گٹھنے سے اوپر تک شارٹ پہننا کیسا
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 216

    سوال

    آج کل گرمیوں کے سبب بعض نوجوان اور بالغ لڑکے شارٹس پہنتے ہیں جن میں بعض اوقات گٹھنوں ڈھکے ہوتے ہیں اور بعض اوقات گٹھنے نظر آرہے ہوتے ہیں ، شرعی اعتبار سے ایسے شارٹس پہننے کا کیا حکم ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:علی عبداللہ : کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بالغ یا قریب البلوغ شخص جسے شرعی اصطلاح میں مراہق کہا جاتا ہے، ان کے لئے ناف کے نیچے سے لے کر گٹھنے کے نیچے تک کا حصہ سَتَر(یعنی چھپانے کی جگہ)میں شامل ہے، یعنی گٹھنے شرمگاہ میں داخل ہے۔

    لہذا کسی بالغ یا قریب البلوغ شخص کا ایسے شارٹس پہنناکہ جو گٹھنوں سے اوپر ہوں جس سے گٹھنے مکمل ، اکثریا کم از کم چوتھائی حصہ ظاہر ہوتے ہوں، ناجائز و گناہ ہے۔ مگر جو نہایت چھوٹے بچے ہیں ان کے لئے ستر نہیں ہے۔ ایسے نوجوانوں کے والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاً انہیں حکمت سے سمجھا یا جائے ، نہ سمجھیں تو سختی کی جائے ،اگر انکا اس پر اصرار رہے تو اسلامی حکومت انہیں تعزیراً سزا دے سکتی ہے۔

    السنن الصغرٰی للبیھقی میں ہے:عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَوْرَةَ الرَّجُلِ مَا بَيْنَ السُّرَّةِ وَالرُّكْبَةِ۔ترجمہ: نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ مرد کی شرمگاہ نافاور گٹھنوں کے درمیان ہے۔(السنن الصغرٰی للبیھقی ، حدیث نمبر322)

    البنایہ فی شرح الھدایہ میں علامہ عینی لکھتے ہیں:لقوله عليه الصلاة والسلام: "عورة الرجل ما بين سرته إلى ركبته" ويروى: "ما دون سرته حتى يجاوز ركبتيه وبهذا ثبت أن السرة ليست بعورة والركبة عورة"ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مرد کی شرمگاہ ناف اور گٹھنوں کے درمیان ہے اور ایک روایت ہے کہ جو ناف کے نیچے ہے یہاں تک کہ گٹھنے سے تجاوز کر جائے۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ناف شرمگاہ میں داخل نہیں ہے جبکہ گٹھنا داخل ہے۔( البنایہ فی شرح الھدایہ ، جلد 4 ص 369)

    مجمع الانھر میں مراہق کے بارے میں ہے:وَلَوْ كَانَ مُرَاهِقًا لَمْ يَنْظُرْ إلَى مَا تَحْتَ سُرَّتِهِ إلَى رُكْبَتَيْهِ۔ترجمہ:اور اگر بچہ مراہق ہوتو ناف کے نیچے سے لے کر گٹھنے تک منع ہے۔(مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر، کتاب الخنثٰی، جلد 2 ص 730)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 ذوالحج 1444 ھ/13 جولائی 2023 ء