سوال
اگر کوئی امام نماز میں ’ضاد‘کی جگہ ذواد پڑھتا ہے توکیا ایسا کرنا جائز ہے اور ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟
سائل:اختر علی خان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اس کے تلفظ کو سیکھے اور جو ضاد کا مخرج ہے اسے اسی مخرج سے ادا کرے اور اگر سیکھنے کے باوجود زبان کی وجہ سے وہ ادا نہیں کر پاتا تو پھرجیسے بن پڑے ویسے ادا کرے،اسکی نماز درست ہوجائے گی۔لیکن ایسے شخص کا امام بننا جائز نہیں لہذا ایسے شخص کی بجائے صحیح تلفظ کے ساتھ قرات کرنے والے امام کے پیچھے نماز ادا کی جائے ۔
فتاوی رضویہ شریف میں ہے :اﷲ تعالٰی نے اس حرف کی ادائیگی اور آواز کو دوسرے تمام حروف سے جُدا پیدا فرمایا ہے حقیقی طور پر کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں اس لئے فرض قطعی یہ ہے کہ اس کا مخرج سیکھا(جانا)جائے ،اس کی ادائیگی کا طریقہ یاد کیا جائے اور اس حرف کا ارادہ کیا جائے جو اﷲ کی طرف سے نازل ہے ، اپنی طرف سے نہ اسے ظا پڑھا جائے اور نہ ہی دال ،کیونکہ یہ دونوں اس کے مخالف ہیں شبانہ روز کی محنت و کوشش کے بعد جو پڑھا جاسکے وہ درست ہوگا کیونکہ اﷲ تعالٰی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگراس کی طاقت بھر ۔اگر حرف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو امامت کرانا درست نہیں ، فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ توتلے کا فصیح کی امامت کرنا راجح اور صحیح مذہب میں فاسد ہے اور ایسے شخص پر فرض ہے کہ وہ کسی صحیح کی اقتداء میں نماز ادا کرے اگر اقتداء ممکن ہو تنہا نہ پڑھے کیونکہ اقتداء کی صورت میں وہ قرأت سے بے نیاز ہوجائے گا ،اور وہ شخص جس نے ض کا مخرج نہ سیکھا یا اس کی صحت کے لئے کوشش نہ کی ہو اگر اس کی زبان سے ضاد کی جگہ ظا یا دال ادا ہو جس کے ساتھ فسادِ معنی ہوگا اس سے نماز بھی فاسد گی اور جس کے ساتھ فساد معنٰی نہ ہوگا تو اس سے نماز ہوجائیگی اور اگر دونوں صورتوں میں فساد معنی ہو مثلاً مغظوب اور مغدوب تو دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہوگی۔یہ تمام اس وقت ہے جب اس سے قصد اسی حرف کا ہو جو اﷲ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ ہے مگر زبان معاون نہ بنی اورظا یا دال ادا ہوگیا جیسے کہ عوام اہل ہند و بنگالہ کا معاملہ آخری صورت میں اسی طرح ہے اور اگر قصداً اس کی جگہ کوئی دوسرا حرف پڑھا تو ا سکا حکم شدید ترین ہوگا کیونکہ یہ توا ﷲ تعالٰی کے کلام میں تبدیلی کرنا ہے جیسا کہ بعض غیر مقلدین نے تصریح کی کہ ضاد کو نہ پڑھا جاسکے تو ظاء پڑھے۔امام ابوبکر محمد بن فضل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے مذکورہ صورت میں کفر کا حکم جاری فرمایا ہے جیسا کہ منح الراض الازہر میں موجود ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد 6 ،ص:338،337،336، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور )
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمداحمد امین قادری رضوی
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:13رجب المرجب، 1441 ھ/9 مارچ 2020 ء