سوال
نماز میں دوران قرات اگر کسی نے وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون کی جگہ یتفرقون پڑھ دیا تو کیا اس شخص کی نماز ہوجائے گی؟نیز یہ کہ اگر کسی نے والخامسۃ ان غضب اللہ علیھا کی جگہ اگر کسی نے علیہ پڑھ دیا تو کیا اسکی نماز ہوجائے گی؟
سائل:مولانا نعمان خلیل :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دورانِ نماز قرات میں غلطی سے نماز فاسد ہونے یا نہ ہونے کاقاعدہ یہ ہے کہ اگر غلطی ایسی ہے کہ جس کی وجہ سے معنی میں فساد پیدا ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی، وگرنہ نہیں،اسی طرح ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ پڑھ دیا اور وہ دوسرا لفظ قرآن میں موجود ہو تب بھی فاسد نہ ہوگی۔فتاوٰی ھندیہ میں ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنے کی صورت میں فساد و عدم فساد سے متعلق مذکور ہے:(ومنها) ذكر حرف مكان حرف إن ذكر حرفا مكان حرف ولم يغير المعنى بأن قرأ إن المسلمون إن الظالمون وما أشبه ذلك لم تفسد صلاته۔ ترجمہ: اور ان میں سے ایک صورت حرف بدلنے کی ہے کہ اگر ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھ لیا اور معنٰی فاسد نہ ہوا بایں طور کہ ان المسلمون کی ان الظالمون پڑھ دیا یا اسکی مثل کچھ اور کہا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔(الفتاوٰی الھندیہ ،کتاب الصلوۃ،باب صفۃ الصلوۃ،الفصل الخامس جلد 1 ص 79)
لہذا پوچھی گئی دونوں صورتوں میں جو غلطی ہوئی وہ ایسی غلطی نہیں کہ جس سے نماز میں فساد لازم آئے کیونکہ یہاں پر جو لفظ کی تبدیلی ہوئی ہے اس سے معنٰی فاسد نہیں ہوئے۔
امام اہل سنت ،عظیم المرتبت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں : اسی طرح حروف و کلمات کا فروگذاشت ہوجانا بھی دواماً موجبِ فساد نہیں ہوتا بلکہ اسی وقت کہ تغییر کا معنی کرلے۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الصلوۃ جلد 6 ص 250 رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:ایک لفظ کے بدلے میں دوسرا لفظ پڑھا، اگر معنی فاسد نہ ہوں نماز ہو جائے گی جیسے عَلِیْمکی جگہحَکِیْماور اگر معنی فاسد ہوں نماز نہ ہوگی جیسے(وَعْدًا عَلَیْنَا، اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ)میں فَاعِلِیْنَکی جگہ غَافِلِیْنَپڑھا، اگر نسب میں غلطی کی اورمنسوب الیہ قرآن میں نہیں ہے،نماز فاسدہوگئی جیسے مَرْیَمُ ابْنَۃُ غَیْلَانَ پڑھا اور قرآن میں ہے تو فاسد نہ ہوئی جیسے مَرْیَمُ ابْنَۃُ لُقْمَانَ۔(بہار شریعت،ج 1،ص،556)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 ربیع الثانی 1441 ھ/12 دسمبر 2019ء