ناپاک پانی ری سائکل کرنا کیسا

    napak pani recycle karna kaisa

    تاریخ: 9 جولائی، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1600

    سوال

    برطانیہ (یوکے) سمیت کئی مغربی ممالک میں سیوریج (نالیوں اور بیت الخلاء وغیرہ) کا گندا پانی جدید سائنسی مشینوں کے ذریعے فلٹر اور صاف کرکے دوبارہ استعمال کے قابل بنا لیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض جگہوں پر یہی ری سائیکل شدہ پانی کھانے پینے یا کھیتوں کی آبپاشی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ

    1:اگر یہ پانی سائنسی عمل سے گزر کر بالکل صاف شفاف ہو جائے اور اس میں نجاست کے اثرات (رنگ، بو، ذائقہ) باقی نہ رہیں تو شرعاً کیا یہ پاک شمار ہوگا یا ناپاک؟

    2:کیا اس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے؟

    3:اگر یہی پانی پینے کے پانی میں شامل کر دیا جائے تو کیا اس کا استعمال (پینا، پکانا وغیرہ) شرعاً درست ہوگا؟

    براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں دلائل و حوالہ جات کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں۔

    سائل:عبداللہ :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہ بات قابلِ غور ہے کہ پانی یا کسی بھی مائع چیز میں اگر کوئی نجاست مل جائے تو آیا وہ نجاست اس پانی کی صفت (طہارت)کو ہمیشہ کے لئے ختم کردے گی اور وہ ہمیشہ ناپاک ہی رہے گا یا پھر اس نجاست کا پانی کے ساتھ لحوق عارضی ہے بایں طور کہ اگر اس نجاست کو کسی طرح زائل کردیا جائے تو پانی پاک ہوجائےگا۔ سو جب ہم کتبِ فقہ دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی خارجی نجس چیز پانی میں مل جائے اور اسے نجس و ناپاک کردے تو ایسا نہیں کہ اب اس پانی کے پاک ہونے کی کوئی صورت نہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہ پانی نجس و ناپاک ہوگیا بلکہ شریعت نے کئی ایک ایسے طریق متعارف کروائے ہیں کہ جنہیں استعمال کرنے سے نجس پانی پاک ، طاہر، قابلِ استعمال اور قابلِ وضو و غسل ہوجاتا ہے۔

    ذیل میں چند ایک طریقے ذکر کئے جارہے ہیں:

    پہلا طریقہ:اگر قلیل پانی نجاست گرنے کے سبب ناپاک ہوجائے ،اگر نجاست قابلِ روئت ہو تواولاً اسے نکالا جائے ، بعد ازاں اس پانی کو حقیقتاً جاری کردیا جائے ااس طور پہ کہ اسے جاری پانی میں شامل کردیں تو سارا پاک ہوجائے گا بشرطیکہ اسکے رنگ بو اور ذائقہ میں کوئی تغیر واقع نہ ہو۔اور جاری پانی وہ ہے کہ جو تنکے کو بہا لے جائے یا جسکی ایک طرف کو حرکت دیں تو دوسری طرف متحرک نہ ہو۔فقہاء نے اسکی مقدار دہ در دہ ہے مقدر فرمائی ہے۔

    دوسراطریقہ: یا اسے جاری پانی کے حکم میں کردیا جائے تو بھی پاک ہوجائے گا، مثلاً پانی کی ٹینکی میں کوئی چوہا وغیرہ گرکر مر جائے تو اولاً اسے نکالا جائے بعد ازاں اس ٹینکی میں پاک پانی ڈالتے جائیں حتیٰ کہ وہ بھر جائے اور پانی اس میں سے باہر نکل کر بہنے لگے، تو جب ایک طرف سے پانی داخل ہورہا ہو اور دوسری طرف سے خارج ہو جائے اور نجاست کا اثر مثلاً :بو وغیرہ زائل ہوجائے، وہ ٹینکی اور اس میں موجود پانی سب پاک ہوجائیں گے۔

    الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:والماء الراكد إذا وقعت فيه نجاسة لا يجوز به الوضوء إلا أن يكون عشرة (ف) أذرع في عشرة۔ ترجمہ: اور جب ٹھہرے پانی میں نجاست گر جائے تواس سے وضو جائز نہیں الا یہ کہ وہ دہ در دہ ہو۔( الاختیار لتعلیل المختار، جلد 1 ص 49)

    پانی جاری کردیا جائے تو پا ک ہوجاتا ہے، جیسا کہ در مختار میں ہے:ثم المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ وکذا البئر وحوض الحمام۔ ترجمہ:پھر مختار یہ ہے کہ ناپاک شے محض جاری ہونے سے پاک ہوجاتی ہے،اسی طرح کنواں اور حمام کا حوض بھی۔

