مناسخہ دو بطن حوالہ نمبر1252

    manasakha do batn hawala number 1252

    تاریخ: 8 جولائی، 2026
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 1596

    سوال

    میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے، انتقال کے وقت انکے ورثاء میں ایک بیوی(رضیہ بیگم) چاربیٹیاں(شبانہ، خورشید، کلثوم، غزالہ)اور چھ بیٹے ( شاہد، فاروق، اشرف، عرفان، کامران، عمران)ہیں ۔ بعد ازاں ایک بیٹی (شبانہ ) کا انتقال ہوگیا وہ لاولد تھی البتہ انکے شوہر(سعید خان) حیات ہیں۔، اب حال ہی میں چھ ماہ قبل والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے اب ہم صرف چھ بھائی اور تین بہنیں رہ گئے ہیں۔ وراثت کی شرعی تقسیم فرمادیں۔

    سائل:عمران : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 11520حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے۔

    کل حصے: 11520

    خورشید:747، کلثوم:747 غزالہ:747، شاہد:1494، فاروق:1494 ، اشرف:1494 عرفان:1494 کامران:1494 عمران:1494 سعید:315

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)

    اسی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 ربیع الثانی 1446ھ/ 28 اکتوبر 2024 ء