سوال
1: میری دس سال کی قربانیاں رہ گئی ہیں جو کہ میں رقم کی صورت میں آہستہ آہستہ ادا کررہی ہوں، یہ پیسے کن لوگوں کو دینے ہیں ؟ کیا میں ان پیسوں سے غریب بچیوں کی شادی کرواسکتی ہوں، یا پھر اپنے کسی بہن بھائی کو دے سکتی ہوں ؟ تفصیلی جواب دے دیں۔
2: میری ایک نند (زیب النساء )تھی جس کا ذہنی توازن درست نہیں تھا اسکو طلاق واقع ہوچکی تھی،انکا چاندی کا زیور ہمارے پاس تھا جوکہ 9 ہزار کا فروخت ہوا ، انکے شوہر کا انتقال ہوچکا ہےاور انکے تین بیٹے(فیاض ، طارق اور سلطان) ہیں جس میں سے ایک بیٹے(فیاض) کا بھی ایک سال قبل انتقال ہوچکا ہےاسکی ایک بیوی(شبانہ ) اور تین بیٹیاں (فاطمہ، زینب،رضیہ)ہیں کوئی بیٹا نہیں ہے۔ بقیہ دو بیٹے حیات ہیں اس رقم کا اصل حقدار کون ہے ان کے بیٹے یا انکے بہن بھائی؟ برائے کرم تفصیلی جواب عنایت کردیں۔
سائل:منظور الرحمان : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: ہر سال کی فوت شدہ قربانی کے عوض ایک بکری کی قیمت صدقہ کرنا اور اس غفلت پر اللہ کریم کی بارگاہ میں صدقِ دل سے توبہ کرنا لازم ہے۔
لہذا دس سال کی فوت شدہ قربانیوں کی وجہ سے دس بکریوں کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے اور بکری کی قیمت کا حساب ان سالوں کے اعتبار سے لگایا جائے گا جن سالوں میں قربانی فوت ہوئی۔نیز یہ کہ یہ قیمت فقیرِ شرعی پر تصدق کرنا لازم ہے لہذا اگر بہن بھائیوں میں سے کوئی فقیرِ شرعی ہو تو بلاشبہ یہ رقم اسے دینا جائز بلکہ اولٰی ہے، کہ اس میں صلہ رحمی کا پہلو بھی شامل ہے۔ اور اگر بہن بھائیوں میں سے کوئی فقیرِ شرعی نہ ہو تو ان غریب بچیوں کو جو کہ فقیرِ شرعی ہوں یہ رقم دے کر انہیں مالک بنا دیا جائے تو اس طرح ادائیگی سے فوت شدہ قربانیوں کی تلافی ہوجائے گی ۔
بدائع الصنائع میں ہے:انھا لاتقضی بالاراقۃ لأن الاراقۃ لا تعقل قربۃ وانما جعلت قربۃ بالشرع فی وقت مخصوص فاقتصر کونھا قربۃ علی الوقت المخصوص فلا تقضی بعد خروج الوقت ۔ترجمہ:قربانی کی قضا خون بہانے (یعنی جانور ذبح کرنے)سے نہیں ہوسکتی ،کیونکہ خون بہانا عقلاً قربت نہیں ہے ،اسے شرع کی وجہ سے ایک وقت مخصوص میں قربت قرار دیا گیا ہے ،تو اس کا قربت ہونا وقت مخصوص تک ہی محدود ہوگا ،وقت کے ختم ہونے کے بعد اس طرح قضا نہیں ہوسکتی۔(بدائع الصنائع ، جلد4، صفحہ 202 ، مطبوعہ کوئٹہ)
اسی میں ایام نحر کے بعد قیمت لازم ہونے کے بارے میں ہے:وان کان لم یوجب علی نفسہ ولا اشتری وھو موسر حتی مضت أیام النحر تصدق بقیمۃ شاۃ تجوز فی الأضحیۃ ۔ترجمہ:اگر قربانی اپنے اوپرخود واجب نہیں کی تھی اور نہ ہی قربانی کیلئے جانور خریدا تھا اور وہ صاحب نصاب بھی تھا (اور اس نے قربانی نہیں کی) یہاں تک کہ ایام نحر گزر گئے تو اب ایک ایسی بکری کی قیمت صدقہ کرے گا جس کی قربانی جائز ہوتی ہو۔(بدائع الصنائع ، جلد4، صفحہ 203 ، مطبوعہ کوئٹہ)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہارشریعت میں فرماتے ہیں:غنی نے قربانی کیلئے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کردے او ر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔ (بهارشریعت ، جلد 3 ، حصہ 15 ، صفحہ 338 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
مزید اسی میں ہے:قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقرعید آ گئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کرلے ، یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔(بہارشریعت ، جلد 3 ، حصہ 15 ، صفحہ 339 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
2: یہ رقم انکے تینوں بیٹوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگی بعد ازاں فیاض احمد کا حصہ اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگا ۔ کل مالِ وراثت کو 432 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ تقسیم کی تفصیل درج ذیل ہے:
سلطان طارق شبانہ فاطمہ(فیاض کی بیٹی ) زینب(فیاض کی بیٹی ) رضیہ(فیاض کی بیٹی )
159 159 18 32 32 32
مسئلہ: 432=144x3
مــیــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا
فیاض سلطان طارق
عصبـــــــــــــــــــــــــــــــہ
1 1 1
144 144
مسئلہ: 144=6x24 فیاض مف:01
مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوی بیٹی بیٹی بیٹی بھائی بھائی
شبانہ فاطمہ زینب رضیہ سلطان طارق
ــــــــــ ـــــــــ ـــــــــــــــ عصبــــــــــــہ
ثمن ثلثان مابقی
3 16 5
18 32 32 32 15 15
الاحیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــالمبلغ432 ــــــــــــــــــــــــــــــــاء
سلطان طارق شبانہ فاطمہ زینب رضیہ
159 159 18 32 32 32
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔
لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 03 ربیع الثانی 1443 ھ/09 نومبر 2021 ء