    اس کے تحت علامہ شامی رد المحتا رمیں لکھتے ہیں:ای: بان یدخل من جانب ویخرج من آخر حال دخولہ وان قل الخارج ، بحر۔ ترجمہ:یوں کہ ایک جانب سے پانی داخل ہو اور اس کے داخل ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری جانب سے نکل بھی رہا ہو ، اگر چہ نکلنے والے پانی کی مقدار قلیل ہو، بحر۔(در مختار مع رد المحتار،ج1،ص195، دار الفکر، بیروت)

    سیدی اعلٰی حضرت اسکی علت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:علامہ ابن عبد البر ابن الشحنہ نے فرمایا:لانہ صار جاریاً حقیقۃً وبخروج بعضہ وقع الشک فی بقاء النجاسۃ فلا تبقی مع الشک۔ کیونکہ یہ حقیقتاً جاری ہوگیا اور بعض کے خروج سے بقیہ میں نجاست باقی رہنے میں شک واقع ہوگیا اور نجاست شک کے ساتھ باقی نہیں رہتی، بدائع میں ہے:وعلی ھذا حوض الحمام والاوانی اذا تنجس،اور اسی پر حوض اور برتنوں کی پاکی کا مسئلہ متفرع ہوگا اگر یہ نجس ہوجائیں۔(فتاوی رضویہ، ج4، ص384، رضا فاونڈیشن، لاھور)

    اسی میں ایک مقام پر فرماتے ہیں: پاک پانی کے ساتھ بہانے سے ناپاک پانی پاک ہوجاتا ہے۔(فتاوی رضویہ، ج2، ص121، رضا فاونڈیشن، لاھور)

    جاری ہونے کے ساتھ ساتھ نجاست کا اثر زائل ہونا بھی شرط ہے جیساکہ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی میں ہے:لأن الرائحة أثر النجاسة فلا طهارة مع بقائها إلا أن يشق۔ترجمہ:کیونکہ بو نجاست کا اثر ہے اس کے باقی ہونے سے طہارت حاصل نہیں ہوتی الا یہ کہ اس کے زائل ہونے میں مشقت ہو۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ،ص 14،دار الکتب العلمیہ)

    تبیین میں ہے: يجوز الوضوء من الماء الجاري إن لم ير أثر النجاسة فيه، ويجوز أن يعود إلى الماء الراكد الذي بلغ عشرا في عشر لأنه يجوز الوضوء به في موضع الوقوع ما لم يتغير في رواية، وهو المختار عندهم على ما بيناه من قبل۔ ترجمہ: جاری پانی سے وضو کرنا جائز ہے اگر اس میں نجاست کا اثر اس میں ظاہر نہ ہو، اور جائز ہے کہ ضمیر ماء راکد کی طرف لوٹے جو دہ در دہ ہوکیونکہ اس سے بھی وضو جائز ہے اگر چہ وہ جگہ ہو جہاں نجاست کا وقوع ہوا بشرطیکہ پانی کا کوئی وصف متغیر نہ ہوا ہو، اور فقہاء کے نزدیک یہی مختار ہے جیساکہ ہم نے پہلے بیان کیا ۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ، جلد 1 ص 23)

