نماز اور اذان کے مختلف مسائل
    تاریخ: 9 جنوری، 2026
    مشاہدات: 66
    حوالہ: 555

    سوال

    1:وقت اقامت امام اورمقتدی کو کس وقت کھڑا ہونا چاہیئے ،حی الفلاح پر یا تکبیر تحریمہ کے وقت ؟؟اور جو شخص تکبیر تحریمہ کے وقت مسجد میں داخل ہو اس کو اقامت بیٹھ کر سنی ہوگی یا کھڑے ہو کر وضاحت کے ساتھ جواب ارشاد فرمائیں ۔

    2:فرض نماز کے بعد اونچی آواز میں ذکر کرناجائز ہے یا ناجائز ؟اور مسبوق کی وجہ سے نماز کے بعد ذکر چھوڑ دینا کیسا عمل ہے ؟

    3:نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا جائز ہے یانہیں ؟

    4: اذان سے پہلے یابعد میں صلاۃوسلام پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

    5:مسجد کی دیوار پر یا اللہ اور یارسول اللہ یا الصلاۃوالسلام علیک یا رسول اللہ لکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

    (بینواتؤجروا)سائل :محمد ناصر عباسی،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:بوقت اقامت کب کھڑا ہونا چاہیئےاس حوالے سے شرعا امام کےلئےکوئی خاص حکم نہیں!مگربہتریہی ہےکہ حی علی الفلاح پرکھڑاہو۔البتہ مقتدیوں کوحکم ہےکہ تکبیربیٹھ کرسُنیں جب مکبّرحی علی الفلاح پرپہنچے اس وقت کھڑےہوں کہ اس کے اس قول کی مطابقت ہو جو وہ اس کے بعد کہےگاقدقامت الصلاۃیعنی جماعت کھڑی ہوئی یہی وجہ ہےکہ فقہاءنےکھڑےہوکراقامت سننےکومکروہ کہاہے ۔ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگرتکبیرہورہی ہے اور کوئی شخص باہرسےآیا تو یہ خیا نت نہ کرےکہ چندکلمات رہ گئے ہیں پھرکھڑاہوناہوگابلکہ فوراً بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پرکھڑاہو۔

    چنانچہ سیدی اعلحضرت علیہ الرحمہ سے کسی نے اس بارے میں دریافت کیا کہ زید دعوٰی کرتا ہے کہ جب تک سب مقتدی کھڑے نہ ہو لیں اور صف سیدھی نہ ہو اورامام اپنی جائے نماز پر کھڑا نہ ہو تب تک اقامت نہ کہی جائے اور عمرو دعوٰی کرتا ہے کہ مقتدی اور امام کو پہلے ہی سے کھڑا ہونا ضروری نہیں بلکہ اقامت شروع کی اور مؤذن ''حی علی الفلاح''تک پہنچ جائے اُس وقت امام ومقتدی کھڑے ہوجائیں اور جس وقت ''قدقامت الصلاۃ'' کہے تب امام تکبیر کہے اب ان دونوں میں کون حق پر ہے؟

    تو آپ علیہ الرحمہ جواباً ارشاد فرماتے ہیں کہ "عمرو حق پر ہے کھڑے ہوکر تکبیر سُننا مکروہ ہے،یہاں تک کہ علماء حکم فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں آیا اور تکبیر ہورہی ہے وہ اس کے تمام تک کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے یہاں تک کہ مکبّر ''حی علی الفلاح'' تک پہنچے اُس وقت کھڑا ہو، وقایہ میں ہے: "یقوم الامام والقوم عند ''حی علی الصلاۃ'' ویشرع عند ''قدقامت الصلاۃ "ترجمہ:امام اور نمازی ''حی علی الصلاۃ'' پر کھڑے ہوں اور ''قد قامت الصلاۃ'' کے الفاظ پر امام نماز شروع کردے۔(مختصر الوقایہ فصل الاذان ،نور محمد کارخانہ تجارت ،کراچی ،ص ۱۲)

    محیط وہندیہ میں ہے: "یقوم الامام والقوم اذاقال المؤذن حی علی الفلاح عند علمائنا الثلثۃ ھو الصحیح "ترجمہ: ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک جب اقامت کہنے والا ''حی علی الفلاح'' کہے تو اس وقت امام اور تمام نمازی کھڑے ہوں اور یہی صحیح ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ ،الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ،ج:1،ص:57،طبع:دارالفکر،بیروت)

    جامع المضمرات وعالمگیریہ وردالمحتار میں ہے: اذادخل الرجل عندالاقامۃ یکرہ لہ الانتظارقائماً ولکن یقعد ثم یقوم اذابلغ المؤذن قولہ ''حی علی الفلاح'' ترجمہ:جب کوئی نمازی تکبیر کے وقت آئے تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے پھر جب مؤذّن ''حی علی الفلاح'' کہے تو اس وقت کھڑا ہو۔(فتاوٰی ہندیہ ،الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ،ج:1،ص:57، طبع: دار الفکر ،بیروت)

