نامحرم شخص کا عورت کے جنازے کو کندھا دینا کیسا
    تاریخ: 9 جنوری، 2026
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 554

    سوال

    نامحرم شخص کا عورت کے جنازے کو کندھا دینا کیسا ہے ۔ ہمارے پنجاب میں اس بات سے روکا جاتا ہے کہ عورت کے جنازے کو ئی نامحرم کندھا دے۔اسکی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ نیز شوہر کے کندھا دینے کی کیا شرعی حیثیت ہے۔رہنمائی فرمادیں۔

    سائل: شبیر حسین :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نا محرم شخص عورت کے جنازے کو اور اسی طرح شوہراپنی بیوی کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ عوام میں غلط مشہور ہے کہ شوہر بیوی کو کندھا نہیں دے سکتا۔اور نامحرم کسی اجنبیہ کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکتا۔کیونکہ جنازے کو کندھا دینا ثواب کا کام ہے اور احادیث میں اس پر کثیر اجر کی بشارت دی گئی ہے ۔چناچہ معجم الاوسط للطبرانی میں ہے:عن أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ جَوَانِبَ السَّرِيرِ الْأَرْبَعَ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ كَبِيرَةً»حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایاکہ…جس شخص نے میّت کے جنازے کے چاروں پایوں کو کندھا دیا، اللہ تعالیٰ اسے اس کے چالیس بڑے گناہوں کا کفارہ بنادےگا۔( معجم الاوسط للطبرانی جلد 6 ص 90)

    اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ الْجِنَازَةَ بِجَوَانِبِهَا الْأَرْبَعِ فَقَضَى الَّذِي عَلَيْهِ۔ترجمہ:حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جس نے جنازہ کو چاروں جانب سے کندھا دیا تو اس نے اپنا حق ادا کردیا۔( مصنف ابن ابی شیبہ باب صفۃ حمل النعس جلد 3 ص 512)

    امام سیوطی رحمہ اللہ تعالٰی نے بھی الجامع الصغیر کی جلد2 صفحہ 170 بروایت ابنِ عساکر، حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کی ہے۔

    فقہائے امت نے جنازہ کو کندھا دینے کا سنت طریقہ یہ لکھا ہے کہ پہلے دس قدم تک دائیں جانب کے اگلے پائے کو کندھا دے، پھر دس قدم تک اسی جانب کے پچھلے پائے کو، پھر دس قدم تک بائیں جانب کے اگلے پائے کو، پھر دس قدم تک بائیں جانب کے پچھلے پائے کو، پس اگر کسی کو بغیر ایذادہی کے اس طریقہ پر عمل ہو سکے تو بہتر ہے۔

    رہا یہ مسئلہ کی عورت کے جنازے کو نامحرم کندھا دے سکتے ہیں یا نہیں؟ تو اسکا جوب یہ ہے کہ عورت کے جنازے کو نامحرم اجنبی کندھا دے سکتا ہے شرعا اس میں کوئی مضایقہ نہیں ہے۔کیونکہ اجنبیہ عورت کو چھونا ،ہاتھ لگانا منع ہے جبکہ جنازہ اٹھانے میں ہاتھ چارپائی پر لگتا ہے عورت کے بدن پر نہیں لگتا ۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے(وَمَا حَلَّ نَظَرُهُ حَلَّ لَمْسُهُ إلَّا مِنْ أَجْنَبِيَّةٍ) فَلَا يَحِلُّ مَسُّ وَجْهِهَا وَكَفِّهَا: ترجمہ:اور جس چیزکا دیکھناحلال ہے اسکو چھونا بھی حلال ہے لیکن اجنبیہ عورت کے چہرے یا ہاتھ وغیرہ کو چھونا جائز نہیں ہے۔( تنویرالابصار مع الدر المختار کتاب الحظروالاباحۃ جلد 6 ص 367)

    سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا کہ اگر عورت مر جائے تو شوہر اس کے جنازے کو ہاتھ لگائے یا نہیں؟آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں:جنازے کو محض اجنبی ہاتھ لگاتے، کندھوں پر اُٹھاتے، قبر تک لے جاتے ہیں، شوہر نے کیا قصور کیا ہے۔یہ مسئلہ جاہلوں میں محض غلط مشہور ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 9 ص 138رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 ربیع الثانی 1440 ھ/02 دسمبر 2018ء