    البحر الرائق میں ہے: اعلم أن العلماء أجمعوا على أن الماء إذا تغير أحد أوصافه بالنجاسة لا تجوز الطهارة به قليلا كان الماء أو كثيرا جاريا كان أو غير جار هكذا نقل الإجماع في كتبنا، وممن نقله أيضا النووي في شرح المهذب عن جماعات من العلماء، وإن لم يتغير بها فاتفق عامة العلماء على أن القليل ينجس بها دون الكثير...(قوله: وهو طعم أو لون أو ريح) أي الأثر ما ذكر وحاصله أن الماء الجاري وما هو في حكمه إذا وقعت فيه نجاسة إن ظهر أثرها لا يجوز الوضوء به، وإلا جاز؛ لأن وجود الأثر دليل وجود النجاسة، فكل ما تيقنا فيه نجاسة أو غلب على ظننا ذلك لا يجوز الوضوء به جاريا كان أو غيره؛ لأن الماء الجاري لا يتنجس بوقوع النجاسة فيه كما قد يتوهم، وظاهر ما في المتون أن الجاري إذا وقعت فيه نجاسة يجوز الوضوء به إن لم ير أثرها سواء كان النجس جيفة مرئية أو غيرها۔ترجمہ: جان لو کہ علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب پانی کے کسی ایک وصف (یعنی رنگ، بو یا ذائقہ) میں نجاست کے سبب تبدیلی پیدا ہوجائے تو اس پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز نہیں ہوتا، خواہ وہ پانی قلیل ہو یا کثیر، جاری ہو یا راکد ہوا۔ یہی اجماع ہماری کتابوں میں منقول ہے، اور امام نوویؒ نے بھی "شرح المہذب" میں متعدد علما سے یہی نقل کیا ہے۔اور اگر نجاست کے سبب پانی میں کوئی تبدیلی ظاہر نہ ہو، تو جمہور علما کا اتفاق ہے کہ اگر پانی تھوڑا ہو تو وہ نجاست سے ناپاک ہوجاتا ہے، اور اگر زیادہ ہو تو ناپاک نہیں ہوتا، اور وہ یعنی "اثر" سے مراد یہی تین چیزیں ہیں: ذائقہ، رنگ یا بو۔ خلاصہ یہ ہے کہ جاری پانی یا وہ جو جاری کے حکم میں ہے اگر اس میں نجاست گر جائے اور اس کا اثر ظاہر ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں، اور اگر اثر ظاہر نہ ہو تو وضو جائز ہے۔کیونکہ اثر کا ظاہر ہونا نجاست کے موجود ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا ہر وہ پانی جس میں نجاست کا پایا جانا یقینی ہو، یا غالب گمان ہو، اس سے وضو جائز نہیں ،خواہ وہ جاری ہو یا نہ ہو۔کیونکہ جاری پانی صرف نجاست کے گرنے سے ناپاک نہیں ہوجاتا جیسا کہ بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں، بلکہ فقہی متون کے ظاہر الفاظ کے مطابق اگر جاری پانی میں نجاست گر جائے مگر اس کا اثر (رنگ، بو یا ذائقہ) ظاہر نہ ہو تو اس سے وضو جائز ہے، خواہ وہ نجاست کوئی نظر آنے والی مردار چیز ہو یا کوئی غیر مرئی نجس چیز۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق،كتاب الطهارت، الوضوء بالماء ولو خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه، ج:1، ص:78)

    تیسرا طریقہ: یہ طریقہ ناپاک پانی کو پاک کرنے کے لئے نہیں، بلکہ مستعمل پانی جو پاک (طاہر) ہوتا ہے لیکن پاک کرنے والا(مطہر) نہیں ہوتا،کو ماءِ مطلق بنانے کا ہے،اسے قابلِ وضو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ جتنی مقدار اس مستعمل پانی کی ہے غیر مستعمل طاہر و مطہر پانی جو اس مستعمل سے زائد ہو اس میں ملادیں تو اس طرح سارا پانی لائقِ وضو وغسل ہوجائے گا، مثلا پانی کی بالٹی میں بے وضو شخص نے بغیر دھوئے ہاتھ ڈال دیا تو سارا پانی مستعمل ہوگیا اب سے وضو جائز نہیں سو اگر اس میں ڈیڑھ یا دو بالٹیاں پاک غیر مستعمل پانی کی ملائیں تو کل کا کل قابلِ وضو ہوجائے گا۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اپنی مقدار سے زائد آب طاہر مطہر میں ملا دیا جائے سب قابلِ وضو ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے:غلبۃ المخالط لو مماثلا کمستعمل فبا لاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل والالا ۔ملنے والے پانی کا غلبہ اگر اسی کی مثل ہو جیسے مستعمل پانی تو اعتبار اجزاء(مقدار) کا ہوگا، اگر مطلق نصف سے زیادہ تو سب سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج2، ص121، رضا فاونڈیشن، لاھور)

    صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: پانی میں ہاتھ پڑگیایا اَور کسی طرح مستعمل ہو گیا اور یہ چاہیں کہ یہ کام کا ہو جائے تو اچھا پانی اس سے زِیادہ اس میں مِلادیں۔ (بہار شریعت ، جلد 1 ص 334 حصہ دوم )

    معلوم ہوا کہ مذکورہ طریقے اختیار کئےجائیں اور پانی سے نجاست کا اثر زائل ہو جائے تو بے شک وہ پانی طاہر و مطہر قرار پائے گا۔

