taleeq talaq ki sooraton ka hukm
سوال
ایک خاندانی معاملے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے، واقعات کی ترتیب درج ذیل ہے: پہلا واقعہ (تعلیقِ طلاق - اونچی آواز): میری اہلیہ کو غصے میں اونچی آواز اور دانت پیس کر بات کرنے کی عادت تھی۔ میں نے انہیں روکنے کے لیے یہ الفاظ کہے: "آئندہ اگر تم نے مجھ سے اونچی آواز میں یا دانت پیس کر بات کی تو میری طرف سے تمہیں ایک طلاق ہے"۔ بعد ازاں ایک جھگڑے کے دوران اہلیہ نے دوبارہ اسی انداز میں (اونچی آواز اور دانت پیس کر) بات کی ۔ دوسرا واقعہ (تعلیقِ طلاق - والدین سے ملاقات) اسی غصے کی حالت میں میں نے دوسری شرط یہ رکھی: آئندہ اگر تم اپنے گھر والوں سے ملیں تو میری طرف سے تمہیں تین طلاقیں ہیں۔ نیت: میری نیت مکمل ممانعت کی نہیں تھی، بلکہ یہ تھی کہ وہ میری اجازت کے بغیر نہ ملیں۔ بعد کا اقدام: میں نے بعد میں اپنی یہ بات واپس لینے کا اعلان کیا اور اہلیہ کو والدین سے ملنے کی اجازت دے دی، لیکن اہلیہ طلاق واقع ہونے کے ڈر سے نہیں ملیں۔ تیسرا واقعہ (مفتی صاحب کا مشورہ اور ایک طلاق)چونکہ اس قسم کے بعد بھی والدین سے ملوانا تو تھا ہی اس لئے ایک مفتی صاحب سے مشورہ کیا تاکہ اہلیہ اپنے والدین سے مل سکیں،تو انہوں نے کہا ایک طلاق دیدو اسکی عدت گزر جائے اسکے بعد والدین سے مل لے پھر آپ دوبارہ نیا نکاح کرلینا لہذا میں نے اپنی مرضی کے خلاف ان الفاظ سے (کہ میں تمہیں طلاق دینا نہیں چاہتا لیکن چونکہ والدین سے ملنا ضروری ہے لہذا مفتی صاحب کے پروسس کو فالو کرنے کے لئے تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں) ایک اور طلاق دے دی ۔ ابھی عدت (تین ماہ) مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور جھگڑے میں اونچی آواز میں دانت پیس کر بات کی اس کے بعد میں نے اہلیہ سے کہا: آپ اپنے والدین کے گھر واپس چلی جائیں، جس پر وہ چلی گئیں۔ دریافت طلب مسائل: 1. مذکورہ واقعات اور الفاظ کی روشنی میں مجموعی طور پر کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ 2. پہلی شرط (اونچی آواز) اور دوسری شرط (والدین سے ملنا) کا شرعی حکم کیا ہے؟ 3. دوسری شرط میں سائل کی نیت (اجازت کے ساتھ ملنا) کا حکم پر کیا اثر ہوگا؟ 4. بعد میں جو ایک طلاق دی گئی، کیا شرعاً اس کی ضرورت تھی؟ جزاکم اللہ خیراً
سائل :محمد عمر :حیدرآباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں کئی ایک امور ہیں:
امرِاول یعنی اونچی آواز اور دانت پیس کر بات کرنے پرتعلیقِ طلاق :
پہلے واقعے میں شوہر نے یہ الفاظ کہے: "آئندہ اگر تم نے مجھ سے اونچی آواز میں یا دانت پیس کر بات کی تو میری طرف سے تمہیں ایک طلاق ہے"پھر بعد ازاں شوہر نے اسی انداز میں بات بھی کرلی جس سے شوہرِ موصوف نے منع کیا تو بے شک تعلیق کے بعد یہ طلاق واقع و نافذ ہوگئی کیونکہ تعلیق کا حکم یہ ہے کہ جس چیز پر طلاق کو معلق کیا ہے اس چیز کے وجود کےبعد طلاق واقع ہوجائے گی۔
امردوم یعنی والدین سے ملنے پر تعلیق طلاق :
شوہر نے دوسری تعلیق والدین سے ملنے پر کی تاہم عورت(اس واقعہ تک) نہ ملی لہذا یہ تعلیق واقع نہ ہوئی۔
امرِ سوم یعنی مفتی صاحب کے مشورے پر طلاق:
مفتی صاحب کے مشورے پر طلاق دینے کی صورت میں الفاظ مذکورہ(کہ میں تمہیں طلاق دینا نہیں چاہتا لیکن چونکہ والدین سے ملنا ضروری ہے لہذا مفتی صاحب کے پروسس کو فالو کرنے کے لئے تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں) سے دوسری طلاقِ رجعی واقع ہوگئی۔شوہر اور بیوی کو چاہیے تھا کہ مفتی صاحب کی بات پر عمل کرتے ہوئے عدت تک انتظار کرتے بیوی والدین سے نہ ملتی پھر عدت کے بعد اگر وہ والدین سے مل بھی لیتی تو محلِ طلاق نہ ہونے کے سبب تعلیق باطل ہوجاتی۔ پھر بعد ازاں یعنی عدت کے بعد نئے نکاح نئے حق کے ذریعے دونوں ساتھ رہ سکتے تھے۔
