہ معلم وہی ہے جو بات کو طلبہ کے فہم کے مطابق منتقل کرنا جانتا ہو۔ لہٰذا اگر کسی شخص کو معلم کی حیثیت سے مقرر کیا جائے جبکہ طلباء تک اپنی بات یا مافی الضمیر منتقل کرنے صلاحیت نہیں رکھتا، تو ایسی تقرری شرعاً جائز نہیں ہوگی۔ نہ وہ شخص اس منصب سے وابستہ وظیفہ یا تنخواہ کا حق دار ہوگا، اور نہ ہی اسے اس عہدے پر فائز کرنے والے افراد گناہ سے محفوظ رہیں گے۔
5: نااہل شخص کو کسی عہدے پر مقرر کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دو گناہ شامل ہیں: ایک، بغیر اہلیت کے تقرری کا گناہ، اور دوسرا کسی اہل شخص کے حق کو چھیننے کا گناہ۔ لہذا نااہل کو عہدے پر مقرر کرنا جائز نہیں۔6:اگر کسی ادارے میں واقعی نااہل افراد کو ذمہ دار عہدوں پر بٹھایا گیا ہو اور وہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو اس کے شرعی احکام درج ذیل ہوں گے:
اگر کوئی شخص تدریس کے قابل نہ ہو تو اسے مدرّس کا عطیہ (وظیفہ) دینا جائز نہیں، اور نہ ہی اس کے لیے اس وظیفے کو لینا حلال ہے۔ اسی طرح وہ طلبہ جو مدرسہ میں مقیم ہوں، اس عطیے کے حق دار نہیں ہوں گے، کیونکہ جس مدرسہ میں مدرّس موجود نہ ہو وہاں اس عطیے کا استحقاق نہیں بنتا۔نا ہی ان کیلئے کسی قسم کی مراعات لینا جائز ہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نااہل افراد کو عہدوں پر فائز کرنا، ان سے کام لینا، انہیں تنخواہیں دینا، اور جان بوجھ کر ایسے نظام کی مالی یا اخلاقی مدد کرنا شرعاً درست نہیں۔
البتہ اگر کسی شخص کو اس نااہلی کا یقینی علم نہ ہو، یا وہ اصلاح کی نیت سے تعاون کرے اور غالب گمان ہو کہ حالات درست ہو سکتے ہیں، تو ایسی صورت میں حکم مختلف ہو سکتا ہے۔
8: فاسق معلن : جو شخص اعلانیہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتا یا گناہ صغیرہ پر اصرار کرتاہو وہ فاسق معلن ہے۔اور ایسا شخص کسی منصب کے لائق نہیں۔
دلائل و جزئیات:
خائن شخص وقف کے معاملات کا اہل نہیں جیساکہالبحرا لرائق میں ہے:(وَيُنْزَعُ لَوْ خَائِنًا كَالْوَصِيِّ وَإِنْ شَرَطَ أَنْ لَا يُنْزَعَ) أَيْ وَيَعْزِلُ الْقَاضِي الْوَاقِفَ الْمُتَوَلِّيَ عَلَى وَقْفِهِ لَوْ كَانَ خَائِنًا كَمَا يَعْزِلُ الْوَصِيَّ الْخَائِنَ نَظَرًا لِلْوَقْفِ وَالْيَتِيمِ وَلَا اعْتِبَارَ بِشَرْطِ الْوَاقِفِ أَنْ لَا يَعْزِلَهُ الْقَاضِي وَالسُّلْطَانُ لِأَنَّهُ شَرْطٌ مُخَالِفٌ لِحُكْمِ الشَّرْعِ فَبَطَلَ وَاسْتُفِيدَ مِنْهُ أَنَّ لِلْقَاضِي عَزْلَ الْمُتَوَلِّي الْخَائِنِ غَيْرِ الْوَاقِفِ بِالْأَوْلَى وَصَرَّحَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ أَنَّ عَزْلَ الْقَاضِي لِلْخَائِنِ وَاجِبٌ عَلَيْهِ وَمُقْتَضَاهُ الْإِثْمُ بِتَرْكِهِ وَالْإِثْمُ بِتَوْلِيَةِ الْخَائِنِ وَلَا شَكَّ فِيهِ وَفِي الْمِصْبَاحِ وَفَرَّقُوا بَيْنَ الْخَائِنِ وَالسَّارِقِ وَالْغَاصِبِ بِأَنَّ الْخَائِنَ هُوَ الَّذِي خَانَ مَا جُعِلَ عَلَيْهِ أَمِينًا وَالسَّارِقُ مَنْ أَخَذَ خُفْيَةً مِنْ مَوْضِعٍ كَانَ مَمْنُوعًا مِنْ الْوُصُولِ إلَيْهِ وَرُبَّمَا قِيلَ كُلُّ سَارِقٍ خَائِنٍ دُونَ عَكْسِهِ وَالْغَاصِبُ مَنْ أَخَذَ جِهَارًا مُعْتَمِدًا عَلَى قُوَّتِهِ اهـ.