بیٹوں کی ملکیت والد کا ترکہ نہیں ہے؟
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1055

    سوال

    ایک شخص کا انتقال ہوا۔ ورثاء میں ایک زوجہ، ایک بیٹی اور آٹھ بیٹے ہیں۔ ترکہ کی تقسیم کا معاملہ آٹھ سال بعد ہوا۔مرحوم نے زندگی میں بیٹوں کو کچھ رقم مالکانہ حقوق کے ساتھ دی تھی ۔ کہ اس سے وہ اپنا کاروبار کریں ۔ بیٹوں نے اس رقم سے کاروبارکیا۔ اب ترکہ میں ان بیٹیوں کی ملکیت کو بھی شامل کیا گیا ہے اورجواز یہ بتایا جارہا ہے چونکہ کاروبار کے لئے رقم والد نے دی تھی اس لئے یہ سب والد کی ملکیت ہے۔اور تقسیم اس طرح کی گئی کہ کل جائیداد بشمول بیٹوں کی ملکیت کو 9 حصوں میں تقسیم کی گیا ہر بیٹے اور بیٹی کو ایک حصہ دیا گیا ہے۔ اور زوجہ کو حصہ نہیں دیا گیا۔

    اس تناظر میں درج ذیل سوالات ہیں :

    1: مرحوم کےترکہ میں بیٹوں کا کاروبار وغیرہ جسکی رقم والد نے بقید حیات دی تھی وہ بھی شامل ہوگا یا نہیں؟

    2: کیا یہ تقسیم شرعا درست ہے ؟

    سائل:عبداللہ: وڈھ خضدار


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو حکم شرع یہ ہے کہ اگروالد نے زندگی میں رقم بیٹوں کو دے کر انکی ملک کردی تھی توبیٹوں کےاثاثہ جات کووالد کے ترکہ میں شامل نہیں کیاجائےگا۔

    کیونکہ زندگی میں کسی کورقم وغیرہ بطورِ ملک دیناھبہ(گفٹ)کی قبیل سےہےاورھبہ میں بعدقبضہ کامل کےموھوب لہ (جسکو ھبہ کیا)کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔

    اور اس لئے بھی کہ اگر بیٹے نے اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا والد کی پیشہ سے سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیااور مال کمایا تو وہ تمام اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے، اس میں والد کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔

    ھبہ میں قبضہ کے بعد موھوب کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے اس سلسلے میں تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    بیٹے اگر ذاتی مال سے کچھ کمائیں تو وہ خاص انکا ہی ہے جیساکہ خیریہ وعقود میں ہے :سئل فی ابن کبیرذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ھل ھی لوالدہ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل، واما قول علمائنا یکون کلہ للاب فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحدمنھا لایکون کسب الابن للاب ملخصاً۔ترجمہ: ایسے جوان شادی شدہ عیالدار بیٹے جس کا اپنا مستقل کاروبار ہے اور کاروبار میں اموال حاصل ہوئے، کے متعلق سوال ہوا کہ کیا یہ اموال اس بیٹے کی ملک ہوں گے یا والد کے ہوں گے، جواب دیا کہ بیٹے کی ملک ہیں جبکہ یہ بیٹے کا اپنا مستقل کاروبار ہے۔ہمارے علماء کرام کا یہ ارشاد کہ وہ تمام والد کا ہے ان کا یہ ارشاد چند شرطوں سے مشروط ہے جیسا کہ ان کی عبارات سے معلوم ہے ان شرائط میں سے بعض یہ ہیں کہ باپ بیٹے کاکام ایک ہو، بیٹے کا پہلے سے اپنا مال نہ ہو، بیٹا باپ کے عیال میں شامل ہو تو ان شرائط میں سے جب کوئی شرط مفقود ہوتو بیٹے کی کمائی والد کے لئے نہ ہوگی، ملخصا۔ (العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ، جلد 2 ص 17 حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان )

    علامہ شامی ،علامہ بیری شارح اشباہ والنظائر سے نقل فرماتے ہیں :فی خزانۃ الفتاوٰی اذا دفع لابنہ مالا فتصرف فیہ الا بن یکون للاب الا ان دلت دلالۃ التملیک۔ترجمہ:خزانۃ الفتاوٰی میں ہے اگر کسی نے بیٹے کومال دیا اور بیٹے نے اس میں تصرف کیا تو یہ مال باپ کا ہوگا الایہ کہ کوئی دلالت تملیک پر پائی جائے۔(ردالمحتار مع الدرالمختار کتاب الھبۃ جلد 5 ص 688 داراحیاء التراث العربی بیروت )

    اسکو نقل کرنے کے بعد علامہ شامی فرماتے ہیں:قلت فقد اذادان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک ۔ ترجمہ:میں کہتاہوں کہ اس عبارت نے فائدہ دیا کہ اس میں ایجاب وقبول شر ط نہیں بلکہ تملیک پر دلالت کرنے والے قرائن کافی ہوتے ہیں۔(ایضا المرجع السابق)

    2: مذکورہ تقسیم درست نہیں ہے کہ یہ شرعی تقسیم نہیں ہے۔بلکہ اللہ و رسول کے مقرر کردہ اصولوں کے خلاف ہے اور بیوہ کو نہ دینا اور زیادہ ظلم اور قبیح عمل ہے۔ شرعا تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کی ملکیت میں جو کچھ ہے اسکو 136 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے بیوی کو 17 حصہ ہر بیٹے کو الگ الگ 14حصے اور بیٹی کو سات حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے :بیویوںکے بارے میں ارشاد ہے۔ قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    السراجی فی المیراث ص18 میں ہے:اما للزوجات الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد او ولد الابن والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل۔ترجمہ: ایک بیوی ہو یا ایک سے زائد اولاد نہ ہونے کی صورت میں اسکا (زوج کی وراثت سے )چوتھا حصہ ہے، اور بیٹا، بیٹی یا پوتا پوتی کی موجودگی میں زوجہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔

    قال اللہ تعالیٰ:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    نوٹ:وراثت کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 136 پر تقسیم کرلیا جائے ۔ جو جواب آئے وہ ہر وارث کا حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 شوال المکرم 1441 ھ/01جون 2020 ء