    لہذا اب اگر ہم صورتِ ما نحن فیہ کو دیکھیں کہ جہاں جدید مشینوں کے ذریعےسیوریج کے پانی کو فلٹر اور صاف کرکے دوبارہ استعمال کے قابل بنا لیا جاتا ہےتو یہاں در اصل پانی صرف صاف ہوجاتا ہے پاک نہیں ہوتااورپانی کا صرف صاف نظر آنا کافی نہیں بلکہ شرعاً پاک ہونا ضروری ہے، کیونکہ صفائی اور پاکی میں فرق ہےکہ صفائی بظاہر میل کچیل کے ختم ہونے کا نام ہے، جبکہ پاکی ایک شرعی وصف ہے جو مخصوص اصولوں اور شرائط کے پورا ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر سیوریج کا پانی جدید مشینوں اور فلٹریشن کے مختلف مراحل سے گزار کر شفاف کر دیا جائے تو یہ محض ظاہری طور پر صاف ہو جاتا ہے لیکن اس کی شرعی حیثیت بدستور ناپاک ہی رہتی ہے۔ کیونکہ نجاست جب کسی مائع میں مکمل طور پر گھل جائے اور اس کے اجزاء کے ساتھ اس درجہ اختلاط و امتزاج پیدا کر لے کہ نجاست اور پانی کے اجزاء کو الگ الگ شناخت کرنا ممکن نہ رہے تو وہ پانی ناپاک ہی رہتا ہے۔ فلٹریشن، کیمیکل پراسیسنگ یا مشینی صفائی اگرچہ رنگ، بو اور ذائقہ کو ظاہری طور پر دور کر دیتی ہے، مگر اس سے شرعاً نجاست کا حکم ختم نہیں ہوتا کیونکہ اصل اجزاء اپنی جگہ باقی رہ جاتے ہیں۔لہذا محض جدید فلٹریشن ٹیکنالوجی کے ذریعہ حاصل شدہ شفافیت شریعت کے نزدیک پاکی کے قائم مقام نہیں بن سکتی۔ پس یہ ضروری ہے کہ پانی کی صفائی اور شرعی پاکی کے درمیان فرق کو واضح طور پر سمجھا جائے کہ شریعت میں پاکی کا مدار نجاست کے زوال پر ہے نہ کہ محض خوبصورتی یا شفافیت پر۔لہذااس پانی کو پاک کرنے کے لئے ضروری و لازم ہےکہ شریعت کے مقرر کردہ وہی طریقے ہی اختیار کئے جائیں جن کا ذکر اوپر ہوا، اور جب تک ان طریقوں کو اختیار نہ کیا جائے اس وقت تک یہ پانی ناپاک ہی رہے گااور جب یہ پانی ناپاک ہے تو نہ اس پانی سے وضو و غسل جائز اور نہ ہی کسی دوسرے استعمال مثلاً کھانے پینے میں لیا جاسکتا ہے۔

    شرح مختصر الطحاوی میں ہے: و الدلیل علی تحریم استعمال الماء الذي فیه جزء من النجاسة و إن لم یتغیر طعمه أو لونه أو رائحته، قول اللہ تعالی: {ویحرم علیهم الخبائث}، و النجاسات من الخبائث؛ لأنها محرمة۔ ترجمہ: اور اس پانی کے استعمال حرام ہونے کی دلیل کہ جس میں نجاست کا کوئی جزء موجود ہو، اگرچہ اس کا ذائقہ، رنگ یا بو تبدیل نہ ہوئی ہو، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اور وہ ان پر خبیث چیزوں کو حرام کرتا ہے، اور نجاسات خبائث میں سے ہیں کیونکہ وہ حرام ہیں۔(شرح مختصر الطحاوي، للإمام أبي بکر الرازي الجصاص، کتاب الطهارۃ، باب ماتکون به الطهارۃ، مسألة: أثر و قوع النجاسة في الماء القلیل و الکثیر، 1/239، ط: دار البشائر الإسلامیة، بیروت)

