talibat se farigh ul tahseel hone ke bawajood mahana fees ka mutalba karna aur asnad rokna kaisa
سوال
ایک مدرسہ کی ناظمہ نے فارغ التحصیل طالبات کو پیغام بھیجا ہے کہ جب تک وہ تنظیم المدارس کے امتحانات ادارے کے تحت دیں گی، تب تک انہیں مدرسہ کی ماہانہ فیس ادا کرنی ہوگی تاکہ ادارے کے مالی حالات بہتر ہوں۔ اور فیس نہ دینے کی صورت میں ان کی تعلیمی اسناد روک لی جائیں گی۔اس مسئلہ میں پوچھنا یہ تھا کہ مدرسے کا فیس لینا اور فیس ادا نہ کرنے پر اسناد روک لینا شرعاً جائز ہے؟
سائلہ :بنتِ حواء
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں نہ فیس لینا جائز، نہ اسناد وغیرہ روکنا جائز۔
تعلیم و تعلم کا یہ معاملہ اجارہ شمار ہوتا ہے، جس میں طالبات مستاجر (منفعت حاصل کرنے والی) اور مدرسہ کی انتظامیہ مؤجِر (منفعت فراہم کرنے والی) ہوتی ہے۔ جب طالبات کی باقاعدہ تعلیم اور کلاسز مکمل ہو گئیں، اور اب مدرسہ کوئی تدریسی خدمت فراہم نہیں کر رہا، لہذا وہ طالبات سے ماہانہ تعلیمی فیس لینے کا شرعاً حقدار نہیں ، کیونکہ یہاں انتظامیہ اجیر مشترک ہے جو کہ اجرت کی صرف اس وقت مستحق ہوتا ہے جب طے شدہ عمل مکمل کرے۔ادارے کے مالی حالات کی بہتری کیلئے طالبات سے تعاون کی اپیل تو کی جا سکتی ہے، لیکن تعاون ہمیشہ رضا کارانہ ہوتا ہے، اسے جبر اور دباؤ کے ذریعے لازم کرنا اور اسے اسناد کے حصول کی شرط بنانا ناحق مال کھانا ہے، جس سے قرآنِ کریم میں منع کیا گیا ہے۔
البتہ دفتری اخراجات (یعنی الحاق کی سہولت، ڈاکومنٹیشن وغیرہ) ، تو اگر مدرسہ کو اس مد میں کچھ حقیقی انتظامی اخراجات درپیش ہوں، تو وہ صرف اتنی ہی رقم (بقدرِ ضرورتِ دفتری) بطورِ امتحانی فیس وصول کر سکتا ہے۔ اس سے زائد ماہانہ فیس وصول کرنا غبنِ فاحش اور ظلم ہے۔
رہی بات اس بنیاد پر اسناد روکنے کی، تو حقِّ حبس اس وقت حاصل ہوتا ہے جب سامنے والے پر کوئی واجبی حق قائم ہو چکا ہو۔ یہاں چونکہ ابھی دفتری سہولت فراہم ہی نہیں کی گئی، لہذا انتظامیہ کا کوئی حق طالبات پر لازم ہی نہیں ہوا، تو حقِ حبس کا دعویٰ سرے سے باطل ہے۔لہذا، طالبات کی اسناد کو روکنا غصب بلکہ رشوت ہے، کہ بلا عقدِ شرعی محض اپنا کام بنانے کیلئے ظالم کو مال دینا ہی رشوت ہے۔ پس انتظامیہ پر لازم ہے کہ اگر کسی طالبہ کی اسناد روکی ہیں تو بلا تاخیر ان کے حوالے کرے۔
دلائل و جزئیات:
اجیر مشترک کے مستحق اجرت ہونے پر مجلۃ الاحكام العدليۃ میں ہے:"الأجير المشترك لا يستحق الأجرة إلا بالعمل".ترجمہ:اجیر مشترک محض عمل سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔ (مجلة الأحكام العدلية ، المادة 424،ص: 82، نور محمد، كارخانہ تجارتِ كتب، آرام باغ کراچی)
علامہ ابوالحسین احمد بن محمدبن احمدالقدوری (المتوفی: 428 ھ )فرماتے ہیں: "فالمشترك: من لا يستحق الأجرة حتى يعمل كالصباغ والقصار والمتاع".ترجمہ: پس اجیرِ مشترک وہ ہے جو اجرت کا مستحق نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ کام کر لے جیسے کہ دھوبی اور رنگریز وغیرہو ۔ (مختصر القدوری، کتاب الاجارۃ، ص: 102، دار الکتب العلمیۃ)
نا حق مال کھانے پر ارشاد باری تعالی ہے وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ.ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرة: 188)
مالِ مسلم کی حرمت اور بغیر اجازت تصرف کی ممانعت پر علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں: "ولو جلس على بساط الغير، أو هبت الريح بثوب إنسان، فألقته في حجره - لا يكون غاصبا ما لم ينقله أو يمسكه، وهو تصرف منهي عنه حرام؛ لكونه تصرفا في مال الغير بغير رضاه، قال الله تعالى: {لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] ، ولأن حرمة مال المسلم كحرمة دمه. قال - عليه الصلاة والسلام -: «كل المسلم على المسلم حرام: دمه، وعرضه، وماله» . وقال - عليه الصلاة والسلام -: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه» ، وعلى حرمته بالإجماع، وهو من المحرمات عقلا؛ لأن الظلم حرام عقلا على ما عرف في الأصول". ترجمہ: اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے بچھونے پر بیٹھ گیا، یا ہوا چلی اور کسی انسان کا کپڑا اڑ کر دوسرے کی گود میں آ گرا، تو وہ (بیٹھنے یا کپڑا گود میں گرنے والا) اس وقت تک غاصب نہیں ہوگا جب تک کہ اسے منتقل نہ کرے یا (اپنے قبضے میں) روک نہ لے، اور یہ (بغیر رضا مندی کے) ایسا تصرف ہے جس سے منع کیا گیا ہے اور یہ حرام ہے؛ کیونکہ یہ دوسرے کے مال میں اس کی رضا کے بغیر تصرف ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اپنے مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت ہو، اور اس لیے بھی کہ مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح (لازم) ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر (تین چیزیں) حرام ہیں: اس کا خون، اس کی عزت اور اس کا مال، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر (دوسرے کیلئے) حلال نہیں ، اور اس کی حرمت پر اجماع ہے، نیز یہ عقلاً بھی محرمات میں سے ہے کیونکہ ظلم عقلاً بھی حرام ہے جیسا کہ اصولِ فقہ میں معروف ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الغصب، 3/59، مطبعة الحلبي القاهرة)
نقد سودے میں بائع کے حبسِ مبیع کے حق پر الذخیرۃ البرہانیۃ،المحیط الرضوی اور الفتاوی الہندیۃ میں ہے واللفظ لہ:"قال أصحابنا رحمهم الله تعالى للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا".ترجمہ: ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ ثمن کی وصولیابی کیلئے بائع کو مبیع کے روکنے کا حق حاصل ہے اگر ثمن کی میعاد نہ رکھی گئی ہو۔ (الفتاوی الہندیۃ،3/15،دار الفکر،المحیط الرضوی،2/372،دار الکتب العلمیۃ ،الذخیرۃ البرہانیۃ،9/234،دار الکتب العلمیۃ)یہاں مبیع کو روکنے کا حق اس لئے دیا گیا کہ ثمن واجب الادا تھا ۔
اجیرِ مشترک (جیسے دھوبی یا درزی) کے شے مستاجرہ کے حقِّ حبس پر امام ابو عبد اللہ محمد بن حسن شیبانی (المتوفی: 189ھ) لکھتے ہیں: "واما الصباغ والقصار والخياط وكل صانع يعمل عملا بيده في بيته فليس لصاحب المتاع ان ياخذ متاعه حتى يعطيه الاجر. وهذا قول ابي حنيفة وابي يوسف. وذلك لأنه لو هلك لم يكن له أجر. وكل شيء إذا هلك لم يكن له أجر فله أن يحبسه حتى يأخذ الأجر".ترجمہ: رہے رنگریز، دھوبی، درزی اور ہر وہ کاریگر جو اپنے گھر (یا دکان) میں اپنے ہاتھ سے کام کرتا ہے، تو سامان کے مالک (گاہک) کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنا سامان (زبردستی) لے جائے جب تک کہ وہ کاریگر کو اس کی اجرت ادا نہ کر دے۔ اور یہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ کا قول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ سامان (کام مکمل ہونے کے بعد کاریگر کے پاس) ضائع ہو جائے تو کاریگر کو کوئی اجرت نہیں ملتی۔ اور ہر وہ چیز جس کے ضائع ہو جانے پر کاریگر کی اجرت ڈوب جاتی ہو، تو کاریگر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اجرت لینے تک اس چیز کو اپنے پاس روک کر رکھے۔ (المبسوط، كتاب الإجارات، باب من استأجر أجيرا يعمل له فيى بيتة، 3/584، دار ابن حزم، بيروت) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 محرم الحرام 1448ھ/1 جولائی 2026ء