سوال
کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم از روئے شرع بیان فرمادیں۔
سائل:کبیر احمد : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے قبل بطورِ چند تمہیدی مسائل زیرِ غور لانا ضروری ہے۔
1: سجد ہ و قیام پر قادر شخص کے لئے نماز میں قیام فرض ہے ، قدرت کے باوجود اگر نماز بیٹھ کر ادا کی گئی خواہ زمین پر بیٹھے یا کسی کرسی وغیرہ پر ۔ اسکی نماز نہ ہوگی۔
تنویر الابصار مع الدر میں ہے:ومنها القيام في فرض لقادر عليه و على السجود۔ترجمہ: فرض نماز میں قیام نماز کے فرائض میں سے ہے، اس شخص کے لئے جو اس پر اورسجدہ پر قادر ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، باب صفۃ الصلوۃ ، جلد 1 ص 445)
اسی طرح اگر نماز میں مکمل قیام نہیں کرسکتا تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہے اتنی دیر قیام کرنا فرض ہے خواہ کسی عصا یا دیوار وغیرہ پر ٹیک لگا کر قیام کرے۔
تنویر الابصار مع الدر میں ہی ہے:(وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئا على عصا أو حائط (قام) لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب ۔ترجمہ:اور اگر قیام کے کچھ حصہ پر قادر ہو خواہ عصا یا دیوار کے سہارے ہوتو بقدرِ طاقت قیام لازم ہے خواہ ایک آیت یا تکبیر کی مقدار (قدرت ہو) یہی درست مذہب ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، باب صلاۃ المریض ، جلد 2ص 97)
2: اگر کوئی شخص قیام پر تو قادر ہے لیکن رکوع و سجود دونوں یا فقط سجود پر قادر نہیں تو ایسے شخص سے قیام ساقط ہے اسکے لئے جائز ہے کہ وہ مکمل نماز بیٹھ کر ادا کرے یہی افضل ہے تاہم اگر قیام بھی کرتا رہا تو بھی درست ہے۔
تنویر الابصار مع الدر میں ہے:(وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ (قاعدا) وهو أفضل۔ ترجمہ: اور اگر دونوں (قیام و سجود)متعذر ہوجائیں دونوں کا متعذر ہونا شرط نہیں بلکہ سجود کا تعذر کافی ہے نہ کہ قیام کا تو اشارہ سے بیٹھ کر نماز پڑھے اور یہی افضل ہے۔
اسکے تحت علامہ شامی رقمطراز ہیں:(قوله أومأ قاعدا) لأن ركنية القيام للتوصل إلى السجود فلا يجب دونه ۔ ترجمہ:کیونکہ قیام کی رکنیت سجود تک پہنچنے کے سبب ہے لہذا سجود کے بغیر (قیام ) بھی واجب نہ ہوگا۔ (ردالمحتار مع الدر المختار شرح تنویر الابصار، باب صلاۃ المریض ، جلد 2ص 97)
3: بعض صورتوں میں قیام کسی عذر شرعی کی بناء پر ساقط ہوجاتا ہے مثلاً اپاہچ شخص جو قیام پر قادر نہیں یا قیام کرنے سے مرض بڑھ جانے کا اندیشہ ہے یا اسکی مثل دیگر اعذار ہیں تو ان صورتوں میں بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجود کرکے نماز ادا کرے۔
البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: لو تعذر عليه القيام أو خاف زيادة المرض صلى قاعدا يركع ويسجد ۔ ترجمہ:اگر قیام متعذر ہوجائے یا مرض کی زیادتی کا خوف ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجود کرے۔( البحر الرائق شرح کنز الدقائق، باب صلاۃ المریض ،جلد2 ص 121)
ان مقدمات کے بعد کرسی پر نماز پڑھنے والے کی چند صورتیں ہیں:
1: قیام پر قدرت نہ ہو لیکن زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجود کرسکتا ہوتو اس پر لازم ہے کہ زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرے، ایسے شخص نے اگر کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کی تو اسکی نماز نہ ہوگی۔
