نماز جمعہ کے لئے مسجد ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
    تاریخ: 9 جنوری، 2026
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 556

    سوال

    ہماری حقانی مسجد واقع لانڈھی پچھلے پونے دو سال سے سیل ہے، ہم نے مسجد کے قریب ایک جگہ لے کر مصلٰی بنایا ہےجہاں پہلے تین عصر، مگراب اور عشاء اور اب پانچوں نمازیں باجماعت اداکرتے ہیں۔اس جگہ میں تقریبا 25 سے 30 لوگوں کی نمازادا کرنے کی گنجائش ہے۔ہمارے مسجد میں قریب قریب مسجد نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس مصلٰی میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جمعہ ادا کرنے کی صورت میں جمعہ کا مکمل ثواب حاصل ہوگا یا نہیں؟نیز یہ بھی ارشاد فرمادیں کہ جب ہماری مسجد کھل جائے گی تو اس مصلٰی کی کیا حیثیت ہوگی اسکو جاری رکھنا ضروری ہوگا یا موقوف بھی کیا جاسکتا ہے؟

    سائل:محمد سلیم:کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں مصلٰی یا اسکے علاوہ کسی میدان وغیرہ میں نمازِ جمعہ ادا کرنا بالاتفاق جائز ہے کہ نمازِ جمعہ کے لئے مسجد ہونا شرط نہیں ہے۔بلکہ جمعہ کے لئےاس جگہ باقاعدہ نمازِ پنجگانہ ہونا بھی شرط نہیں ،ہاں اسکے علاوہ جو دیگر شرائط فقہاءِ کرام نے ذکر فرمائیں انکا پایا جانا ضروری ہے۔توجب ایسی جگہ میں جمعہ ادا کیا جائے گاتو مکمل ثواب بھی پائے گا۔

    غنیہ شرح منیہ (حلبی کبیری)میں ہے:وفي الفتاوی الغیاثیة: لوصلی الجمعة في قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرة لها قری وفیها وال وحاکم جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم یبنوا۔ترجمہ:اور فتاوٰی غیاثیہ میں ہے کہ اگر کسی بستی میں جامع مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ جمعہ کی نماز پڑھی ،جبکہ وہ بستی بڑی ہو اور اس میں کوئی والی و حاکم موجود ہوتو نماز جائز ہے خواہ وہاں بستی والوں نے مسجد بنائی ہو یا نہ بنائی ہو۔

    غنیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا: والمسجد الجامع لیس بشرط، ولهذا أجمعوا علی جوازها بالمصلی في فناء المصر ۔ترجمہ: جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے اسی لئے فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ فناءِ مصر میں مصلٰی(عید گاہ وغیرہ) میں نماز پڑھنا جائز ہے۔( غنیۃ المستملی،فصل فی صلوۃ الجمعۃ، الشرط الاول ص 474،مکتبہ نعمانیہ)

    فتاوٰی رضویہ میں ہے کہ سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ مسجد میں گنجائش نہ ہونے کے سبب کچھ اہل قریہ نے مسجد کو چھوڑ کر عید گاہ میں نمازِ جمعہ شروع کردی ہے، کیا ایسا کرنے سے ان اہل قریہ پر کچھ گناہ ہے یا نہیں ؟ اللہ و اسکے رسول کے ہاں کوئی مواخذہ ہوگا یا نہیں؟آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں: جائز ہے ۔ کچھ نقصان نہیں، نہ کوئی مواخذہ ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصلوۃ جلد 8 ص 354 رضا فاؤنڈیشن لاہور،ملخصا)

    ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں: جمعہ کے لئے شہر کا یا فنائے شہر کے سوا نہ مسجد شرط ہے نہ بنا، مکان میں بھی ہوسکتا ہے میدان میں بھی ہوسکتا ہے اذن عام درکار ہے ، بدائع امام ملک العلماء میں ہے : السلطان اذاصلی فی دارہ ان فتح باب دارہ جاز وان لم یاذن للعامۃ لاتجوز ۔( ملخصاً) (فتاوٰی رضویہ، کتاب الصلوۃ جلد 8 ص 443، رضا فاؤنڈیشن لاہور،ملخصا)

    رہا مصلٰی کا مسئلہ تو اگر مصلٰی کی جگہ نماز کے لئے وقف کردی گئی ہے تو اس جگہ کو باقی رکھنا اور وہاں نمازوں کا اہتمام واجب ہے ۔ وگرنہ مسجد کھلنے کے بعدبھی بہتر یہی ہے کہ اس جگہ کو جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں کے لئے باقی رکھا جائےاور وہاں مدرسہ کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسی یا کسی بھی غیر معمولی صورت حال میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ البتہ اگر اس صورت میں (یعنی جبکہ وقف نہیں کیا)مصلٰی موقوف کیا جائے تو بھی اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: وہ مصلّٰی اگر واقف نے صرف امامت کے لئے وقف کیا ہے تو امام وغیر امام کوئی اسے دوسرے کام میں نہیں لاسکتا اگرچہ صراحۃً یاوہاں کے عرف کے سبب دلالۃً ممانعت ہو ،اور اگر عام طور پر وقف ہوا یعنی صراحۃ تخصیص ہے نہ دلالۃً تو غیر وقت امامت میں ہر شخص اس کو فرائض و نوافل سب کے کام میں لاسکتا ہے بلکہ درس وتدریس کے بھی ،کما فی القنیۃ۔ ( جیسا کہ قنیۃ میں ہے ۔)(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصلوۃ جلد 6 ص 573)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 02 رجب المرجب 1442 ھ/15 فروری 2021 ء