بیٹا اور بیٹی کے احوال
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1052

    سوال

    1: والد کے ترکے میں بیٹا اور بیٹی کا کیا حصہ ہے؟

    2: مکان کے علاوہ ہر چیز ترکےمیں شامل ہےجیسا کہ گھرکے برتن اور موٹر سائیکل وغیرہ ۔

    3:چار سال پہلے والدہ کا انتقال ہوا ہے جس میں انہوں نے کچھ مالیت کے زیور اور نقدی چھوڑی ہے یہ سب مال انہوں نے اپنی بیٹی کے پاس رکھوادیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سب سے چھوٹے والے بیٹے کے لئے ہےتو کیا یہ سارا مال جو والدہ کی ملکیت میں ہے سب چھوٹے بیتے کا ہوا؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:عبد اللہ: شاہ فیصل ٹاؤن


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:جائیداد میں حصہ ملنے کے اعتبار سے بیٹی کی تین حالتیں ہیں،ان تین میں سے ایک حالت بیٹے اور بیٹی میں مشترک ہے اور یہی بیٹے کے حصے کی تفصیل ہے :

    1:اگر ورثاء میں بیٹی ایک ہی ہو تو اسکو والد کے ترکہ سے آدھا ملے گا ، یعنی کل جائیداد کے دو حصے کریں گے جس میں سے ایک حصہ بیٹی کو ملے گا۔

    2:اگر دو یا دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو انکو ودثلث یعنی 2/3 ملے گا یعنی کل جائیداد کے تین حصے کیے جائیں گے اس میں سے دو حصے بیٹیوں میں تقسیم کیے جائیں گے ۔

    3:اگر بیٹیوں کے ساتھ بیٹے بھی ہوں تو اب تقسیم للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت ہوگی۔ یعنی ہر بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملے گا۔ قال اللہ تعالیٰيُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)

    نوٹ :یہ حصے صرف بیٹی اور بیٹے کو مد نظر رکھتے ہوئے اور دیگر ورثاء مثلا میت کی اولاد لڑکے اسکی بیوی اسکی ماں وغیرہم سے قطع نظر کرکے بیان کیے گئے ہیں ، جسکا انتقال ہوا اگر اسکےدیگر ورثاء ہوں تو ان تمام کے حصے معلوم کرنے کے لیے دار الافتاء تشریف لائیں ۔

    2:ہر اس مال میں وراثت تقسیم ہوگی جو میت کی ترکہ میں ہو۔اب چاہیں میت کی ترکہ میں گاڑیاں ہوں یا مکان وغیرہ وغیرہ۔ترکہ سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام مال جو بوقت وصال میت کی ملکیت میں ہو۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه۔ ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔

    3:وہ مال جو والدہ نے بیٹی کے پاس رکھواکر کہا تھا کہ یہ سارا مال چھوٹے بیٹے کا ہے اس مال میں بھی وراثت تقسیم ہوگی ۔ محض زبانی کہہ دینے سے اس بیٹے کے لئے ملکیت ثابت نہیں ہوگی ۔کیونکہ یہ ہبہ ہے اور ہبہ تام ہونے کے لئے قبضہ شرط ہے،بلاقبضہ ھبہ تام نہیں ہوتا۔

    تنویرالابصار میں ہے: وَشَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 )

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07 ربیع الثانی 1441 ھ/05 دسمبر2019 ء