باپ کی دکان میں بیٹے کا حصہ
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1053

    سوال

    ہماری میڈیسن کی دکان ہے، جوکہ ہمارے والد صاحب کی تھی ۔ جب والد صاحب بیمار ہوئےتو دکان کا سارا بوجھ میں نے (بڑا بیٹا ) نے سنبھالا ، اب میری سروس کو 34 سال ہوگئے ہیں اس 34 سالہ سروس کے دوران دکان کو ترقی دینا دکان کی ساری بھاگ دوڑ اسی طرح والدین کی بیماری ،زمین وغیرہ خریدنا اور اسکے ساتھ ساتھ بہنوں ں بھائیوں کی تعلیم کرنا سب میں نے ہی کیا ۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں 5 بینک اکاونٹس بنائے ۔ ان میں ایک بینک اکاونٹ میرے نام پر کیا اور ساتھ میں اپنا نام جوائنٹ کیا تھا لیکن والد نے وفات تک ان اکاونٹس کے بارے میں ہمیں کچھ بھی نہیں بتایا ۔ ہمیں بھی پتہ نہیں تھا والد صاحب کی وفات کے بعد ہمیں ان سارے اکاونٹس کے بارے معلوم ہوا۔ 2013 میں میرا چھوٹا بھائی بھی اس دوکان پر ڈیوٹی پر لگ گیا صرف برائے نام ڈیوٹی کر رہا ہے، میرا 100 فیصد یقین ہے کہ والد نے اکاؤنٹ میں میرا نام اس لئے اپنے نام کیساتھ لگایا ۔کیونکہ میں نے 34 سال اس ڈیوٹی کیا ہے ۔ میں نے تعلیم وغیرہ سب داؤ پر لگائی تو شاید اسی لئے والد صاحب نے اکاؤنٹ میں میرا نام ڈلوایا تاکہ یہ میری تنخواہ ہوگی، میں نے والدصاحب کی زندگی میں دوکان سے بطورِ تنخواہ ایک روپیہ بھی نہیں لیا،البتہ اخراجات والد صاحب دیتے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ دیگر اکاؤنٹس اور اس جوائنٹ اکاؤنٹ کی رقم صرف میری یا سب کی ؟ اگر سب کی تو اسکی تقسیم کیسے ہوگی ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    ورثاء کی تفصیل : ورثاء میں ایک بیوی، دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔

    سائل: عبداللہ گل: مالا کنڈ دُرگئی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    واضح ہے کہ جب والد نے زندگی میں کبھی اس بڑے بیٹے کو اس رقم کے بارے میں یہ نہ کہا کہ یہ رقم تیری ہے اور نہ رقم اسکے حوالے کی تو محض خود سے سمجھ لینے سے یہ بھائی اس رقم کا مستحق نہیں ہوگا بلکہ تمام اکاؤنٹس کی تمام تر رقم اور اگر اسکے علاوہ کوئی جائیداد ہو تو وہ بھی شریعت کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق تمام ورثاء کے مابین انکے حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔

    تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل مالِ وراثت (تمام اکاؤنٹس کی رقم اور اسکے علاوہ اگر کوئی جائیداد وغیرہ ہے تو سب ) کو 8حصص میں تقسیم کیا جائے گا۔ جس میں سے بیوی کو 01 حصہ ہر بیٹے کو الگ الگ 02 حصے اور ہر بیٹی کو الگ الگ 01 حصہ ملے گا۔

    المسئلہ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ :8

    مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی

    8/1 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

    1 7

    1 2 2 1 1 1


    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    نوٹ: رقم کی صورت میں تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت(تمام اکاؤنٹس کی رقم اور جائیداد وغیرہ ) کی مارکیٹ ویلیو لگواکر کل رقم کو مبلغ یعنی08پرتقسیم کردیں جو جواب آئےاسکو محفوظ کرلیں پھر اس محفوظ عدد کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    ازالہ وہم:

    اگر جوائنٹ اکاؤنٹ میں موجود رقم کا تقاضا اس لئے ہے کہ بڑے بیٹے کا والد کی زندگی سے ہی 34 سال تک دکان چلاتا رہا سو اس اعتبار سے وہ خود کو شریک کے درجے میں رکھتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بیٹا باپ کا شریک نہیں کیونکہ بیٹے نے اپنے والد کو مال و پیسے نہیں دیئے اور نہ ہی ان کے مابین باہمی طور پر کسی قسم کا کوئی عقد شرکت ہوا ہاں بیٹے نے محنت و مشقت کرکے اس کاروبار میں کو وسعت دی ، تو ایسی صورتحال میں اسکا اس مذکورہ کاروبار میں کام کرنا شرعاً بطورِ تبرع قرار پائے گااور مالِ وراثت سے صرف اس قدر حصہ پائے گا جتنا شریعت نے وارث ہونے کی حیثیت سے مقرر فرمایا اس سےزائد کا تقاضا جائز نہیں ہے۔

    کیونکہ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ والد اپنے کاروبار میں بڑے بیٹے کو ساتھ رکھتا ہے، بڑے بیٹے کو اپنے کاروبار میں کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔ اور والد اس کو اجیر یا شریک یا معاون کے طور پر شامل نہیں کرتا، اور کاروبار جاری رہتا ہے۔ حتٰی کہ والد کی وفات ہوجاتی ہے ، تو اس صورت میں والد کی وفات کے بعد، ترکہ کی تقسیم کے وقت دیکھا جائے گاکہ بیٹا والد کی کفالت میں تھا یا نہیں۔؟ اگر بیٹا والد کی کفالت اور اس کی پرورش میں تھا (جیساکہ صورتِ مستفسرہ میں ہے) اور والد ہی اس کے اخراجات برداشت کرتا تھا، تو بیٹے کو والد کا معاون قرار دیا جائے گا اور اسکے ترکہ کو تمام اولاد میں فرائض کے اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔ بڑے بیٹے کو یہ حق نہیں کہ کہے میں نے کاروبار کو سنبھالا چلایا ، اس لئے میں زیادہ حصہ کا حق دار ہوں۔

    شامی، خیریہ و ہندیہ میں ہے: واللفظ لہ: أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له۔ترجمہ: باپ اور بیٹا ایک ہی کام کررہے تھے اور دونوں کا مال الگ الگ نہ تھاتوساری کمائی باپ کی ہوگی جبکہ بیٹا اسکی عیال سے ہو کیونکہ وہ اسکا معاون ہے۔(ہندیہ، ج2 ص 329۔شامی،ج4 ص 325۔ خیریہ ،ج 2 ص 108 )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: جمادی الثانی 1445ھ/ 08 جنوری 2024 ء