چناچہ ہدایہ میں ہے: إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد لقوله عليه الصلاة والسلام لعمران بن حصين رضي الله عنه صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى الجنب تومئ إيماء ولأن الطاعة بحسب الطاقة ۔ ترجمہ:جب مریض قیام سے عاجز آجائے تو بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ قیام کرے کیونکہ آپ ﷺ نے عمران بن حصین سے ارشاد فرمایا کہ تم کھڑے ہوکر نماز پڑھواگر اسکی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اسکی بھی نہ ہو تو لیٹ کر اشارے سے پڑھو۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، باب صلوۃ المریض جلد1 ص 76)
یوں ہی بدائع میں ہے: وإن كان قادرا على القعود بركوع وسجود فصلى بالإيماء لا يجزئه بالاتفاق؛ لأنه لا عذر۔ ترجمہ:اور اگر کوئی بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھنے پر قادر ہو لیکن وہ اشارے سےنماز پڑھ لے تو بالاتفاق اسکی نماز نہ ہوگی کیونکہ یہ عذر نہیں ہے۔(بدائع الصنائع، فصل ارکان الصلوۃ جلد1 ص 109)
2: قیام پر قدرت نہیں لیکن رکوع پر قدرت ہے لیکن کسی وجہ سے سجدے پر قدرت نہیں تو اگر یہ شخص اتنا جھک سکتا ہے کہ زمین پر کوئی چیز رکھ کر اس پر سجدہ کرسکے بشرطیکہ اس چیز کی بلندی دو اینٹوں (12 انگلیوں)سے زائد نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ زمین پر کوئی ٹھوس چیز رکھ کر اس پر سجدہ کرے، اور یہ سجدہ سجدہ حقیقی ہوگا۔
لیکن اگر اتنا بھی نہیں جھک سکتا تو اشارہ سے سجدہ کرکے نماز ادا کرے۔ اور ایسا شخص کرسی پر بیٹھ کر بھی نماز پڑھ سکتاہے۔
شامی میں ہے:فحينئذ ينظر إن كان الموضوع مما يصح السجود عليه كحجر مثلا ولم يزد ارتفاعه على قدر لبنة أو لبنتين فهو سجود حقيقي فيكون راكعا ساجدا لا مومئا۔ ترجمہ:تو اس وقت دیکھا جائے گا کہ اگر سجدہ گاہ پر رکھی ہوئی چیز ایسی ہے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے جیسے پتھر وغیرہ جبکہ اسکی بلندی ایک اینٹ یا دو اینٹ کی مقدار سے زائد نہ ہو تو یہ حقیقی سجدہ ہے تو یہ شخص رکوع و سجود سے نماز پڑھنے والا ہی کہلائے گا اشارے سے پڑھنے والا نہیں کہلائے گا۔ (ردالمحتار مع الدر المختار شرح تنویر الابصار، باب صلاۃ المریض ، جلد 2ص 99)
3:کھڑا ہوسکتا ہے مگر رکوع و سجود نہیں کرسکتا۔
4: کھڑا ہوسکتا ہے اور رکوع بھی کرسکتا ہے مگر سجدہ نہیں کرسکتا۔ان دو صورتوں کا حکم مقدمے میں گزر چکا کہ ان سے قیام ساقط ہے اور
انہیں اختیارہے چاہیں تو تمام رکعات کھڑے ہوکر پڑھے اور کھڑے کھڑے ہی اشارے سے رکوع وسجود کرے ، یا چاہے تو تمام رکعات میں قیام کرے اور رکوع وسجود بیٹھ کر اشارے سے کرے یا چاہے تو ابتداءً ہی بیٹھ کر مکمل نماز پڑھے اور رکوع و سجود اشارے سے کرے۔ ان دونوں صورتوں کے دلائل تمہیدی کلمات میں گزر چکے۔
ایسے معذور شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ کرسی کا استعمال کرلے لیکن بہرحال اولٰی یہی ہے کہ اگر زمین پر بیٹھ کر ادا کرسکتا ہے تو یہی کرے۔ جواز کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص کے لئے قعود متعین ہے اور کرسی پر بیٹھنا بھی قعود ہی ہے اور شریعت نے قعود کی کوئی مخصوص حالت و کیفیت کی تعیین نہیں کی بلکہ قعود کی کیفیات میں عموم رکھا ہے جیساکہ کتب فقہ سے مصرح ہے۔
چناچہ تنویر الابصار میں ہے: (من تعذر عليه القيام لمرض صلى قاعدا كيف شاء) على المذهب۔ ترجمہ:بیماری کے سبب جس شخص پر قیام متعذر ہوجائے بیٹھ کر نماز پڑھے خواہ کسی بھی طرح بیٹھے یہی صحیح مذہب ہے۔(ردالمحتار مع الدر المختار شرح تنویر الابصار، باب صلاۃ المریض ، جلد 2ص 99)
اسکے تحت الدر المختارمیں ہے: لأن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى۔ ترجمہ:کیونکہ مرض نے اس سے ارکان کو ساقط کردیا ، تو کیفیات تو بدرجہ اولٰی ساقط ہوجائیں گی۔ (ایضاً)
