بیوی ماں ، ایک بیٹی دو بیٹے
    تاریخ: 6 اپریل، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 1101

    سوال

    میرے شوہر کا انتقال 2007 میں ہوا۔میرے تین بچے ہیں ایک بیٹی اور دو بیٹے ۔میرے سسر کا انتقال میرے شوہر سے پہلے ہوگیا تھا ، اور میرے شوہر نے اپنی ماں کو ایک بلڈنگ ایک گھر اور 50 ہزار حصے کے طور پر دیئے تھے ۔ میرے شوہر کے انتقال کے بعدمیری ساس نے اپنا حصہ مانگا تھا ۔ اسکے بعد میری ساس کا انتقال ہوگیا اب انکے بچے یعنی میرے شوہر کے بہن بھائی اپنی ماں کا حصہ مانگتے ہیں ۔

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے شوہر کے بہن بھائیوں کا حصہ بنتا ہے جبکہ ساس کو زندگی میں دے دیا تھا اور یہ جائیداد آبائی نہیں سارے میرے شوہر کی کمائی ہے ۔ اگر بنتا ہے تو کتنا ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا میرا کتنا میرے بچوں کا اور ساس کے حصے میں سے شوہر کے بہن بھائیوں کا کتنا ؟ میری ساس کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

    سائل:شبانہ ادریس: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو خواہ مال وراثت آپکے شوہر کو وراثت میں ملا ہو یا انہوں نے خود کمایا سب کا سب تقسیم ہوگا اور اس میں انکی والدہ کا بھی حصہ ہوگا، پھر انکی والدہ کا حصہ آپ کے شوہر کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔اسکی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کے 840 حصے کیے جائیں گےجس میں سے 105 حصے آپکو ، 119 حصے آپکی بیٹی کو ، 238حصے آپکے ہر بیٹے کو ملیں گے جب کہ آپکے شوہر کے بہن بھائیوں میں سے ہر بھائی کو 40 حصے اور بہن کو 20 حصے ملیں گے ۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی: وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان :اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو۔

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ کل مال وراثت کو مبلغ یعنی 840 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 رمضان المبارک 1440 ھ/15مئی 2019 ء