طلاق کی اجاززت ہے یا نہیں
    تاریخ: 28 جنوری، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 684

    سوال

    السلام و علیکم مفتی صاحب۔۔۔۔۔!

    مجھے آپ سے ایک شرعی مسئلہ پوچھنا تھا میرا نام نوید بھٹی ہے میری والدہ کا نام شمیم اختر ہے میرا 3 سال پہلے نکاح ہوا تھا لڑکی کا نام بشریٰ ہے اور لڑکی کی ماں کا نام نجم النسا ء ہے۔ مفتی صاحب میرا یہ مسئلہ ہے میرے نکاح کو 3 سال ہوگئے ہیں ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی لیکن میری جو بیوی ہے اسکو مجھ سے بہت سی شکایات ہیں اسکو میں پسند نہیں ہوں اسکو میری کم تنخواہ سے بھی بہت شکایت ہے اور وہ لڑکی بولتی ہے کہ مجھے کچھ نہیں بتایا گیا کہ میں کیا کماتا ہوں میری کتنی تنخواہ ہے۔ لڑکی کا کہنا ہے کے مجھے کچھ نہیں بتایا گیا لڑکے کے بارے میں مجھے کہا کے نکاح کرلو اور میں نے نکاح کر لیا لیکن اب لڑکی کے اتنے نخرے ہیں اسکو اب میری شکل نہیں پسند اسکو میری ذات کی ہر چیز سے شکایت ہے۔ مفتی صاحب۔۔۔۔! اسکے کےخیالات بہت ہائی ہیں میرا تو اپنا گھر بھی نہیں ہے میں ایک غریب آدمی ہوں میں اسکے اتنے نخرے برداشت نہیں کر سکتا ۔ مفتی صاحب میں نے بھی یہ نکاح اپنی والدہ کی رضا مندی پانے کے لئے کیا تھا۔ میں دِل سے رضا مند نہیں تھا یہاں والدہ کے پریشر میں آکر میں نے یہ نکاح کیا ہے میں تو پھر بھی راضی ہو گیا تھا اِس رشتے کو نبھانے کے تو آپ ہی مجھے بتائیں کہ کیا میں اسکو چھوڑسکتا ہوں؟ اسکے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے میں کوئی خدانخواستہ کوئی گناہ تو نہیں کر رہا دین کی روح سے میں کسی غلطی پر تو نہیں ہوں؟

    سائل: نوید بھٹی :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں سب سے پہلے دونوں طرف خاندانوں کے معزز لوگوں کو اس مسئلے میں شامل کیا جائے جو کہ افہام و تفہیم سے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کریں ، اگر مسئلہ حل ہوجائے تو بہتر ورنہ شریعت کے اعتبار سے آپ ان کو ایک طلاق دے سکتے ہیں ۔ چونکہ عورت غیر مدخول بہا(یعنی جس سے صحبت نہیں کی گئی )لہذا آپ اسکو ایک طلاق دے دیں ، پھر وہ آپ کے نکاح سے نکل جائے گی جس کے بعد وہ عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے اس پر عدت بھی نہیں ہے۔کیونکہ غیرمدخول بہا یعنی وہ عورت جسکا صرف نکاح ہوا ،اس سے صحبت نہ ہوئی کو یکبارگی تین طلاقیں دی جائیں یعنی یوں کہا کہ تجھے تین طلاق تو تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اب عورت بغیر حلالہ شرعی کے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ اور اگر تین طلاقیں متفرق طور پر دی جائیں یعنی یوں کہے تجھے طلاق،تجھے طلاق،تجھے طلاق ،اس صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور باقی دو لغو و بیکار ہوجائیں گی، کیونکہ غیر مدخول بہا عورت ایک طلاق سے ہی بائن ہوجاتی ہے اور باقی کا محل نہیں رہتی ۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:قَالَ لِزَوْجَتِهِ غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا وَقَعْنَ وَإِنْ فَرَّقَ بَانَتْ بِالْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ :ترجمہ: اپنی غیر مدخول بہا بیوی سے کہا تجھے تین طلاقیں تو تین ہی واقع ہونگی اور اگر تینوں جدا جدا کہی تو پہلی سے بائن ہوجائے گی اور دوسری واقع نہ ہوگی ۔

    اسکے تحت علامہ شامی رقمطراز ہیں : (قَوْلُهُ لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ) الْمُرَادُ بِهَا مَا بَعْدَ الْأُولَى، فَيَشْمَلُ الثَّالِثَةَ: ترجمہ: دوسری واقع نہ ہوگی سے مراد یہ ہے کہ پہلی کے بعد والی واقع نہ ہوگی پس اس میں تیسری بھی شامل ہے۔(رد المحتار علی الدر المختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق جلد 3ص 286 الشاملہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں: عورت غیر مدخولہ ہے اور اس نے تین طلاقیں بتفریق ذکر کی ہیں کہ طلاق ہے وطلاق ہے وطلاق ہے ایک ہی واقع ہوگی،اب بعد نکاح کے عورت پر صرف دو طلاقوں کا مالک رہے گا کہ ایک تو نکاح پیش میں پڑچکی اب اگر کبھی دو طلاقیں دے گا مغلظہ ہوجائے گی۔ملخصا(فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 13 ص 114 )

    دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے نکاح اور نئے حق مہر کے ساتھ رہ سکتے ہیں ۔بدائع الصنائع میں ہے :أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخر: ترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد ) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 شوال المکرم 1440 ھ/24 جون 2019 ء