5: اگر کوئی شخص ایسا ہے جو زمین پر بیٹھ کر نمازادا نہیں کرسکتا لیکن کرسی پر بیٹھ کر ادا کرسکتا ہے مثلاً اسکو گھٹنے کے درد کا عارضہ ہے اورزمین پر بیٹھنے میں سخت تکلیف ہوتی ہے یا اس قدر فربہ ہے کہ اگر زمین پر بیٹھ جائے تو اس کے لئے از خود اٹھنا نہایت دشواری کا سبب ہو یا ٹانگوں میں راڈ ، ڈلی ہوئی ہو یا ں ٹانگوں ایسا زخم ہے کہ زمین پر بیٹھنے سے اس زخم سے خون جاری ہوجائے گا تو ایسے امراض کے حاملین اشخاص کے لئے کرسی پر نماز پڑھنا لازم ہے کیونکہ اگر ان صورتوں میں بھی انہیں کرسی پر نماز کی اجازت نہ ہو تو اب محض ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ لیٹ کر نماز پڑھے حالانکہ بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت رکھنے والا لیٹ کر پڑھے تو اسکی نماز ہی نہ ہوگی یعنی اسکی نماز فاسد ہے۔
چناچہ بخاری شریف میں ہے: عن عمران بن حصين رضي الله عنه، قال: كانت بي بواسير، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة، فقال: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب۔ ترجمہ: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ تومیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔(بخاری، حدیث نمبر 1117)
اس حدیث پاک سے واضح ہوا کہ جو شخص قیام نہ کرسکے تو قعود کرے اسکی بھی استطاعت نہ ہو تو لیٹ کر لہذا جو بیٹھ کر پڑھنے پر قادر ہے اسکے لئے لیٹ کر پڑھنا جائز نہ ہوگا یعنی اسکی نماز نہ ہوگی۔
نیز کرسی پر پڑھنے کی صورت میں لازم ہے کہ رکوع و سجود اشارہ سے کرے اور رکوع کے لئے سجدہ سے زائد جھکے۔ جیساکہ مراقی میں ہے:'' وإن تعذر الركوع والسجود" وقدر على القعود ولو مستندا "صلى قاعدا بالإيماء" للركوع والسجود برأسه ولا يجزيه مضجعا "وجعل إيماءه للسجود أخفض من إيمائه للركوع" ۔ ترجمہ:اور اگر رکوع و سجود متعذر ہوجائے اورقعود پر قدرت ہو اگر چہ کسی چیز کے سہارے سے ہی کیوں نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور سر کے اشار ے سے رکوع وسجود کرے لیٹنا کافی نہیں ہے اور سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ جھکا ہوا ہو۔ (مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی، باب صلوۃ المریض ص 432 )
کرسی کے تختے پرسجدے کا حکم:
آج کل مساجد میں دیکھنے میں آیا کہ اکثر لوگ کرسی کے اگلے حصے پر موجود تختی پر سجدہ کرتے ہیں ، اس سے بچنا چاہیے کہ یہ نصوصِ فقیہہ سے متعارض و متصادم ہے۔ تاہم یہ صورت کراہتِ تحریمی میں داخل نہیں ہے نیز اس صورت میں(جبکہ کرسی کے اگلے حصے پر موجود تختی پر سجدہ کرے) سجدہ کا فرض ساقط ہوجائے گا کہ اس میں اشارہ بہرحال موجود ہے۔
موجودہ دور کے بعض اہل علم حضرات نے کرسی کے تختے پر سجدے پر مکروہِ تحریمی کا حکم لگایا ہے جو کہ درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ فقہاءِ کرام نے جس صورت کو مکروہ تحریمی فرمایا ہے وہ یہ صورت ہے کہ جو شخص زمین پر سجدہ کی طاقت نہ ہو وہ اشارے سے سجدے کی بجائے کوئی چیز زمین سے بلند کرکے اس پر سجدہ کرے بایں طور کہ اس چیز کو اپنی پیشانی سے مس کردے، بلاشبہ یہ صورت مکروہِ تحریمی ہے کہ اس میں سجدہ کا معنٰی ہی مفقود ہے، جیساکہ ہدایہ میں ہے: ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه " لقوله عليه الصلاة والسلام " إن قدرت أن تسجد على الأرض فاسجد وإلا فأوم برأسك فإن فعل ذلك وهو يخفض رأسه أجزأه لوجود الإيماء وإن وضع ذلك على جبهته لا يجزئه لانعدامه۔ ترجمہ:اپنے چہرے کی طرف کوئی چیز بلند کرکے کہ اس پر سجدہ نہ کرے،کیونکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو زمین پر سجدے کی قدرت رکھتا ہے تو سجدہ کرےورنہ سر سے اشارہ کرے پس اگر سر کو جھکاتے ہوئے یہ کام کرلیا تو یہ بھی کفایت کرے گا کیونکہ اشارہ تو پایا ہی جارہا ہے ہاں۔۔۔۔! اگر کوئی چیز اٹھاکر پیشانی پر رکھ دے تو یہ جائز نہیں کیونکہ اس میں سجدہ معدوم ہے۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، صلوۃ المریض جلد 1ص 77)
