nana ki dusri biwi se nikah ka hukm
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص عرفان احمد نے کی نانا کی وفات کے بعد اپنے نانا کی دوسری بیوی سے شادی کی جو کہ اس کی کزن تھی جس سے بچے بھی ہوئے کسی آدمی نے ان کو کہا کہ یہ نکاح ناجائز ہے، اس لئے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کردی گئی اب ان سوالوں کے دلائل کے ساتھ جواب دیکر عنداللہ مأجور ہوں۔
1: شرعا اس نکاح کا کیا حکم ہے۔
2: بچے کس کے شمار ہونگے ۔
3: اب عرفان احمد اس لڑکی کی چھوٹی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے شرعا یہ نکاح جائز ہے۔
سائل:شوال رضا:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: نانا کی بیوی سے نکاح ناجائز و حرام ہے ،کہ نانا اصول میں سے ہے اور اصول کی بیویاں فروع پر محض نکاح کرنے سےہی حرام ہوجاتی ہیں۔ لہذا اگر مذکورہ شخص نے اس نکاح کو حرام سمجھتے ہوئے کیا تو یہ فاسق ،گنہ گار،جفاکار و مستحق عذاب ہے،اس پر لازم ہے کہ فورا جدا ہوجائے اور اس نکاح کے باطل ہونے کا اعلان عام کرے اوراعلانیہ اللہ کی بارگاہ میں اس گناہ کی معافی مانگے۔اور اگر یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے نانا کی بیوی سے نکاح حرام کیا ہے، لیکن پھر بھی جائز سمجھ کر نکاح کرلیا،تو ایسی صورت میں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔اس پر لازم ہے کہ اس گناہ سے توبہ کرے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو۔
2: اگر لا علمی کے سبب نکاح کیا تھا تو اس نکاح سے جو اولاد ہوئی انکا نسب اسی عرفان احمد سے ثابت ہوگا۔
3: عرفان احمد کا مذکورہ عورت کی بہن سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ کوئی اور وجہِ حرمت نہ پائی جائے۔
دلائل و جزئیات:
وحليلة الأب والجد من قبل الأب والأم وإن علا حرام على الابن، قال تعالى: ﴿ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء إلا ما قد سلف﴾ [النساء: ٢٢]، وفي كل موضع يحرم بالعقد إنما يحرم بالعقد الصحيح دون الفاسد؛ لأن مطلق النكاح والزوجة والحليلة إنما ينطلق على الصحيح.
واسم الحليلة يتناول الزوجة والمملوكة۔
الاختيار لتعليل المختار – ابن مودود الموصلي (٣ / ٨٥)
(قال ولا بامرأة أبيه وأجداده) لقوله تعالى ﴿ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء﴾
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي – الكمال بن الهمام (٣ / ٢١٢)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02 ذوالحجہ 1447ھ/ 19 مئی 2026 ء