میت کے گھر عورتوں کے ہجوم میں نامحرم کا آنا

    mayyat ke ghar aurton ke hujoom mein na-mehram ka aana

    تاریخ: 9 جولائی، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1599

    سوال

    اگر کسی علاقہ میں رواج ہو کہ میت کی چارپائی گھر سے اٹھاتے وقت مسجد کے امام کو بلایا جائے کہ آکر دعا کریں جبکہ میت کی چارپائی کے پاس غیر محرم عورتوں کا جم غفیر ہو ایسی صورت میں امام کا ان غیر محرم عورتوں کے درمیان کھڑے ہو کر دعا کرنا اور اجنبی آدمی کا غیر محرم عورتوں کے درمیان کھڑے ہو کر قصیدہ بردہ شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں ۔

    سائل: مسعود احمد نعمانی ع: امام مسجد غوثیہ بوہڑی والی نکودر گاؤں


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    میت کی چارپائی اٹھاتے وقت غیر محرم عورتوں کے ہجوم میں امام صاحب کا کھڑے ہو کر دعا کرنا یا کسی اجنبی شخص کا وہاں قصیدہ بردہ شریف پڑھنا شرعاً ناپسندیدہ ، فتنے، بد نظری اور بےپردگی کا سبب ہے۔شریعتِ مطہرہ نے نامحرم مرد و زن کے اختلاط سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ بالخصوص اس صورت میں بے پردگی کا زیادہ خوف ہوتا ہے کیونکہ میت کے گھر میں غم کی کیفیت کے باعث اکثر خواتین اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتیں اور شدتِ غم یا گریہ و زاری کی وجہ سے ان کے سروں سے دوپٹے ڈھلک جاتے ہیں اور وہ پردے کا شرعی لحاظ نہیں رکھ پاتیں۔ایسی حالت میں کسی بھی غیر محرم مرد، خواہ وہ امامِ مسجد ہی کیوں نہ ہو، اس کا عورتوں کے ہجوم میں جا کر کھڑا ہونا سخت ممنوع اور گناہ کا سبب ہے۔

    بلکہ امامِ مسجد کو چاہیے کہ وہ اس رواج کی اصلاح کریں اور اگر دعا کرنی ہی ہو تو ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں عورتوں کا ہجوم نہ ہو یا عورتیں وہاں سے ہٹ جائیں۔رواجِ عام کی خاطر احکامِ شرعیہ اور پردہ کے حدود کو پامال کرنا ہرگز جائز نہیں، لہذا اس طریقے سے گریز کرنا لازم ہے۔

    ارشاد باری تعالٰی ہے: وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ ۔ترجمہ: اور اپنی زینت عیاں نہ کریں۔ (پ18، سورۃالنور،آیت31)

    اسکے تحت تفسیر طبری میں ہے:ای ولا يُظهرن للناس الذين ليسوا لهن بمحرم زينتهنّ۔ترجمہ:یعنی عورتیں ان کے لئے اپنی زینت ظاہر نہ کریں جو انکے محرم نہیں ہیں۔(جامع البیان، جلد 11 ص 255)

    ترمذی میں ہے: عنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ۔ ترجمہ: تم عورتوں (نامحرموں) کے پاس جانے سے بچو۔(ترمذی ، حدیث نمبر : 1171)

    غیر محارم کےحق میں ان پانچ اعضاءچہرہ،دونوں ہاتھ پہنچوں سمیت ،اور دوونوں پاؤوں کا ظاہری حصہ کےعلاوہ عورت کا تمام بدن ستر (پردہ )ہے ۔ جیسا کہ علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وللحرة جمیعُ بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین علی المعتمد ترجمہ: معتمد قول کے مطابق آزاد عورت کے لیے سارے بدن کا چھپانا فرض ہے ،سوائے چہرے ،ہتھیلیوں اور دونوں پاؤں کے۔(الدر المختار جلد1 صفحہ 405 مطبوعہ : دار الفكر-بيروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: رمضان المبارک 1447ھ/ 14 مارچ2026 ء