لیکن کرسی کے اگلے حصے پر موجود تختی پر سجدہ کرنا بحیث یسجد علیہ (کسی چیز کو چہرے کی جانب اٹھا پر اس پر سجدہ کرنے والی صورت )سے نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں خود نمازی یا کسی اور شخص کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز نہیں جس پر وہ سجدہ کر رہا ہوبلکہ یہاں تو زمین پر رکھی ہوئی کرسی کے ساتھ متصل تختی پر سجدہ کررہا ہے۔
سو جب دونوں مسئلے الگ الگ صورت پر مشتمل ہیں تو دونوں کا حکم بھی الگ ہی ہوگا، تو رفع الشئی الی وجھہ والی صورت توگزر چکی کہ اس صورت (کوئی چیز زمین سے بلند کرکے اس پر سجدہ کرے)میں نماز مکروہ ِ تحریمی ہوگی۔ جبکہ دوسری صورت مکروہِ تحریمی تو نہیں البتہ نمازی کو ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ، لیکن ایسا کرنے کی صورت میں سجدہ کا فرض ادا ہوجائے گا، کیونکہ کرسی کے تختے پر سر رکھنا اشارے کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ اسکے حل کی صورت یہ ہے کہ مساجد انتظامیہ ایسے معذور افراد کے لئےبغیر تختے والی کرسیوں کا انتظام کریں ، تاکہ کرسی پر نماز پڑھنے والے ہر طرح کی شناعت سے خالی ہوکر نماز ادا کرسکیں۔
تنویر مع الدر میں ہے: (ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه) فإنه يكره تحريما۔ ترجمہ: اپنے چہرے کی طرف کوئی چیز بلند کرکے کہ اس پر سجدہ نہ کرے، کہ یہ مکروہِ تحریمی ہے۔ (تنویر الابصار مع الدرالمختار، جلد 2 ص 98)
اسکے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں: قال فی البحر واستدل للکراھۃ فی المحیط بنھیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام عنہ وھو یدل علی کراھۃ التحریم ۔ وتبعہ فی النھر اقول: ھذا محمول علی مااذا کان یحمل الی وجھہ شیئًا یسجد علیہ بخلاف ما اذا کان موضوعًا علی الارض یدل علیہ ما فی الذخیرۃ حیث نقل عن الاصل الکراھۃ فی الاول، ثم قال: فان کانت الوسادۃ موضوعۃ علی الارض وکان یسجد علیہا جازت صلاتہ قد صح ان ام سلمۃ کانت تسجد علی مرفقۃ موضوعۃ بین یدیہا لعلۃ کانت بھا ولم یمنعھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذٰلک اھـ فان مفاد ھٰذہ المقابلۃ والاستدلال عدم الکراھۃ فی الموضوع علی الارض المرتفع ثم رأیت القھستانی صرح بذٰلک۔ ترجمہ: بحر میں فرمایا کہ محیط میں اس کی کراہت پر نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی نہی سے استدلال کیا گیا ہے اور وہ نہی کراہت ِتحریمی پر دلالت کرتی ہے۔ اور نہر الفائق میں بھی اسی کی پیروی کی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کراہت اس صورت پر محمول ہے کہ جب سجدہ کے لئے کوئی چیز پیشانی کی طرف اُٹھائی جائے، برخلاف اس صورت کے کہ جب وہ چیز جس پر سجدہ کررہا ہے زمین پر رکھی ہو اس صورت میں یہ کراہت نہیں ۔ذخیرہ کی عبارت بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے چنانچہ انہوں نے'' اصل'' سے کراہت کا قول اسی پہلی صورت کے بارے میں نقل کیا اور پھر فرمایا: پس اگر تکیہ زمین پر رکھا ہوا ہو اور مریض اس پر سجدہ کرے تو نماز درست ہوجائے گی کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنھا مرض کی وجہ سے سامنے زمین پر رکھے ہوئے تکیہ پر سجدہ فرماتی تھیں اور نبی ِاکرم ﷺ نے انہیں اس سے منع نہیں فرمایا۔لہذا اس تقابل اور استدلال من الحدیث کامفاد یہ ہے کہ زمین پر رکھی ہوئی کسی بلند چیز پر سجدہ کرنا مکروہ نہیں ہے، پھر میں نے اسی بات کی تصریح قہستانی میں بھی دیکھی۔