ترجمہ:اگر کوئی خائن وصی کی طرح وقف پر مقرر ہو تو واجب ہے کہ اسے ہٹا دیا جائے، چاہے اس نے شرط کر رکھی ہو کہ اسے نہیں ہٹایا جائے۔یعنی قاضی اس شخص کو، جو وقف کا متولی ہے، اگر خائن ہو، ہٹا دیتا ہے، جیسا کہ خائن وصی کو ہٹایا جاتا ہے، تاکہ وقف اور یتیم کا حق محفوظ رہے۔وقف کرنے والے کی یہ شرط کہ قاضی اسے نہ ہٹائے، معتبر نہیں، کیونکہ یہ شرط شریعت کے حکم کے خلاف ہے، لہٰذا یہ باطل ہے۔اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ قاضی کو حق ہے کہ خائن متولی کو ہٹا دے، اور اگر متولی خود خائن ہو تو اسے ہٹانا اور بھی واجب ہے۔البزازیہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ خائن کو ہٹانا قاضی پر واجب ہے، اور اگر اسے ہٹایا نہ جائے تو گناہ ہوگا، اور اگر خائن کو متولی مقرر کیا جائے تو بھی گناہ ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔المصباح میں خائن، چور اور غاصب کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے:خائن وہ ہے جو جس چیز کا امین بنایا گیا ہے، اس میں خیانت کرے۔چور وہ ہے جو چھپ کر کسی جگہ سے چیز لے لے، جہاں پہنچنا ممنوع ہو۔ بعض اوقات کہا گیا کہ ہر چور خائن ہے، لیکن ہر خائن چور نہیں۔غاصب وہ ہے جو زور و طاقت کے ذریعے کھلا کر کسی چیز کو حاصل کرے۔(البحرالرائق:کتاب الوقف ،شروط الواقفین ،جلد:5،ص:265)
نااہل کو عہدہ دینے میں دو ظلم ہیں، اس بارے میں فتاویٰ شامی میں ہے:وَفِي آخِرِ الْفَنِّ الثَّالِثِ مِنْ الْأَشْبَاهِ إذَا وَلَّى السُّلْطَانُ مُدَرِّسًا لَيْسَ بِأَهْلٍ لَمْ تَصِحَّ تَوْلِيَتُهُ؛ لِأَنَّ فِعْلَهُ مُقَيَّدٌ بِالْمَصْلَحَةِ خُصُوصًا إنْ كَانَ الْمُقَرَّرُ عَنْ مُدَرِّسٍ أَهْلًا فَإِنَّ الْأَهْلَ لَمْ يَنْعَزِلْ وَصَرَّحَ الْبَزَّازِيُّ فِي الصُّلْحِ، بِأَنَّ السُّلْطَانَ إذَا أَعْطَى غَيْرَ الْمُسْتَحِقِّ فَقَدْ ظَلَمَ مَرَّتَيْنِ بِمَنْعِ الْمُسْتَحِقِّ وَأَعْطَاهُ غَيْرَ الْمُسْتَحِقِّ اهـ مُلَخَّصًا. . اور فَنّ الثالث میں الأشباه کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ:اگر سلطان کسی مدرس کو مقرر کرے جو اس منصب کے لیے اہل نہ ہو، تو اس کی تقرری صحیح نہیں ہوگی۔کیونکہ اس کا عمل خاص طور پر مصلحت کے تابع ہے، اور اگر مقرر شدہ مدرس اہل ہو تو اہل شخص معزول نہیں کیا جا سکتا۔اور بزازی نے صلح میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ:اگر سلطان کسی نااہل شخص کو منصب دے دے، تو اس نے دو طرح کے ظلم کیے:1:جسے حق تھا اس کو منع کیا۔2:جسے حق نہیں تھا اس کو دے دیا۔ (حاشیہ ابن عابدین:کتاب الوقف ،باب نزول عن الوظائف،جلد:4،ص:382 مطبوعہ دار الفکر بیروت)
مدرّس کی شروط کے متعلق اور اگر کسی مدرسہ میں نا اہل مدرس ہے تو ایسے مدرس اور مدرسے کا ،حکم کیا ہے ،اس بارے میں الاشباہ میں ہے:و الْأَهْلِيَّةُ لِلتَّدْرِيسِ لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ لَهُ بَصِيرَةٌ.وَاَلَّذِي يَظْهَرُ أَنَّهَا بِمَعْرِفَةِ مَنْطُوقِ الْكَلَامِ وَمَفْهُومِهِ وَبِمَعْرِفَةِ الْمَفَاهِيمِ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ سَابِقَةُ اشْتِغَالٍ عَلَى الْمَشَايِخِ رحمهم الله بِحَيْثُ صَارَ يَعْرِفُ الِاصْطِلَاحَاتِ وَيَقْدِرُ عَلَى أَخْذِ الْمَسَائِلِ مِنْ الْكُتُبِ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ قُدْرَةٌ عَلَى أَنْ يَسْأَلَ وَيُجِيبَ إذَا سُئِلَ، وَيَتَوَقَّفُ ذَلِكَ عَلَى سَابِقَةِ اشْتِغَالٍ فِي النَّحْوِ وَالصَّرْفِ بِحَيْثُ صَارَيَعْرِفُ الْفَاعِلَ مِنْ الْمَفْعُولِ إلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَإِذَا قَرَأَ لَا يَلْحَنُ وَإِذَا لَحَنَ قَارِئٌ بِحَضْرَتِهِ رَدَّ عَلَيْهِ.ترجمہ:تدریس کی اہلیت اس شخص سے مخفی نہیں ہوتی جو بصیرت رکھتا ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ اہلیت کلام کے منطوق اور مفہوم کو جاننے، اور مفاہیم کی معرفت سے حاصل ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ اس نے مشایخ کے ساتھ پہلے سے باقاعدہ استاذ کی صحبت میں رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اصطلاحات کو پہچاننے لگے اور کتابوں سے مسائل اخذ کرنے پر قادر ہو جائے۔ اور اس میں یہ صلاحیت بھی ہو کہ سوال کرے اور اگر اس سے سوال کیا جائے تو جواب دے۔ یہ سب کچھ نحو اور صرف میں سابقہ محنت پر موقوف ہے، یہاں تک کہ وہ فاعل اور مفعول میں فرق کر سکے اور اس کے علاوہ دیگر امور کو بھی پہچان لے۔ اور جب وہ پڑھے تو لحن (نحوی غلطی) نہ کرے، اور اگر اس کی موجودگی میں کوئی پڑھنے والا غلطی کرے تو وہ اسے درست کر دے۔(الاشباۃ والنظائر:الفن الثالث،الفروق،جلد:1،ص:337 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
اسی طرح اس بارے میں الموسوعۃ الفقھیہ میں ہے:شُرُوطُ الْمُدَرِّسِ: يُشْتَرَطُ فِي اسْتِحْقَاقِ الْمُدَرِّسِ فِي الْعَطِيَّةِ الشُّرُوطُ التَّالِيَةُ۔أ - أَنْ يَكُونَ أَهْلًا لِلتَّدْرِيسِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ صَالِحًا لِلتَّدْرِيسِ فَلاَ يُعْطَى عَطِيَّةَ الْمُدَرِّسِ، وَلاَ يَحِل لَهُ تَنَاوُلُهَا، وَلاَ يَسْتَحِقُّ الْمُتَفَقِّهُونَ الْمُنْزِلُونَ فِي الْمَدْرَسَةِ الْعَطِيَّةَ؛ لأَ نَّ مَدْرَسَتَهُمْ شَاغِرَةٌ عَنِ الْمُدَرِّسِ، وَلاَ يَجُوزُ لِلسُّلْطَانِ تَنْصِيبُ مُدَرِّسٍ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِلتَّدْرِيسِ وَلاَ يَصِحُّ تَنْصِيبُهُ، لأَ نَّ تَصَرُّفَ السُّلْطَانِ مُقَيَّدٌ بِالْمَصْلَحَةِ وَلاَ مَصْلَحَةَ فِي تَنْصِيبِ غَيْرِ الأَ هْل لِلتَّدْرِيسِ.وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّ الأَ هْلِيَّةَ بِمَعْرِفَةِ مَنْطُوقِ الْكَلاَمِ وَمَفْهُومِهِ وَبِمَعْرِفَةِ الْمَفَاهِيمِ (٣) .