    اوریہ اُس صورت میں ہے کہ امام بھی وقتِ تکبیر مسجد میں ہو،اور اگروہ حاضر نہیں تو مؤذن جب تک اُسے آتا نہ دیکھے تکبیر نہ کہے نہ اُس وقت تک کوئی کھڑا ہو،لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلملاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ:ترجمہ:تم نہ کھڑے ہواکرو یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو،اور تم پر سکون لازم ہے۔(الصحیح البخاری ،باب المشی الی الجمعۃ،رقم :909،طبع:دار طوق النجاۃ)

    پھر جب امام آئے اور تکبیر شروع ہو اس وقت دو۲ صورتیں ہیں اگر امام صفوں کی طرف سے داخل مسجد ہوتو جس صف سے گزرتا جائے وہی صف کھڑی ہوتی جائے اور اگر سامنے سے آئے تو اُسے دیکھتے ہی سب کھڑے ہوجائیں اور اگر خود امام ہی تکبیر کہے تو جب تک پُوری تکبیر سے فارغ نہ ہولے مقتدی اصلاً کھڑے نہ ہوں بلکہ اگر اس نے تکبیر مسجد سے باہر کہی تو فراغ پر بھی کھڑے نہ ہوں جب وہ مسجد میں قدم رکھے اُس وقت قیام کریں، ہندیہ میں بعد عبارت مذکور ہے:فامااذاکان الامام خارج المسجد فان دخل المسجد من قبل الصفون فکلماجاوز صفا قام ذلک الصف والیہ مال شمس الائمۃ الحلوانی والسرخسی وشیخ الاسلام خواھرزادہ وان کان الامام دخل المسجد من قدامھم یقومون کماراؤا الامام وان کان المؤذن والامام واحدافان اقام فی المسجد فالقوم لایقومون مالم یفرغ عن الاقامۃ وان اقام خارج المسجد فمشایخنا اتفقوا علی انھم لایقومون مالم یدخل الامام المسجد ویکبر الامام قبیل قولہ قدقامت الصلاۃ قال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وھو الصحیح ھکذا فی المحیط ۔ترجمہ:اگر امام مسجد سے باہر ہو اگر وہ صفوں کی جانب سے مسجد میں داخل ہوتوجس صف سے وہ گزرے وہ صف کھڑی ہوجائے، شمس الائمہ حلوانی، سرخسی، شیخ الاسلام خواہر زادہ اسی طرف گئے ہیں، اور اگر امام اُن کے سامنے سے مسجد میں داخل ہوتواُسے دیکھتے ہی تمام مقتدی کھڑے ہوجائیں،اگر مؤذن اور امام ایک ہی ہے پس اگر اس نے مسجدکے اندرہی تکبیر کہی تو قوم اس وقت تک کھڑی نہ ہو جب تک وہ تکبیر سے فارغ نہ ہوجائے اور اگر اس نے خارج ازمسجد تکبیر کہی تو ہمارے تمام مشائخ اس پر متفق ہیں کہ لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک امام مسجد میں داخل نہ ہواور امام ''قدقامت الصلاۃ'' کے تھوڑا پہلے تکبیر تحریمہ کہے امام شمس الائمہ حلوانی کہتے ہیں کہ یہی صحیح ہے، محیط میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی رضویہ،کتاب الصلاۃ،باب الآذان،ج:5،ص"277تا282،طبع:رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

    2:فرض نماز کے بعد بلند آوازسے ذکر کرنا نہ صرف جائزبلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت اور مستحب عمل ہے۔اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آواز کی بلندی مسبوق کی نمازمیں خلل کا باعث ہوسکتی ہے تواس حوالے سے یہ بات ذہن نشین رہے کہ جہر(آواز کی بلندی)کا یہ مطلب نہیں کہ آواز اتنی بلند ہو کہ چیخنے کی حد تک پہنچےاور دوسروں کی سماعتوں میں کراہت اور طبیعت پر تکلیف کاباعث بن جائےبلکہ اتنی آوازمیں ہو کہ حدیث شریف پر بھی عمل ہو اور دوسروں کے لیے باعثِ زحمت بھی نہ ہو ۔اور یہ کوئی مانع شرعی نہیں کہ کسی قباحت کی وجہ سے ایک مستحسن عمل کو بالکل ترک کردیا جائے۔خصوصا وہ عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں بھی رائج ہوحالانکہ اس وقت بھی نمازوں میں مسبوق ہوا کرتے تھے۔