قہستانی کی عبارت یہ ہے: لو سجد علی شیٔ مرفوع موضوع علی الأرض لم یکرہ۔ترجمہ:اگر کسی ایسی بلند چیز پر سجدہ کیا جو زمین پررکھی ہوئی ہے تو ایسا کرنامکروہ نہیں ہے۔(مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر،بحوالہ قہستانی ،جلد 1 ص 228)
خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص رکوع و سجود نہ کرسکتا اور بلا تکلف زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہوتو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے ورنہ کرسی پر نماز پڑھ سکتا ہے ۔ کرسی پر نماز کی صورت میں سجدہ بنچ کے اگلے حصے پر نہ کرے بلکہ اشارے سے کرے ، اور سجدہ کے لئے رکوع سے زائدسر جھکائے۔
تنبیہ: 1: مشاہدہ میں آیا ہے کہ آج کل اچھے خاصے ، چلنے پھرنے والے لوگ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے سبب بلاعذر کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں، گھروں سےخود اپنے پیروں پر چل کر آتے ہیں، حتی کے نماز کےبعد گلی محلے میں گھنٹوں کھڑے ہوکر بات چیت کرتے ہیں ،اس دوران ان کے ہاتھ سے کوئی قیمتی چیز گر جائے تو زمین پر جھک کر بلامشقت اسے اٹھا بھی لیتے ہیں، مگر مسجد میں آتے ہی نماز کے وقت کرسی کھینچ کر اس پر براجمان ہوجاتے ہیں ، ایسے لوگ دین سے غافل اورلاپرواہ ہیں جو بلاوجہ و بلا عذر محض تن آسانی ،لاپرواہی ،غفلت وسستی کی بنا پر یا محض شوقیہ طور پر نماز کے لیے کرسیوں کا استعمال کرتے ہیں ،بلاشک و شبہ ایسے لوگ قیام رکوع و سجود جیسے فرائض ترک کرکے اپنی نمازوں کو ضائع کررہے ہیں مزید برآں یہ کہ اگر کوئی دیندار، مسائل شرعیہ سے واقف شخص انہیں درست مسئلہ سمجھائے تو بجائے مسئلہ سمجھنے کے ان سے الجھ پڑتے ہیں اور عرصہ دراز سے اسی طرز پر نماز پڑھتے چلے آنے کو بطورِ دلیل پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کریم ایسے لوگوں کو درست مسئلہ سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
لیکن ایسے حضرات کی بھی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر و خوف اور احکام الٰہی کی عظمت وجلالت موجود ہے اور وہ بھی کرسیوں کا استعمال کرتے ہیں، مگر اس وجہ سے کہ وہ واقعی معذور ومجبور ہیں ،ان میں وہ تمام شرائط پائی جاتی ہیں جو مذکورہ سطور میں بیان کی گئیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے صاحبانِ منبر و محراب اور مفتیانِ ملت پہلی قسم کے لوگوں کی بے اعتدالیوں پر تنبیہ بھی کریں اور واقعی حقیقی عذر رکھنے والوں کے لیے شریعت کی عطا کردہ سہولتوں کو پیش کریں، تاکہ اصحاب اعذار ان سے منتفع ہوسکیں، اور لوگ افراط و تفریط کی راہوں سے الگ اعتدال کے راستے پر قائم رہ سکیں۔ وللٌٰہ العلم کلہ
2: جو لوگ صاحبانِ عذر ہیں ، اور انہیں کرسی پر نماز کی شرعاً اجازت ہے انہیں چاہیے کہ اپنی کرسیاں رکھنے کے لئے صف کے کناروں کا انتخاب کریں، کہ کرسیاں درمیانِ صف میں رکھنے سے صف بندی میں خلل واقع ہوگا، یونہی مسجد میں کم سے کم کرسیاں رکھی جائیں تاکہ مسجد ،مسجد ہی لگے نہ کہ اغیار کی عبادت گاہ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 ربیع الثانی 1444 ھ/22 اکتوبر 2022 ء