سوال
مفتی صاحب مجھے صدقہ کرنے کا بہترین مصرف اور طریقہ بتادیں ۔
سائل: محمد ندیم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صدقہ کرنے کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال پر صدقہ کیا جائے اس کا دوگنا ثواب سے ایک صدقہ دینے کا ثواب اور دوسرا صلہ رحمی کا ثواب ۔ چناچہ روایت میں ہے کہ عمرو بن جموح ایک مالدارصحابی تھے تھے۔ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں عرض گزار ھوئے:میں کس چیز میں سے صدقہ دوں اور کن لوگوں کو دوں؟تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ھوئی: يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ” ترجمہ کنز الایمان : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ؟تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے اور جو بھلائی کرو بےشک اللہ اسے جانتا ہے ۔(سورۃ البقرہ آیت:215) ( التفسیر الکبیر للرازی جلد 6ص 381 الشاملہ)
احادیث مبارکہ میں اسی طرح مذکور ہے:سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ»ترجمہ: حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو قوت غنا (یعنی صدقہ دینے کے باوجود خود بھی غنی رہے)سے ہو۱،اور ان سے ابتداءکرو جن کی تم پرورش کرتے ہو۔( بخاری ،کتاب الزکوۃ ،باب بَابُ لاَ صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنًى،حدیث نمبر 1426 الشاملہ)
دوسری حدیث مبارکہ میں ہے:
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَنْفَقَ المُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ، وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً»ترجمہ: روایت ہے حضرت ابومسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب مسلمان اپنے گھر والوں پر ثواب کی طلب میں خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔(بخاری ،کتاب النفقات ،باب فضل الصدقۃ علی الاہل ،حدیث نمبر 5351 الشاملہ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح میں مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : '' یعنی اپنا مال پہلے اپنے پر،پھر اپنے بال بچوں پر،پھر غریب قرابت والوں پر،پھر دوسروں پر خرچ کرو،چونکہ مؤمن کو ان سب خرچوں میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خرچوں کو صدقہ میں شامل فرمایا۔سبحان اﷲ! کیسی پیاری ترتیب ہے اور کیسی نفیس تعلیم اہل قرابت کو صدقہ دینے میں صدقہ کا بھی ثواب ہے اور قرابت ادا کرنے کا بھی''۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 3 ص 133)
اس کے بعد وہ صدقہ افضل ہےکہ جس چیز کی اس وقت تنگی ہو اس کا صدقہ افضل کیا جائے جیسے کہیں پانی کی تنگی ہوتو وہاں کنواں کھدوانا افضل صدقہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:10 ربیع الاول 1440 ھ/19 نومبر 2018 ء