walid walida biwi teen betiyan
سوال
میرے بیٹے مبشر کا انتقال ہوگیا ہے، انکی وراثت کے حوالے سے تفصیل بتادیں۔ورثاء میں والد، والدہ، ایک بیوی، تین بیٹیاں، تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی قرآن و سنت کے حوالے سے ارشاد فرمائیں۔
سائل:والد مبشر :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو سب سے پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات، اگر کوئی قرض ہوتو اسکی ادائیگی پھر اگر مرحوم کی کوئی جائز وصیت ہو تو اسکے نفاذ کے بعد جو مال بچ جائے وہ ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کو 81 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔جس میں سے والد کو 12 حصے، والدہ کو 12 حصے ، انکی بیوی کو 9 حصے، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو الگ الگ 16 حصے ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے، قال اللہ تعالی :وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔
لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02ربیع الثانی 1442 ھ/18 نومبر 2020 ء