    بالخصوص اس لئے بھی کہ مذکورہ طریقوں کے ذریعے پانی کا پاک ہوجانا محض خلافِ قیاس ہی ہے کیونکہ جس صورت میں کل نجس پانی، جاری پانی میں ملادیا جائے تو اس صورت میں پانی کی طہارت کو عقل تسلیم نہیں کرتی کہ بہت ممکن کہ جب کوئی شخص اس سے وضو کرے تو اس جاری پانی میں موجود وہی خاص نجس پانی یا اسکے اجزاء اس کے جسم سے متصل ہوجائیں تو کیونکر طہارت حاصل ہوگی؟ ہاں مگر جب شریعت نے ضابطہ بیان فرمادیا کہ اس تدبیر و حیلہ سے کل کا کل پاک ہوگیا تو اب عقل کی کیا مجال کہ وہاں گھوڑے دوڑائے؟ لہذا جب ثابت ہوا کہ مذکورہ طرق سے پانی کی پاکی خلافِ قیاس ثابت ہےتو یہ بھی خوب معلوم ہونا چاہیے کہ جو شئے خلافِ عقل و قیاس ثابت ہو وہ اپنے مورد میں بند رہتی ہےجیساکہ نص سے ثابت ہے کہ قھقھہ رکوع و سجود والی نماز میں ناقضِ وضو ہے،لیکن نماز کے علاوہ قھقھہ ناقضِ وضو نہیں، بلکہ ایسی نماز جو رکوع و سجود والی نہ ہو جیسے جنازہ اس میں بھی ناقضِ وضو نہیں البتہ نماز ضرور فاسد ہوجائے گی۔جیساکہ ہدایہ میں ہے: والقهقهة في كل صلاة ذات ركوع وسجود " والقياس أنها لا تنقض ليس بخارج نجس لنا قوله عليه الصلاة والسلام: " ألا من ضحك منكم قهقهة فليعد الوضوء والصلاة جميعا " وبمثله يترك القياس والأثر ورد في صلاة مطلقة فيقتصر عليها۔ ترجمہ: اور رکوع و سجود والی ہر نماز میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اگرچہ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ قہقہہ وضو کو نہ توڑے کیونکہ اس میں نجاست کارج نہیں ہوتی، ہماری دلیل آپ ﷺ کا فرمان ہے ،فرمایا خبردار تم میں سے جو شخص نماز میں قہقہہ لگائے وہ اپنا وضو اور نماز دونوں دوبارہ کرے اور اسی نص حدیث کی بنا پر قیاس کو ترک کیا گیا ہے کیونکہ یہ اثر مطلق نماز کے بارے میں وارد ہوا ہے لہذا اسی پر مقتصر ہوگا۔ (ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، جلد 1 ص 18، فصل فی نواقض الوضوء)

    لہذا اب جو طریقے شرع شریف نے طہارتِ ماء کے بیان کئے ہیں محض وہی اختیار کرنے سے پاکی حاصل ہوگی وگرنہ نہیں۔البتہ اگر فلٹریشن کے عمل کے بعد اس پانی کو جاری کے حکم میں کردیا جائے بایں طور کہ اس کو کسی ٹینک یا ٹینکی میں ڈال کربعد ازاں اس میں پاک پانی بھرا جائے حتٰی کہ اس میں سے پانی چھلک جائے تو کل کا کل پاک اور ہر طرح کے استعمال کے قابل ہوجائے گا ۔بصورتِ دیگر ناپاک ہی رہے گا۔

    جدید مشینوں کے ذریعےسیوریج کے پانی کو فلٹر اور صاف کرنے پر استحالہ یا قلبِ ماہیت کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ استحالہ و قلبِ ماہیت میں زوال عین شرط ہے یعنی شئے کی ذات اور حقیقت بدل جائے تو استحالہ یا قلبِ ماہیت کا اطلاق درست ہے جیساکہ پاخانہ کو جلا کر راکھ بنا دیا جائے،شراب سرکہ بن جائے،گدھا و خنزیر وغیرہ نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے،شراب پانی میں گر ےپھر وہ سب سرکہ بن جائے تو یہ صورتیں استحالہ و قلب کی ہیں جبکہ مسئلہ مانحن فیہ میں پانی کی ذات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی کہ پہلے بھی پانی تھا اور اب بھی البتہ صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلے صاف نہیں تھا سیوریج و گندگی سے لبریز تھا اور بعد فلٹریشن کے صاف ستھرا ہوگیا سو یہ تو تبدیلیءِ وصف ہے نہ کہ تبدیلی ءِ ذات۔ آسان الفاظ میں کسی بھی شئے کا کام اور نام بدلنے سے وہ چیز بدل جاتی ہے اور بے شک نجس و ناپاک پانی کو پانی ہی کہا جاتا ہے نہ کہ کچھ ، اور یونہی فلٹریشن کے عمل کے بعد بھی اسے پانی سے ہی تعبیر کیا جارہا ہے، لہذا معلوم ہوا اس میں قلب کا قول نہیں کیاجاسکتا ۔

    انقلاب کی تعریف یہ ہے: "تحول ماهيتها إلى ماهية أخرى".ترجمہ: کسی چیز کی حقیقت کا دوسری حقیقت میں بدل جانا۔(معجم لغۃ الفقہاء،1/94،دار النفائس)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: "وقلب العین مغیرللحکم".ترجمہ: عین و ذات کا تبدیل ہونا حکم کو بدل دیتاہے۔ (جد الممتار علی رد المحتار،ج 2، ص240،مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22 ربیع الثانی 1447ھ/ 16 اکتوبر 2025 ء