امرِ چہارم یعنی دورانِ عدت والدین سے ملنا:
دوران عدت شوہر نے بیوی کو کہا اپنے والدین کے گھر چلی جاؤ اور وہ چلی گئی تو اس صورت مذکورہ تعلیق (آئندہ اگر تم اپنے گھر والوں سے ملیں تو میری طرف سے تمہیں تین طلاقیں ہیں)نافذ ہوگئی اور تین طلاقوں کی اس تعلیق سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی پھر چونکہ نکاح میں نہ رہی لہذا بقیہ دو لغو و بیکار جائیں گی۔
اب چونکہ عورت کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں لہذا اب میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے لئے حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکے ، اب رجوع کی گنجائش نہیں الا یہ کہ تحلیلِ شرعی ہوجائے۔ عورت چونکہ عدت میں ہے لہذا اس پر لازم عدت مکمل کرے ۔
عدت کی تفصیل یہ ہے:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)
دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)
امر پنجم یعنی شوہر کا بعد میں والدین سے ملنے کی اجازت دینا:
تعلیق بمنزلہ یمین ہوتی ہے ، اس سے رجوع نہیں ہوسکتا یعنی جس طرح کوئی شخص قسم کھانے کےبعد یہ کہے کہ میں قسم سے رجوع کرتا ہوں تو اسکا رجوع غیر صحیح و غیرمعتبر ہے یونہی تعلیق میں بھی رجوع غیر معتبر ہےلہذابعد میں شوہر کے ان الفاظ '' کہ میں نے بعد میں اپنی یہ بات واپس لینے کا اعلان کیا اور اہلیہ کو والدین سے ملنے کی اجازت دے دی''کے ذریعے تعلیق سے رجوع ثابت نہ ہوگا بلکہ اس قول کے باوجود تعلیق باقی رہ کر عند الشرط مؤثر ہوجائیگی اور وقوعِ طلاق کا افادہ کرے گی، جیساکہ یہاں یہی صورت موجود کہ شوہر کے اس قول کے بعد عورت کی جانب سے اس شرط کا وجود(یعنی عدت کے درمیان والدین کے گھر چلی جانا) جس پر شوہرنے طلاق کو معلق کیا،پایا گیا،لہذا طلاق واقع ہوگئی۔
دلائل و جزئیات:
طلاق کو کسی شرط (condition)پر مشروط کرنا تعلیق ِطلاق کہلاتا ہے اور تعلیق کے معنٰی یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں جبکہ عام حالات میں بغیر کسی شرط کے جو طلاق دی جاتی ہے وہ تنجیزا طلاق دینا کہلاتا ہے ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار (باب التعلیق ،ج:3ص:341،طبع:دار الفکر ،بیروت)میں تعلیق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى۔اعلٰی حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس عبارت کی وضاحت کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں :
تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق) کہنے والے نے انت طالق کے مفادِ شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا۔(اور وہ طلاق ہے)۔(فتاوی رضویہ ،باب التعلیق ،ج13ص137)
حکمِ تعلیق سے متعلق الہدایہ مع البنایہ میں ہے:(وإذا أضافه) أي أضاف الرجل الطلاق (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط (وهذا بالاتفاق)ترجمہ:جب کوئی شخص طلاق کو معلق کر دے کسی شرط پر تو شرط کے پائے جانے پر واقع ہو جائے گی جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو طلاق والی ہے "اور یہ اس لیئے ہے کہ کسی شیء کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ایسا ہی ہے جیسے شرط کے پائے جانے پر نافذ کرنا ،اور اس پر سب کا اتفاق ہے ۔
( الہدایہ مع البنایہ ،باب الایمان فی الطلاق ،ج:5،ص:413،طبع:دارالکتب العلمیہ)
سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا: زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے پدر سے کسی تذکرہ میں کہا تھا کہ اگر میری بیوی فلاں مکان میں جائے گی تو میری بیوی ہی نہ رہے گی پھر اس کے چند روز بعد دوسرے جلسے میں زید نے پدرِ ہندہ سے الفاظ مذکورہ دوبارہ پھر ادا کئے کہ ہندہ اگر فلاں مکان میں جائے گی تو میری بی بی ہی نہ رہے گی، بعد تھوڑے عرصہ کے ہندہ بلارضا مندی اپنے شوہر کے اس مکان میں چلی گئی جس کی بابت زید دومرتبہ دو جلسوں میں پدر ہندہ سے عدمِ رضا مندی اپنی ظاہر کرچکا تھا اور اب عرصہ پانچ ماہ سے ہندہ اسی مکان میں مقیم ہے،پس اس صورت میں نکاح زید سے قائم رہا یانہیں؟
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں: اگر زید نے وہ الفاظ دونوں بار خواہ ایک بار بہ نیت ایقاعِ طلاق کے کہے تھے یعنی یہ مطلب تھا کہ اگر وہ وہاں جائے تو اس پر طلا ق ہے تو وہاں جانے سے عورت پر ایک طلاق بائن ہوگی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق ، باب التعلیق جلد 12 ص 208)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: عورت سے کہا اگر تو فلاں کے گھر میں گئی یا تو نے فلاں سےبات کی تو تجھ کوطلاق ہے عورت اُس کے گھر گئی یا بات کی توطلاق ہوگئی۔(بہارِ شریعت ، حصہ 8 ص 150 )۔
تعلیق باطل کرنے کے لئے حیلہ اختیار کرنے سے متعلق مبسوط سرخسی میں ہے:وَلَو قَالَ رجل لامْرَأَته أَنْت طَالِق ثَلَاثًا إِن كلمت فلَانا ثمَّ طَلقهَا وَاحِدَة بَائِنَة ثمَّ كلمت فلَانا فان كَلمته وَهِي فِي عدتهَا وَقع عَلَيْهَا ثَلَاث تَطْلِيقَات وَإِن كَلمته بعد مَا انْقَضتْ الْعدة لم يَقع عَلَيْهَا شَيْء۔ترجمہ:اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اگر تو فلاں سے بات کرے تو تجھے تین طلاق پھر اسے ایک طلاق بائن دے دی اسکے بعد اس عورت نے اس فلاں سے گفتگو کرلی تو اگر اس عورت نے فلاں سے گفتگو دورانِ عدت کی ہے تو اسے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی ۔ لیکن اگر اس نے عدت گزرنے کے بعد گفتگو کی تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔(مبسوط سرخسی ،باب الکفارۃ فی الوفاء جلد 3 ص 339)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے:قال لامرأته أنت طالق ثلاثا إن كلمت فلانا ثم طلقها واحدة بائنة وانقضت عدتها ثم كلمت فلانا عندنا لا يقع الثلاث۔ترجمہ: کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اگر تو فلاں سے بات کرے تو تجھے تین طلاق پھر اسے ایک طلاق بائن دے دے، اور اسکی عدت گزر گئی بعد ازاں گفتگو کی تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔(ایضا جلد 30 ص 160)
حلالہ کا طریقہ اور حکم:
تین طلاقیں واقع ہونے کے بعدمیاں بیوی کا ساتھ رہنا حرام ہے ،اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ، حلالہ کا معنیٰ ہے'' حلال کرنے والا '' جب کسی عورت کو اس کا شوہر تین طلاقیں دے تو وہ عورت اس مردپر ہمیشہ کےلئے حرام ہو جا تی ہے اب اگر یہ عورت پہلے شوہر کے ساتھ ازدواجی رشتہ قائم کرنا چاہتی ہے تو اس کی ایک ہی صورت شریعت اسلامیہ نے رکھی ہے وہ یہ کہ یہ عورت پہلے، اس طلا ق کی عدت گزارے، بعد از عدت کسی اور مرد سے نکاح کرے،پھروہ مرد اس عورت سے حقوق زوجیت ادا کرے اسکے بعد وہ دوسرا شوہر اپنی مرضی سے اس عورت کو طلاق دیکراپنی زوجیت سے خارج کرے پھر یہ عورت اس شوہرِ ثانی کی عدت گزارے، جس کے بعد زوج اول سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے ۔
حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس
طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب