طلاق کے باوجود شوہر گھر سے نہ جائے تو کیا حکم
    تاریخ: 29 جنوری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 686

    سوال

    میری شادی کو 26 سال کا عرصہ بیت گیا ہے ، میرے چار بچے ہیں جن کی عمر بالترتیب 25، 23، 22 اور 20 سال ہے ۔ دو سال پہلے میرے شوہر نے تین الفاظ کے ذریعے طلاق دے دی تھی '' میں نے تمہیں طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی'' یہ کہہ کر مجھے چھوڑ دیا۔ میرا کرائے کا گھر ہے طلاق کے باوجو د یہ شخص گھر چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں ہے ، میں 13 سال سے گارمنٹس میں جاب کرتی ہوں اور یہ میری کمائی کھاتا ہے اب تک بلکہ الٹا مجھے کہتا ہے کہ تم جاؤ گھر چھوڑکر۔ اس عرصہ میں میرا اور اسکا کوئی جسما نی تعلق نہیں ہے۔ برائے میری شرعی رہنمائی کریں تاکہ میں شرعی تقاضوں کے مطابق اپنے لئے کوئی فیصلہ کروں اور میرے بچوں کے باپ پر شرعی حجت قائم کر سکوں۔

    سائلہ: خدا کی بندی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تین طلاق کے بعد مرد و عورت کا باہمی طور پر ساتھ رہنا اور بے تکلفی اختیار کرنا ، ناجائز و حرام ہے، نیز مرد کا یہ رویہ اختیار کرنا کہ خودنہ کمانا ، اپنی سابقہ زوجہ کے گھر میں جبراً رہنا، اسکی کمائی کھانا اور اسے گھر چھوڑنے کا کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کہ شرع شریف میں موجودی بیوی کی کمائی کھانے سے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ ایسی کمائی عورت کی ملکیت ہوتی ہے، شوہر کو کسی طرح کا حقِ مالکانہ حاصل نہیں، نہ ہی بیوی کی اِجازت کے بغیر اس میں کسی قسم کے تَصَرُّف کی اجازت ہے۔اب طلاق کے بعد چونکہ اسکا بیوی پر کسی بھی طرح کا کوئی حق نہ رہا تو اب اس کے لئے بیوی کی کمائی اسکی اجازت کے بغیر کیونکر جائز ہوسکتی ہے ؟ یونہی اگر گھر کا کرایہ بھی سابقہ بیوی ہی ادا کرتی ہے تو اس کا اس گھر میں رہنا بھی ناجائز ہے اولاً تو اس لئے کہ یہ دونوں اب ایک دوسرے کے لئے اجنبی کی مثل ہیں عورت پر اس مرد سے پردہ لازم ہے اور ایک گھر میں رہتے ہوئے یہ ممکن نہیں۔ ثانیاً جب کرایہ عورت ادا کرتی ہے تو مرد کسی بھی حیثیت سے اس گھر میں نہیں رہ سکتا ہے بالخصوص اس صورت میں جب عورت بالکل راضی نہ ہو۔ لہذا اس پر لازم ہے اپنی رہائش، اپنے قیام و طعام کا خود انتظام کرے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 ذوالحج 1443 ھ/26 جولائی 2022 ء