ب - أَنْ تَكُونَ لَهُ سَابِقَةُ اشْتِغَالٍ عَلَى الْمَشَايِخِ بِحَيْثُ صَارَ يَعْرِفُ الاِصْطِلاَحَاتِ، وَيَقْدِرُعَلَى أَخْذِ الْمَسَائِل مِنَ الْكُتُبِ.ج - أَنْ تَكُونَ لَهُ قُدْرَةٌ عَلَى أَنْ يَسْأَل وَيُجِيبَ إِذَا سُئِل، وَيَتَوَقَّفُ ذَلِكَ عَلَى سَابِقِ اشْتِغَالٍ بِالنَّحْوِ وَالصَّرْفِ بِحَيْثُ صَارَ يَعْرِفُ الْفَاعِل مِنَ الْمَفْعُول إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ مَبَادِئِ الْقَوَاعِدِ الْعَرَبِيَّةِ، وَإِذَا قَرَأَ لاَ يَلْحَنُ، وَإِذَا لَحِنَ قَارِئٌ بِحَضْرَتِهِ رَدَّ عَلَيْهِ ترجمہ : مدرّس کو عطیہ (وظیفہ/تنخواہ) کا مستحق قرار دینے کے لیے درج ذیل شرائط پائی جانا ضروری ہیں:
(الف) یہ کہ وہ تدریس کے لیے اہل ہو۔
پس اگر وہ تدریس کے لائق نہ ہو تو اسے مدرّس کا عطیہ نہیں دیا جائے گا، اور اس کے لیے اس عطیے کا لینا حلال نہیں ہوگا۔اور وہ طلبہ(متفقہین) جو مدرسہ میں مقیم ہوں، وہ بھی اس عطیے کے مستحق نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کا مدرسہ مدرّس سے خالی ہے۔اور سلطان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسے شخص کو مدرّس مقرر کرے جو تدریس کے اہل نہ ہو، اور نہ ہی اس کی تقرری صحیح ہوگی، کیونکہ سلطان کا تصرّف مصلحت کے ساتھ مقید ہے، اور غیر اہل شخص کو تدریس پر مقرر کرنے میں کوئی مصلحت نہیں۔اور جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اہلیت اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ کلام کے منطوق (صریح مفہوم) اور مفہوم (ضمنی مفہوم) کو جانتا ہو، اور مفاہیم کی معرفت رکھتا ہو۔
(ب) یہ کہ اس نے مشایخ کے ساتھ باقاعدہ اشتغال کیا ہو، یہاں تک کہ وہ اصطلاحات کو پہچاننے لگے، اور کتابوں سے مسائل اخذ کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔
(ج) یہ کہ اس میں سوال کرنے اور سوال ہونے پر جواب دینے کی صلاحیت ہو، اور یہ صلاحیت نحو اور صرف میں سابقہ اشتغال پر موقوف ہے، یہاں تک کہ وہ فاعل کو مفعول سے وغیرہ پہچان سکے، یعنی عربی قواعد کے ابتدائی اصولوں سے واقف ہو۔اور جب وہ خود پڑھے تو لحن (غلطی) نہ کرے، اور اگر اس کے سامنے کوئی پڑھنے والا لحن کرے تو وہ اس کی اصلاح کر دے۔(الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ:جلد:36 ،ص:234 حرف المیم)
مدرس کے آداب کے متعلق مذکور ہے:وَآدَابُ الْمُعَلِّمِ مَعَ طَلَبَتِهِ هِيَ: أَنْ يَقْصِدَ بِتَعْلِيمِهِمْ وَتَهْذِيبِهِمْ وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى، وَنَشْرَ الْعِلْمِ، وَإِحْيَاءَ الشَّرْعِ.وَأَنْ لاَ يَمْتَنِعَ مِنْ تَعْلِيمِ الطَّالِبِ، لِعَدَمِ خُلُوصِ نِيَّتِهِ، فَإِنَّ حُسْنَ النِّيَّةِ مَرْجُوٌّ لَهُ بِبَرَكَةِ الْعِلْمِ، قَال بَعْضُ السَّلَفِ: طَلَبْنَا الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ، فَأَبَى أَنْ يَكُونَ إِلاَّ لِلَّهِ، وَلأَ نَّ إِخْلاَصَ النِّيَّةِ لَوْ شُرِطَ فِي تَعْلِيمِ الْمُبْتَدَئِينَ فِيهِ مَعَ عُسْرِهِ عَلَى كَثِيرٍ مِنْهُمْ لأَدَّى ذَلِكَ إِلَى تَفْوِيتِ الْعِلْمِ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ، لَكِنَّ الشَّيْخَ يُحَرِّضُ الْمُبْتَدِئَ عَلَى حُسْنِ النِّيَّةِ بِالتَّدْرِيجِ.وَأَنْ يُرَغِّبَ الطَّالِبَ فِي الْعِلْمِ وَطَلَبِهِ فِي أَكْثَرِ الأَ وْقَاتِ.وَأَنْ يَتَلَطَّفَ فِي تَفْهِيمِهِ، لاَ سِيَّمَا إِذَا كَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ، وَيُحَرِّضَهُ عَلَى طَلَبِ الْفَوَائِدِ، وَحِفْظِ الْفَرَائِدِ وَلاَ يَدَّخِرُ عَنْهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْعُلُومِ مَا يَسْأَلُهُ عَنْهُ وَهُوَ أَهْلٌ لَهُ، وَكَذَلِكَ لاَ يُلْقِي إِلَيْهِ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَتَأَهَّل لَهُ، لأَ نَّ ذَلِكَ يُبَدِّدُ ذِهْنَهُ وَيُفَرِّقُ فَهْمَهُ.وَأَنْ يَحْرِصَ عَلَى تَعْلِيمِ الطَّالِبِ وَتَفْهِيمِهِ ترجمہ :استاد کے اپنے طلبہ کے ساتھ آداب یہ ہیں:یہ کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت میں اللہ تعالیٰ کی رضا، علم کی اشاعت اور شریعت کی احیاء کو مقصد بنائے۔اور یہ کہ وہ طالبِ علم کو صرف اس وجہ سے تعلیم دینے سے انکار نہ کرے کہ اس کی نیت خالص نہیں ہے؛ کیونکہ علم کی برکت سے اس کے لیے حسنِ نیت کی امید رکھی جاتی ہے۔ بعض سلف صالحین نے کہا ہے:ہم نے علم اللہ کے سوا کسی اور مقصد کے لیے حاصل کیا، لیکن علم نے انکار کیا کہ وہ اللہ ہی کے لیے ہو۔اور اس لیے بھی کہ اگر ابتدائی طلبہ کو تعلیم دینے میں نیت کے اخلاص کو شرط بنا دیا جائےحالانکہ یہ بہت سوں کے لیے مشکل ہوتا ہےتو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بہت سے لوگ علم سے محروم رہ جائیں گے۔ بلکہ استاد کو چاہیے کہ وہ طالبِ علم کو بتدریج اچھی نیت کی طرف ابھارتا رہے۔اور یہ کہ وہ اکثر اوقات طالبِ علم کو علم اور اس کے حصول کی رغبت دلائے۔اور یہ کہ وہ اسے سمجھانے میں نرمی اور شفقت اختیار کرے، خاص طور پر جب طالبِ علم اس کا اہل ہو، اور اسے فوائد کے حصول اور نادر مسائل کے یاد کرنے پر ابھارے۔اور وہ اس سے کسی ایسے علم کو نہ چھپائے جس کے بارے میں وہ سوال کرے اور جس کا وہ اہل ہو۔ اسی طرح وہ اس پر ایسا علم بھی نہ ڈالے جس کے لیے وہ ابھی تیار نہ ہو، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی ذہنی صلاحیت بکھر جاتی ہے اور اس کی سمجھ منتشر ہو جاتی ہے۔اور یہ کہ وہ طالبِ علم کی تعلیم اور اسے اچھی طرح سمجھانے میں پوری محنت اور توجہ صرف کرے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیہ:جلد:29،ص:86 حرف الطاء)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"لِلْوَاقِفِ عَزْلُ النَّاظِرِ مُطْلَقًا، بِهِ يُفْتَى".ترجمہ:مطلقاً واقف کو یہ جائز ہے کہ وہ نگران کو معزول کردے، اسی پر فتوی ہے۔(الدر المختار، کتاب الوقف، مطلب التولية خارجة عن حكم سائر الشرائط، 4/427، دار الفکر)
