سوال
کسی گاؤں دیہات میں جمعہ شروع کرنے کے لئے کن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے؟ ہمارے گاؤں رتہ موہڑہ ضلع چکوال میں ایک ہی مسجد ہے اور گاؤں کی آبادی تقریباً 85 گھر پر محیط ہےفرض نمازوں میں نمازیوں کی تعداد 5 تک ہوجاتی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ جمعہ شروع ہو اور نمازیوں کی تعداد بڑھ جائے ۔عید کی نماز ہوتی ہے جس میں آدھی مسجد یا اس سے کچھ زائد تک لوگ آجاتے ہیں؟ کیا ہم اپنی مسجد میں جمعہ کی نمازشروع کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلاً رہنمائی فرمائیں ۔
سائل:محمد حسن بن عبدالغفور :چکوال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہمارے فقہاءِ احناف کا اصلِ مذہب یہ ہے کہ دیہات میں جمعہ ناجائز ہے :چناچہ محررِ مذہبِ حنفی امام محمد بن حسن الشیبانی لکھتے ہیں : قلت أَرَأَيْت الْجُمُعَة هَل تجب على أهل السوَاد وَأهل الْقرٰی قَالَ لَا تجب الْجُمُعَة إِلَّا على أهل الْأَمْصَار والمدائن قلت أَرَأَيْت قوما من أهل السوَاد اجْتَمعُوا فِي مَسْجِدهمْ فَخَطب لَهُم بَعضهم ثمَّ صلى بهم الْجُمُعَة قَالَ لَا تجزيهم صلَاتهم وَعَلَيْهِم أَن يُعِيدُوا الظّهْر۔ترجمہ: (امام محمد فرماتے ہیں کہ )میں نے (امام اعظم سے عرض کی)آپ کی کیا رائے ہے دیہات اور بستی والوں پر جمعہ فرض ہے یانہیں؟ فرمایا جمعہ محض شہر کے لوگوں پر فرض ہے ۔ میں نے عرض کی اگر دیہات کے کچھ لوگ اپنی مسجد میں جمع ہوں اور ان میں سے ایک انہیں خطبہ دے پھر جمعہ کی نماز پڑھائے تو۔۔۔؟فرمایا : انکی نماز انکو کفایت نہ کرے گی اور ان پر ظہر کی نماز کا اعادہ لازم ہے۔(المبسوط للشیبانی، باب صلوۃ الجمعۃ ، جلد 1 ص 345)
فقہاءِ احناف نے قیام ِ جمعہ کے لئے مصر کی شرط رکھی ہے اسکی اصل جنابِ مولائے کائنات علی المرتضٰی کی یہ حدیث مبارک ہے : عن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ انہ قال لاجمعۃ ولاتشریق ولاصلوۃ فطر ولااضحٰی الافی مصر جامع او مدینۃ عظیمۃ ۔ترجمہ:حضرت علی فرماتے ہیں: جمعہ و تکبیراتِ تشریق ونمازِ عید الفطر و عید الاضحی فقط بڑے بڑے شہر میں ہی ہوسکتی ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، باب من قال لاجمعۃ والا تشریق۔۔۔الخ حدیث نمبر 5059)
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: "ويشترط لصحتها" أي صلاة الجمعة "ستة أشياء" الأول "المصر أو فناؤه''۔ترجمہ: نماز جمعہ کی صحت کے لئے چھ چیزیں شرط ہیں پہلی شرط شہر یا فناءِ شہر ہونا ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، باب صلوۃ الجمعۃ ص 193 )
شہر کی تعریف فتاوٰی رضویہ میں یہ ہے: صحیح تعریف شہر کی یہ ہےکہ وہ آبادی جس میں متعدد کوچے ہوں دوامی بازارہوں ، نہ وہ جسے پیٹھ کہتے ہیں ، اور وہ پر گنہ ہے کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں او ر اُس میں کوئی حاکم مقدمات رعایا فیصل کرنے پر مقرر ہو جس کی حشمت وشوکت اس قابل ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ جہاں یہ تعریف صادق ہو وہی شہر ہے اور وہیں جمعہ جائز ہے۔ ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے یہی ظاہر الروایہ ہے ،کما فی الھدایۃ والخانیۃ والظھیریۃ والخلاصۃ والعنایۃ والدرالمختار والھندیۃ وغیرھا۔ جیسا کہ ہدایہ ، خانیہ، ظہریہ، خلاصہ، عنایہ ، حلیہ، غنیہ، درمختار اور فتاوی ہندیہ وغیرہ میں ہے ۔(فتاوٰی رضویہ ، کتاب الجمعۃ، ج 8 ص 275)
درمختار میں ہے: وفي القنية: صلاة العيد في القرى تكره تحريما أي لأنه اشتغال بما لا يصح لأن المصر شرط الصحة۔ترجمہ: قنیہ میں ہے کہ دیہات میں عید کی نماز مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ یہ اس چیز میں مشغول ہونا ہے جو کہ درجہِ صحت تک نہیں پہنچتی کہ مصر اسکی صحت کی شرط ہے۔
اسکے تحت شامی میں ہے: (قولہ صلاۃ العید۔۔الخ) ومثلہ صلوۃ الجمعۃ ۔ ترجمہ: اور اسی (عید کی نماز) کی مثل جمعہ ہے۔(رد المحتار مع الدرالمختار شرح تنویر الابصار، باب العیدین، ج 2 ص 167 )
