walida biwi teen betay aur aik beti aur wirasat ki taqseem mein takheer ka hukum
سوال
ہمارے والد صاحب کا انتقال 1999 میں ہوا ، اس وقت انکے ورثاء میں انکی والدہ(رابعہ خاتون ، ہماری دادی)ایک بیوی (ثریا)، 3 بیٹے(عادل، طاہر، اطہر) اور 1 بیٹی(صفیہ) موجود تھی۔ بعد ازاں ہماری دادی کا بھی انتقال ہوگیا، ہمارے والد صاحب کے علاوہ انکی کوئی اولاد نہیں تھی، نہ لڑکے نہ لڑکیاں۔ اس طرح انکے ورثاء میں 3 پوتے(عادل، طاہر، اطہر) اور 1 پوتی (صفیہ) رہے۔پھر ہمارے ایک غیر شادی شدہ بھائی (طاہر) کا انتقال ہوگیا ، انکے ورثاء میں والدہ (ثریا) 2بھائی (عادل، اطہر) اور 1 بہن (صفیہ) ہے۔ وراثت میں ایک مکان ہے جوکہ والد صاحب کا ہے اور ہماری بہن کی جانب سے اسکو بیچنے میں رکاوٹ آرہی ہے اس تاخیر کا کیا شرعی حکم ہے؟
سائل:اطہر سلیم اسلم : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث (یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد مالِ وراثت (گھر) کو 168حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
ہر وارث کے حصے کی تفصیل درج ذیل ہے:
ثریا طاہر عادل صفیہ
28 56 56 28
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے،بیویوںکے حصے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
میت کے سب بہن بھائی عصبات ہونے کے سبب مابقی مال لے لیں گےبایں طور کہ ہر بھائی کو بہن سے دگنا ملے گا۔جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
السراجی فی المیراث میں ہے: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54 مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: جو کچھ مالِ وراثت ہے اس کی قیمت (باعتبار مارکیٹ ویلیو) کو فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (168) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا ،جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہا ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔
وراثت میں تاخیر کرنے کا حکم:
وراثت کی تقسیم میں میں حتی الامکان جلدی کرنی چاہیے٬ بلاعذر تاخیر کرنا درست نہیں ہے، اگر بلاعذر تاخیر کی جارہی ہے تو وراثت کی تقسیم میں رکاوٹ ڈالنے والےتقسیم ِ وراثت میں تاخیر اور اس میں ناجائز تصر ف کے مرتکب ہونے کی وجہ سے گناہ گار ہونگے ، جس کی وجہ سے ان پر لازم ہے کہ اس گناہ سے سچی توبہ کریں،اور ترکہ کی تقسیم کو شرعی طریقہ کار کے مطابق جلد از جلد قابلِ عمل بنائیں اور اپنی آخرت خراب ہونے سے بچائیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 جمادی الاولٰی 1443 ھ/21 دسمبر 2021 ء