طلاق کے نوٹس سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    Talaq ke notice se talaq hogi ya nahi

    تاریخ: 2 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 1748

    سوال

    ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق کا نوٹس بھجواتا ہے کہ میری طرف سے فلاں بنت فلاں کو طلاق اول کا نوٹس بھیج رہا ہوں کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور کیا عدت فورا شروع ہو جائے گی اسی ایک طلاق کے نوٹس سے عدت کےبعد کیا طلاق احسن ہو جائے گی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی ، کیونکہ طلاق انشاء کی قبیل سے ہے لہذا اس کے لئے ایسے الفاظ لازم ہیں جو انشاء طلاق پر دلالت کرتے ہوں جبکہ اس تحریر میں موجود الفاظ مفیدِ انشاء نہیں ہے ۔ بلکہ کسی بھی نوٹس سے مقصود ادارے کو یا بیوی کو اطلاعی خط بھیجنا ہوتا ہے، یہ طلاق دینے کا عمل نہیں بلکہ طلاق کی قانونی اطلاع یا ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔لہذاظاہر یہی ہے کہ یہ الفاظ محض ارادے کا اظہار ہےاور ارادہِ طلاق سے طلاق نہیں ہوتی۔

    طلاق کے الفاظ ایسے ہوں جو صراحتاً یا کنایۃً معنٰی طلاق پر دلالت کریں چناچہبدائع میں ہے: فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية۔ترجمہ:پس طلاق کا رکن وہ لٖط ہےجو لغتاًمعنٰی طلاق پر دلالت کرے اور وہ صریح طلاق میں تخلیہ ، ارسال، اور نکاح کی قید اٹھانا اور کنایہ میں تعلق ختم کرنا وغیرہ ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 3 ص 98)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    22 ربیع الثانی 1448ھ/ 05 اکتوبر 2026 ء کو جاری کیا گیا