مذکورہ بالا عباراتِ فقہاء اس بات پر دال ہیں کہ اصلِ مذہب اور ظاہرِ مذہب کے مطابق جس علاقے پر شہر کی تعریف صادق نہ آئے وہاں جمعہ جائز نہیں اور دیہات چونکہ شہر نہیں ہوتا ،کہ وہ شہر کی صفات کاجامع نہیں ہوتا ، اور نہ ہی اس پر شہر کی تعریف صادق نہ آتی ہے لہٰذا وہاں بھی جمعہ جائز نہ ہوگا۔
یہ سارا حکم جو گزرا ظاہر الروایہ کے مطابق ہے لیکن فی زمانہ چونکہ لوگوں میں دینی معاملات میں تساہل، سستی اور عدمِ رغبت کثیر الوقوع ہو چکا ہے لہذا اب اگر گاؤں دیہات کے بارے میں ہم یہ فتوٰی دیں کہ وہاں جمعہ جائز نہیں تو جو لوگ جمعے میں آکر چند ایک باتیں دین کے حوالے سے سن لیتےہیں اس سے محروم ہوجائیں گے ، جبکہ امام ابویوسف سے ایک روایتِ نادرہ موجود ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد، عاقل، بالغ، ایسے تندرست کہ جن پر جمعہ فرض ہو آباد ہوں اور وہاں کی بڑی مسجد میں تمام جمع ہوں تو نہ سماسکیں حتٰی کہ انہیں جمعہ کے لئے جامع مسجد بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لئے شرط سمجھی جائےگی۔
چناچہ عنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ''وعنہ ای عن ابی یوسف (انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لا کل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعبید (فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلک) حتٰی احتاجوا الٰی بناء مسجد آخر للجمعۃ جاز''۔ ترجمہ:اور امام ابو یوسف سے یہ روایت ہے کہ جب وہ جمع ہوں یعنی جن پر جمعہ فرض ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں یعنی بچے ، عورتیں ، غلام ۔ اسکی سب سے بڑی مسجد میں تو وہاں سما نہ سکیں حتٰی کہ قیامِ جمعے کے واسطے دوسری مسجد کے محتاج ہوجائیں تو (ایسی جگہ میں جمعہ )جائز ہے۔( العنایۃ شرح الہدایۃ، باب صلوۃالجمعۃ جلد 2 ص 24 )
سیدی اعلٰی حضرت اس روایت کو نقل کرنے کے بعد رقمطراز ہیں: جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے۔(فتاوٰی رضویہ ، کتاب الجمعۃ، ج 8 ص 347)
جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی مجلس شرعی بورڈ کے فیصلوں میں ہے: اعلٰی حضرت نے یہ فتوٰی کسی اہم دینی مصلحت کی بناء پر دیا تھا اس لئے جہاں وہ مصلحت پائی جائے وہاں حکمِ جواز ہوگا۔ اور جہاں نہ پائی جائے وہاں اصلِ مذہب کے مطابق حکم عدمِ جواز کا ہی ہوگا۔(کتاب مسمٰی '' مجلسِ شرعی کے فیصلے ص 491)
سو ہم ذکر کرچکے کہ فی زمانہ دینی امورمیں لوگوں کی کم رغبتی اور عدم دلچسپی کے باعث اسکی اجازت ہونی چاہیے، اسکی مصلحت یہ ہوگی کہ اس کے ذریعے لوگ کچھ نہ کچھ دین سیکھ اور سمجھ لیں گے ۔ لوگوں کو اس سے روکنا دین سے یکسر محروم کرنے کے مترادف ہے ۔ لہٰذا ہمارے نزدیک جس گاؤں میں مذکورہ صورتِ حال پائی جائے وہاں اس مذکورہ مصلحت کے پیشِ نظر جمعہ کی اجازت ہے۔
رہا مذکورہ گاؤں کی مسجد میں جمعہ کا مسئلہ تو بہر حال اس مسجد میں جمعہ ادا کرنا جائز نہیں بلکہ گناہ ہے ، کہ یہ مسجد تو امام ابو یوسف کی روایتِ نادرہ کے مطابق بھی شرائط ِ جمعہ کی جامع نہیں ہے ، چہ جائیکہ روایتِ اصل کی شرائط کی جامع ہو، کہ یہاں اس روایتِ نادرہ کی شرط (آبادی میں اتنے مسلمان مرد، عاقل، بالغ، ایسے تندرست کہ جن پر جمعہ فرض ہو آباد ہوں اور وہاں کی بڑی مسجد میں تمام جمع ہوں تو نہ سماسکیں حتٰی کہ انہیں جمعہ کے لئے جامع مسجد بنانی پڑے)مفقود ہے۔جیساکہ سائل کے قول'' وہاں عید کی نماز ہوتی ہے جس میں آدھی مسجد یا اس سے کچھ زائد تک لوگ آجاتے ہیں'' سے ظاہر ہے ۔تو جب یہ مسجد عید کی نمازمیں بھی نہیں بھرتی تو جمعہ میں کیونکر بھر سکتی ہے ؟حالانکہ مشاہدہ یہ ہے کہ عید میں جمعہ کی نسبت زیادہ لوگ آتے ہیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ مسجد میں جمعہ و عیدین جائز نہیں ہے بلکہ گناہ ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 رجب المرجب 1443 ھ/16 فروری2022 ء