    چنانچہ امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں کہ:أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ، بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ المَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ»ترجمہ: حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما فرماتے ہیں کہ: ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں فرض نماز کے بعد بآواز بلند ذکر معروف تھا۔ حضرت ا بن عباس رضی اﷲعنھما بیان کرتے ہیں کہ (بچپن میں اپنے گھر میں) جب میں اِس ذکر کی آواز سنتا تو جان لیتا کہ لوگ نماز سے فارغ ہوچکے ہیں ۔(الصحیح البخاری باب الذکر بعدالصلاۃ،ج:1،ص:168رقم :841،طبع دار طوق النجاۃ)

    اسی طرح حضرت ورادروایت کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے املا کروائی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنھم کی طرف کہ:أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ۔ترجمہ:بے شک نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم ہر فرض نماز کے بعد فرمایا کرتے تھے "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ،اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شی پر قادر ہے ،جب تو عطاء کرے تو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جب تو روک دے تواس کو کوئی دینے والا نہیں ہے۔اور نہ ہی کوئی کوشش تیری طرف سے کوشش کرنے والا کو نفع دے سکتی۔(الصحیح البخاری باب الذکر بعدالصلاۃ،ج:1،ص:168رقم :844،طبع دار طوق النجاۃ)

    اور اسی طرح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُولُ بِصَوْتِهِ الْأَعْلَى: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے پڑھتے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ،اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں ہے اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے۔( المسند، باب ومن کتاب استقبال القبلۃ فی الصلاۃ :ج:1، 44، 45،طبع:دارالکتب العلمیہ)

    3:نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا جائز بلکہ ایک مستحسن عمل ہے۔اور یہ دلائل شرعیہ سے ثابت ہے:چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاًروایت ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:"اذاصلیتم علی المیت فاخلصو لہ الدعاءترجمہ: جب تم میت پر نماز جنازہ پڑھ چکو تو اس (میت) کیلئے اخلاص کے ساتھ دعا کرو۔(سنن ابی دائود،باب الدعاء للمیت،ج:3،ص:210،رقم:3199طبع:المکتبۃ العصریۃ،بیروت)

    اسی طرح حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے نماز جنازہ اس طرح پڑھائی:ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَدْعُو، ثُمَّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجِنَازَةِ هَكَذَا:ترجمہ: پھرانہوں نے(جنازہ اس طرح پڑھا کہ) چار تکبیریں کہیں،اور چوتھی تکبیر کے بعد (یعنی سلام پھیرنے کے بعد)دو تکبیروں کے درمیانی مقدار کے برابر وقفہ کیا اور اس وقت دعا کرتے رہے اور (دعا کرلینے کے بعد حاضرین سے مخاطب ہوکر) فرمایا:رسول اللہ ﷺ نماز جنازہ میں اس طرح فرماتے تھے۔(مسند احمدبن حنبل ،فی مسندعبد اللہ بن ابی اوفی، بقیۃ حدیث عبداللہ ابن ابی اوفی،ج:31،ص:480رقم:19140،طبع:مؤسسۃ الرسالۃ )

    اسی طرح حضرت عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيٍّ عَلَى يَزِيدَ بْنَ الْمُكَفَّفَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَاهُ فَقَالَ: اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ الْيَوْمَ فَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ، وَوَسِّعْ عَلَيْهِ مُدْخَلَهُ، فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ۔ ترجمہ:میں نے حضرت علی کے ساتھ یزید بن مکفف کی نماز جنازہ پڑھی، توانہوں نے چار تکبیرات کہیں، پھر چل کر میت کے پاس آئے اور دعا کی اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہےیہ بندہ آج تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہے پس تو اسکے گناہوں کو بخش دے اور اسکی قبر کو وسیع و کشادہ فرما، کیونکہ ہم نے تو اس بندے میں خیر ہی دیکھی ہے۔ اورتو زیادہ واقفِ حال ہے۔(مصنف ابن ابیشیبہ،باب فی الدعا ء للمیت، ج:3، ص:20، رقم:11710، طبع: مکتبۃ الرشد ،ریاض)

    4:جس طرح دن اور رات میں کسی بھی وقت درود پڑھنا جائز ہے اسی طرح اذان سے پہلے اور بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا ،شرعانہ صرف جائز ،بلکہ مستحب اور باعثِ ثواب بھی ہے۔اور اس پر قرآن و حدیث سے دلائل موجود ہیں۔

