Commission ki chand Soorton ka hukam
سوال
کیا اس طرح کمیشن پر لیپ ٹاپ سیل کرنا جائز ہے کہ کمیشن ایجنٹ لیپ ٹاپ کے مالک کو یہ کہے کہ میں آپ کے لیپ ٹاپ سیل کرواؤں گا ، آپ مجھے لیپ ٹاپ کی فائنل قیمت بتا دیں اور ہر لیپ ٹاپ پر آپ مجھے 2 ہزار روپیہ دیں گے، اور اگرجو آپ نے مجھے فائنل قیمت بتائی تھی اگر اس سے زیادہ کا میں نے سیل کر دیا تو وہ بھی کیں رکھوں گا ، اور اگر اس سے کم کاسیل کیا تو میں اپنی رضا اور خوشی سےتحفہ کے طور پر اپنا کمیشن کم کر دو گا ، تاکہ آپ کو بھی نقصان نا ہو۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بالجملہ یہاں تین صورتیں ہیں:
1: پہلی صورت یعنی لیپ ٹاپ بکوانے کی صورت میں ہر لیپ ٹاپ پرمتعین طور پر 2 ہزار روپیہ لینا جائز و حلال ہے کہ یہ کمیشن کی صورت ہے جس میں کمیشن کی مقدار بھی معلوم ہے لہذا اس میں کوئی قباحت نہیں کہ فی زمانہ کمیشن ایجنٹ بننا ،بنانا ایک مستقل پیشہ اختیار کرچکا ہے، اوراسے عرف عام کی سی حیثیت حاصل ہوچکی ہے لہذا اسکی اجرت جائز ہے ۔
2: دوسری صورت یعنی فائنل قیمت سے زائد میں بیچا تو فائنل قیمت سے زائد رقم اسی کمیشن ایجنٹ کی ہوگی، یہ صورت بھی عرف کی وجہ سے جائز ہے ، یہاں اگر چہ کمیشن کی مقدار مجہول ہے،لیکن یہ جہالت مفضی الی المنازعہ نہیں ہے بلکہ یہ جہالت، جہالتِ یسیرہ ہے جسے لوگ برداشت کرتے ہیں۔
اور اگر لیپ ٹاپ بکوانے پر اصل قیمت پر کمیشن طے کیا اور ساتھ یہ بھی صراحتاً کہہ دیا کہ اگر اس سے زیادہ قیمت پر بیچ دیا تو اوپر کی رقم بھی تمہاری ہوگی ، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے؛ کیونکہ اس میں کمیشن تو صراحت کے ساتھ معلوم و متعین ہے، جبکہ زائد رقم عقدِ اجارہ کا حصہ نہیں بلکہ انعام (تبَرُّع) کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا اس زائد نفع کی جہالت سے اصل عقدِ اجارہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
3:تیسری صورت یعنی اگر اس سے کم کاسیل کیا تو میں اپنی رضا اور خوشی سےتحفہ کے طور پر اپنا کمیشن کم کر دوں گا ،اس صورت میں اگر اپنی رضا و خوشی سے اپنا طے شدہ کمیشن کم کر دے یعنی اسی وقت یہ طے کرے کہ مثلاً آدھا کمیشن کم کردوں گاتو یہ شرعاً جائز ہے اور احسان کی صورت ہے، کیونکہ اپنا حق یا اجرت میں سے کچھ حصہ معاف یا کم کرنا جائز ہے اور اس سے عقد پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔
علامہ شامی شرح عقود رسم المفتی ص 13 پر فرماتے ہیں :والعرف فی الشرع لہ اعتبار ۔۔ ۔۔۔۔۔لذا علیہ الحکم قد یدارترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے۔۔۔۔۔۔ اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔
یوں ہی شامی میں ہے: قَالَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ: إجَارَةُ السِّمْسَارِ تَجُوزُ لِمَا كَانَ لِلنَّاسِ بِهِ حَاجَةٌ (ملخصا)ترجمہ: بزازیہ میں فرمایا کہ کمیشن کی فیس جائز ہے کیونکہ لوگوں کی اسکو حاجت ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار باب الاجارہ الفاسدۃ جلد 6ص 47)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب