talaq ke baad nikah ka hukm
سوال
میری ایک لڑکی سے عرصہ آٹھ سال سے دوستی ہے، جبکہ اسکی شادی کو چار سال ہوچکے ہیں، اسکے شوہر کو ہماری دوستی کے بارے میں سب معلوم تھا وہ لوگ ہمارے گھر آتے جاتے بھی تھے ۔ اب تین ماہ قبل ہماری باتوں کو لیکر انکے درمیان لڑائی ہوگئی ہے اور وہ اپنے گھر چلی گئی اور اب اس کے شوہر نے 10 دن پہلے طلاق دے دی ہے غلطی ہم دونوں کی ہے لیکن اب ہم شادی کرنا چاہتے ہیں تو کیا ہم شادی کرسکتے ہیں یا نہیں؟
سائل:عوسجا : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سب سے پہلے سائل اور عورت اس بات پہ توبہ کریں کہ نامحرم ہونے کے باوجود دونوں نے باہمی طور پر دوستی رکھی ، بے تکلف رہے، ملاقاتیں جاری رکھیں وغیرہ ذلک یہ سب ناجائز ، گناہ اور حرام ہے پھر جب اس بات کا علم عورت کے شوہر کو بھی تھا تو اسکی شرعی ذمہ داری تھی کہ اسے روکتا لہذا اس عمل پرشوہر راضی رہا تو وہ بھی برابر کا شریک ہے،اس پر بھی توبہ لازم ہے۔ مقامِ افسوس ہے آج کل کے مسلمانوں نے ان چیزوں کو معمولی سمجھ کر گناہ سمجھنا چھوڑ دیا ہے اصل سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ اتنے عرصہ تک نامحرم سے میل جول تعلقات آنا جانا رکھا اسکا کیا عذاب ہے ؟ کیا گناہ اور توبہ کا کیا طریقہ ہے مگر لوگوں کی دیدہ دہنی دیکھئے کہ سائل کی اس طرف توجہ بھی نہیں گئی کہ پوچھ لے میرا یہ عمل کیسا؟ واللہ یہ سخت عذاب و دخولِ نار کا قوی سبب ہے ان تمام لوگوں پر اس عمل کی وجہ سے صدق دل سے توبہ، آئندہ نہ کرنے کا عزم لازم و ضروری ہے۔
بہر کیف سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر واقعتاً ایسا ہوا ہے (جبکہ ہمیں نہ الفاظِ طلاق کا علم، نہ تعداد ِ طلاق کا علم ، نہ شوہر وبیوی کا بیان موجود)کہ شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی ہے تو فوراً اسکی عدت شروع ہوچکی، دورانِ عدت نکاح کرنا حرام ہے بلکہ نکاح کا پیغام تک جائز نہیں۔ بعد عدت کے اگر دونوں باہمی طور پر نکاح کرنا چاہیں تو حرج نہیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 ربیع الثانی 1446ھ/ 17 اکتوبر 2024 ء