    سب سے پہلے یہ بات جان لینی چاہیئے کہ شرعاکوئی ایسا فعل جو فی نفسہ جائز ہو،بلکہ اس کے کرنے کی ترغیب دلانےکے ساتھ ساتھ اسےباعث ثواب بھی قرار دیا گیا ہواور اس کے کرنے کے لیے کوئی وقت معین نہ کیا گیا ہو تو اس کام کرنامطلقاجائز اور باعث ثواب ہے اگر چہ وہ کام حضور علیہ السلام اور صحابہ کے زمانہ مبارک میں نہ ہوا ہو۔اور کوئی بھی شخص اس کو ناجائز ،خلافِ شریعت اور بدعت سیئہ قرار نہیں دے سکتا۔ یہی حال آذان سے پہلے اور بعد میں درود شریف پڑھنے کا بھی ہے کہ شرعاآذان سے قبل اور بعد درود شریف پڑھنے پر کوئی ممانعت نہیں ہےلہذا جو منع کرے وہ ممانعت پر دلیل پیش کرے ۔

    البتہ جہاں تک آذان سے قبل و بعد درود شریف پڑھنےکے استحباب کی بات ہے تو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بنی کریم ﷺکو فرماتے ہوئےسناکہ:«إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»ترجمہ:جب تم مؤذن کو سنو،تو تم بھی اسی طرح کہو ،جس طرح وہ کہہ رہا ہے ،پھر مجھ پر درود بھیجو ،کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے،اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے،اللہ تعالی سے طلب کرو میرے لیےوسیلے کا کہ بیشک وہ جنت میں ایک مقام ہے اور وہ کسی کے لیے روا نہیں مگر اللہ کے بندوں سے کسی ایک بندے کے لیے ،اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ،پس جو شخص میرے لیئےوسیلے کا سوال کرے گا اس کے لیئے میری شفاعت حلال ہے۔ اس حدیث مبارکہ کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے اور اس کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔(سنن ترمذی ،باب،ج:1،ص:586،رقم:3614،طبع: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي ،مصر)

    اور جہاں تک آذان سے قبل درودشریف پڑھنے کی بات ہے تو اس بات میں کسی کا اختلاف نہیں ہےکہ درودشریف در اصل دعاہے ، اور آذان سے قبل دعا کرنابھی ثابت ہےچنانچہ حضرت عروہ بن زبیررضی اللہ عنہ بنی نجار کی ایک عورت سےروایت کرتے ہیں کہ اس عورت نےکہاکہ :كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ» قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ :ترجمہ:انہوں نےکہاکہ مسجد کےگردونواح میں میراگھرسب سےاونچاتھا۔ اورحضرت بلال رضی اﷲعنہ فجر کی اذان اس پردیتے۔پس وہ سحری کے وقت آتے اور میرےمکان پربیٹھ جاتے اور فجر کا انتظار کرتےتھے اور جب وہ دیکھ لیتے تو یہ کہتےاےاﷲ عزوجل میں تیری حمد کرتاہوں اور تجھ سے مدد مانگتاہوں اس بات کی کہ قریش تیرے دین پر قائم رہیں۔ انہوں نےکہاپھروہ اذان دیتے۔ (بنی نجار کی اس عورت نےکہاکہ) خدا کی قسم میں نہیں جانتی کہ کسی بھی رات میں آپ نےیہ کلمات پڑھنےترک کئےہوں۔(سنن ابی داؤد ،باب الآذان فوق المنارۃ،ج:1،ص:143،رقم: 519،طبع: المكتبة العصرية،بيروت)

    اورمذکورہ اوقات میں دُرود و سلام پڑھنے کے مستحب ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ یہ مسلمانوں میں صدیوں سے رائج ہےاوروہ اسے اچھا ہی سمجھتے ہیں ،جب مسلمان اسے اچھا سمجھتے ہیں ،تو یقیناً یہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی اچھا ہے۔چنانچہ امام احمد بن حنبل حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ:’’فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ‘‘ترجمہ:جسے مسلمان اچھا جانتے ہوں،وہ اللہ عزوجل کے نزدیک بھی اچھا ہےاور جسے برا سمجھتے ہوں وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے۔(مسند امام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن مسععود،ج6،ص84،رقم:3600طبع:مؤسسۃ الرسالہ،بیروت)

    5:مسجد کی دیوار پر بلا واسطہ اس طرح کچھ لکھنا کہ اگر رنگ اتر جائے تو لکھا ہوا بھی اترکرگر جائے یا کہیں دیوار توڑنی پڑ جائے تو اللہ اور رسول اللہ کے اسمائے مبارک یاصلاۃ و سلام کے الفاظ بھی مسخ کرنےپڑجائیں تواس طرح لکھنا شرعا درست نہیں ہوگاکیونکہ اس میں بے ادبی کا شائبہ ہے اور جس کام کی وجہ سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ کی توہین ہوجائےتواس کا کرنا یقینا درست نہیں ہے ہاں البتہ کسی چیز (بورڈ،لکڑی ،شیشہ وغیرہ )پر لکھ کر آویزاں کی جائےتوبالکل کر سکتے ہیں شرعااس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    واللہ تعالی اعلم باالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابو الحسنہن مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29ذوالقعدہ 1441 ھ/20جولائی 2020ء