سوال
میری بیوی میری بہت زیادہ نافرمان ہے،اور نماز بھی نہیں پڑھتی ،ایک دن میں نے اس سے کہا کہ نماز پڑھو اس نے کہا کہ نہیں پڑھوں گی تو میں نے غصے میں کہا کہ اگر تونے نماز نہ پڑھی تو تجھے طلاق ہے،پھر اس نے نماز نہیں پڑھی ،شرعی رہنمائی دیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟
سائل: عبدالرحمان :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں عورت کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔
کیونکہ اس صورت میں عرف و دلالت حال کی وجہ سےمرد کے اس قول '' اگر تونے نماز نہ پڑھی تو تجھے طلاق ہے'' سے مقصودیہ ہے کہ بیوی نماز کی پابند ہوجائے ،یہ مطلب نہیں کہ عورت پوری زندگی میں کبھی بھی کسی طرح بھی ایک دو وقت کی نمازیں پڑھ لے اور بری ہوجائے ۔ پھر چونکہ یہاں طلاق عدم اداءِ نماز پر معلق کی گئی ہے ، لیکن نماز کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی کہ کونسی نماز نہ پڑھی تو یہاں اس سے مراد اس تعلیق کے بعد والی نماز ہوگی اگر اس تعلیق کے بعد اس نے نماز نہ پڑھی اور دوسری نماز کا وقت شروع ہوگیا تو دوسری نماز کا وقت شروع ہوتے ہی اس نماز کے پہلے جزء میں طلاق واقع ہوجائے گی کیونکہ اصل یہ ہے جب نکرہ تحت النفی واقع ہو تو عموم کا افادہ کرتا ہے ،اور عموم کا تقاضا یہ ہے کہ اس تعلیق کے بعد جب بھی نماز نہ پڑھے گی اس کے حکم یعنی وقوع طلاق عند عدم اداء نماز (نماز نہ پڑھنے کی صورت میں طلاق واقع ہونا) کے تحت داخل ہوگی اور ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی کیونکہ مذکورہ صورت میں ایک طلاق رجعی کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے ۔
تنویرالابصار مع الدر المختار باب الیمین فی البیع والشراء جلد 3 ص 830 میں ہے :قَالَ: إنْ تَرَكْت الصَّلَاةَ فَطَالِقٌ فَصَلَّتْهَا قَضَاءً طَلُقَتْ عَلَى الْأَظْهَرِ ظَهِيرِيَّةٌ. ترجمہ: بیوی کو کہا کہ تونے نماز چھوڑ دی تو تجھے طلاق ہے پھر اس نے نماز قضا کردی تو زیادۃ صحیح یہ ہے کہ طلاق واقع ہوجائے گی یہ بات ظہیریہ نے کہی ہے۔( تنویرالابصار مع الدر المختار باب الیمین فی البیع والشراء جلد 3 ص 830 )ھذا کلہ مما افادہ الامام احمد رضا خان فی فتاواہ
سیدی اعلیٰ حضرت اسی طرح کے ایک مسئلے کا مفصلا جواب دینے کے بعد رقمطراز ہیں : اور شک نہیں کہ ہمارے مسئلہ دائرہ میں بھی اس حلف سے شوہر کی یہ غرض نہیں کہ عورت اپنی مدۃ العمر میں کبھی کسی وقت کسی طرح دوسجدے کرلے اور بری ہوجائے بلکہ یقینا بحکم دلالت حال اس سے پابندی نماز مقصود ہے،تو نماز پڑھنا بھی دو قسم ہے، ایک ملتزم کہ پابندی کے ساتھ ہو دوسرا اس کا غیر، یا دو قسم ہے، ایک مبرئ ذمہ جس میں فرض نماز کا مطالبہ ذمے پر نہ رہے، دوسرا اس کے خلاف اور فعل بعینہ حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتا ہے اور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز پڑھی صادق نہ رہا مگر بحالت دلالتِ حال واجب ہے کہ قسم اول یعنی صلاۃ ملتزمہ مبرئہ مراد ہو اور اس کا انتفا ایک وقت کی نماز فرض عمداً بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے تو لازم ہو ا کہ جب عورت نے اس حلف کے بعد نماز عشاء نہ پڑھی صبح صادق طالع ہوتے ہی اس پر دو طلاقیں پڑگئیں۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الطلاق، باب تعلیق الطلاق، جلد 13 ص 151)
پھر چونکہ یہاں ایک طلاق رجعی کی نسبت عورت کی طرف کی گئی تھی لہذا یہاں ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوگی ، جس کے بعد شوہر عدت کے دوران اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے، اگر عدت گزر جائے تو بھی نئے نکاح اور نئے مہر کے ساتھ (بغیر حلالہ)دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں ۔لیکن آئندہ محض دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔
عدت کے دوران رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہہ دیں کہ میں رجوع کرتا ہوں یا عورت سے میاں بیوی والے معاملات کرلیں خواہ شہوت سے چھونا ہی کیوں نہ ہو۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ)كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا ، أَوْ نَائِمًا (ملخصا) ترجمہ: اور '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''جیسے الفاظ کے ساتھ رجوع درست ہے ، اور ہر اس فعل سےبھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، لیکن مکروہ ہے جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ)اگر چہ نیند وغیرہ میں چھوئے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3 ص 398)
عدت گزر جائے تو نیا نکاح ضروری ہے ،بدائع الصنائع میں ہے : أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخرترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اگر پہلے کبھی اسے کوئی طلاق نہ د ی تھی تو عورت کی مرضی سے اس سے دوبارہ جدید مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 571)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:أ14 محرم الحرام 1443 ھ/23 اگست2021 ء