اس کے تحت خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "أَيْ سَوَاءً كَانَ بِجُنْحَةٍ أَوْ لَا وَسَوَاءٌ كَانَ شَرَطَ لَهُ الْعَزْلَ أَوْ لَا". ترجمہ: نگران کا جرم ہو یا نہ ہواور معزولی کی شرط ہویانہ ہوبرابر ہے۔(رد المحتار، 4/427)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ وقف نامہ میں جسے متولی کیا تھا اس کی جگہ خود متولی رہنا چاہتا ہے یہ اس کے اختیار کی بات ہے اسے معزول کرکے آپ متولی ہوسکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 16/119، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’واقف کو اختیار ہے کہ متولی کو معزول کرکے دوسرا متولی مقرر کردے یا خود اپنے آپ متولی بن جائے‘‘۔ (بہار شریعت،2/578، مکتبۃ المدینۃ کراچی)
بہار شریعت میں ہے :متولی اگر امین نہ ہو ،خیانت کرتا ہو یا کام کرنے یا کام کرنے سے عاجز ہے،یا علانیہ شراب پیتا ہو ،جوا کھیلتا ہو یا دوسرا علانیہ فسق کرتا ہو یا اسے کیمیا بنانے کی دھت ہو تو اسکو معزول کرنا واجب ہے،کہ اگر قاضی نے اسے معزول نہ کیا تو قاضی بھی گنہگار ہے ، اور جس میں یہ صفات پائی جاتی ہو ں،اسکو متولی بنانا بھی گناہ ہے۔(بھار شریعت:جلد:2،حصہ:10ص:577)
فاسق شخص کسی منصب کا اہل نہیں ہوتا ، فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے۔ جیسا کہ غنیۃ المستملی میں ہے: لوقدموافاسقایاثمون،بناءعلی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم ترجمہ: اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا، تو وہ گناہ گار ہوں گے کیونکہ اس کو مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔(غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی، ج01،ص442، مطبوعہ کوئٹہ)
فاسق شخص کسی منصب کے لائق نہیں حتی کہ اگر فاسقِ معلن کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نماز پڑھانے والا نہ ہو تو اس صورت میں تنہا تنہا نماز پڑھی جائے گی۔ جیسا کہ سیّدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ فاسق فاجر کے پیچھے ، جب کوئی نماز پڑھانے والا نہ ہو، نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: اگر علانیہ فسق وفجور کرتا ہے اور دوسرا کوئی امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں۔ فان تقدیم الفاسق اثم والصلاۃ خلفہ مکروہۃ تحریما والجماعۃ واجبۃ فھما فی درجۃ واحدۃ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح۔ کیونکہ تقدیم ِ فاسق گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جماعت واجب ہے، پس دونوں کا درجہ ایک ہے، لیکن مصالح کے حصول سے مفاسد کو ختم کرنا اہم اور ضروری ہوتا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 06، ص 600، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملخصاً)
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن محمد عیسیٰ
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1447 ھ/27 جنوری 2026ء