سوال
میرے شوہر کا 2007 میں انتقال ہوا میرے تین بچے ہیں ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ اسکے بعد میں نے پانچ سال تک ملازمت کی ،اس دوران میری بڑی بیٹی نانی کے گھر چلی گئی ۔پہلے خاوند کا ایک گھر تھا جو کہ پانچ مرلے کا تھا ۔ بعد ازاں میں نے دوسری شادی کرلی اسکے بعد مجھے فکر لاحق ہوئی کہ میں پہلے خاوند کے گھر سے بڑی بیٹی کو حصہ دے دوں تاکہ اسکی کسی طرح کی کوئی حق تلفی نہ ہو اور میرا موجودہ خاوند بھی یہ گھر سرے سے بنوانا چاہ رہا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ تم گھر کی موجودہ مارکیٹ ویلیو لگواکر بڑی بیٹی کا حصہ دے دو۔ سو انہوں نے ریٹ لگواکر اسکا حصہ دے دیا جبکہ ایک بیٹا اور بیٹی میرے ساتھ ہی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ میرے مرجانے کے بعد جب میری وراثت تقسیم ہوگی تو اس میں اسکا بھی حصہ ہوگا یا صرف میرے دو بچوں اور خاوند کا حصہ ہوگا۔۔۔ ؟
سائل: نامعلوم : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب بھی کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اسکی ملکیت میں موجود تمام اشیاء اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جاتی ہیں، سو جب عورت کا وصال ہو، اور اس وقت تک اسکی بڑی بیٹی حیات رہی تو اس عورت کی تمام مملوکہ اشیاء میں ضروراسکا حصہ ہوگا۔ ہاں۔۔۔۔! جس مکان سے اسے حصے دے دیا گیا اب اس مکان میں والد کی جانب سے حصہ نہ ہوگا ،مگر والدہ کی جانب سے ضرور حصہ ہوگا۔ کیونکہ دوسری شادی کے وجہ سے وہ لڑکی اس عورت کی بنتیت(بیٹی ہونے ) سے خارج نہ ہوجائے گی۔ بلکہ وارثہ ہی رہے گی کہ وراثت کا سبب قرابت بہر صورت موجود رہتا ہے۔
وراثت کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت (یعنی رشتہ داری)ہے جیساکہ الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:أما أسباب الإرث المتفق عليها فهي ثلاثة وهي القرابة والزوجية والوَلاء۔ترجمہ:وراثت کے تین متفق علیہ اسباب ہیں۔1:قرابت،2:زوجیت،3:ولاء۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ ،جلد 10 ص 377)
اسی طرح الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: أَسْبَابُ الإْرْثِ أَرْبَعَةٌ، ثَلاَثَةٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهَا بَيْنَ الأْئِمَّةِ الأْرْبَعَةِ، وَالرَّابِعُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.فَالثَّلاَثَةُ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهَا : النِّكَاحُ، وَالْوَلاَءُ، وَالْقَرَابَةُ،ترجمہ:ائمہ اربعہ کے درمیان وراثت کے متفق علیہ اسباب تین ہیں ۔ایک مختلف فیہ ہے ۔ متفق علیہ یہ تین ہیں۔1:نکاح ،2: ولاء،3:قرابت۔(الموسوعۃ الفقہیہ جلد 3 ص 22)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 صفر المظفر ا1444 ھ/14 ستمبر 2022ء